🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب في كسب الحجام
باب: سینگی (پچھنا) لگانے والے کی اجرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3421
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ قَارِظٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی (پچھنا) لگانے والے کی کمائی بری (غیر شریفانہ) ہے ۱؎ کتے کی قیمت ناپاک ہے اور زانیہ عورت کی کمائی ناپاک (یعنی حرام) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3421]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی لگانے والے کی کمائی ناپسندیدہ ہے، کتے کی قیمت خبیث ہے اور بدکار عورت کی خرچی خبیث ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساقاة 9 (1568)، سنن الترمذی/البیوع 46 (1275)، سنن النسائی/الذبائح 15 (4299)، (تحفة الأشراف: 3555)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/464، 465، 4/141) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «كسب الحجام خبيث» میں «خبيث» کا لفظ حرام ہونے کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ گھٹیا اور غیر شریفانہ ہونے کے معنی میں ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والی حدیث نمبر: (۳۴۲۲) میں محیصہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ پچھنا لگانے کی اجرت سے اپنے اونٹ اور غلام کو فائدہ پہنچاؤ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود پچھنا لگوایا اور لگانے والے کو اس کی اجرت بھی دی، پس پچھنا لگانے والے کی کمائی کے متعلق «خبيث» کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے «ثوم وبصل» (لہسن، پیاز) کو «خبيث» کہا باوجود یہ کہ ان دونوں کا استعمال حرام نہیں ہے، اسی طرح حجام کی کمائی بھی حرام نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ غیر شریفانہ ہے۔ 
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1568)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رافع بن خديج الأنصاري، أبو رافع، أبو خديج، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥السائب بن يزيد الكندي، أبو يزيد
Newالسائب بن يزيد الكندي ← رافع بن خديج الأنصاري
صحابي صغير
👤←👥إبراهيم بن عبد الله الكناني
Newإبراهيم بن عبد الله الكناني ← السائب بن يزيد الكندي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← إبراهيم بن عبد الله الكناني
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد
Newأبان بن يزيد العطار ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← أبان بن يزيد العطار
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4299
شر الكسب مهر البغي ثمن الكلب كسب الحجام
صحيح مسلم
4011
شر الكسب مهر البغي ثمن الكلب كسب الحجام
صحيح مسلم
4012
ثمن الكلب خبيث مهر البغي خبيث كسب الحجام خبيث
جامع الترمذي
1275
كسب الحجام خبيث مهر البغي خبيث ثمن الكلب خبيث
سنن أبي داود
3421
كسب الحجام خبيث ثمن الكلب خبيث مهر البغي خبيث
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3421 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3421
فوائد ومسائل:

اس باب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ منقول ہے۔
کہ پچھنے لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔
اسی طرح یہ بھی منقول ہے۔
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوا کر لگانے والے کو ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا۔
یہ بھی ہے کہ حضرت ابن محیصہ کے دادا نے ایسی کمائی کے بارے میں مسلسل سوال کیا تو آپ نے انھیں اس طرح کی کمائی اونٹ یا غلام کو کھلانے کی اجازت دی۔
پچھنے لگانے میں چونکہ ایک صورت یہ ہوتی تھی۔
کہ منہ سے مریض کا خون چوسا جاتا تھا۔
لہذا اس نسبت سے اسے خبیت یعنی نا پسندیدہ کہا گیا ہے۔
ورنہ یہ مطلقاً حرام نہیں۔
ایسا ہوتا تو آپ پچھنا لگانے والے کو خود عطا کرتے۔
نہ ایسی کمائی اونٹ یا غلام کو کھلانے ہی کی اجازت دیتے۔
یہ امکان بھی ہے۔
یہ امکان بھی ہے کہ پچھنے لگانے والے جسم سے نکلا ہوا خون فروخت کردیتے تھے۔
(نیل الأوطار: 321/5)

کتا چونکہ حرام جانور ہے۔
اس لئے اس کی خریدوفروخت بھی حرام ہے۔
البتہ بعض لوگ شکاری کتا (کلب معلم) خریدنے کی اجازت دیتے ہیں۔


زنا کاری سے حاصل شدہ آمدنی کےحرام ہونے کیا شک ہوسکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3421]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4299
کتے کی قیمت لینے کی ممانعت کا بیان۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بری کمائی زانیہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت، اور پچھنا لگانے کی اجرت ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4299]
اردو حاشہ:
حجام اس دور میں سنگی لگانے والے کو حجام کہتے تھے۔ چونکہ سنگی لگانے والے کو گندا خون چوسنا پڑتا ہے، اس لیے آپ نے اس پیشے کو کمائی کے لیے مناسب خیال نہیں فرمایا، کمائی کے لیے کوئی اچھا پیشہ اختیار کیا جائے۔ ہاں، ہمدردی کے طور پر سنگی لگائے تو مفت لگائے تاکہ ثواب حاصل ہو۔ جمہور اہل علم کے نزدیک حجام کی اجرت مکروہ تنزیہی ہے، حرام نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سنگی لگانے والے کو اجرت دی ہے۔ اگر حرام ہوتی تو آپ نہ دیتے۔ کسی مسئلے کا فیصلہ کرتے وقت متعلقہ تمام روایات کو دیکھنا ضروری ہے نہ کسی ایک کو دیکھ کر حکم لگانا درست ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4299]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1275
کتے کی قیمت کا بیان۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والے کی کمائی خبیث (گھٹیا) ہے ۱؎ زانیہ کی اجرت ناپاک ۲؎ ہے اور کتے کی قیمت ناپاک ہے ۳؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1275]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
«كسب الحجام خبيث»  میں خبیث کا لفظ حرام ہونے کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ گھٹیا اورغیرشریفانہ ہونے کے معنی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ کویہ حکم دیا کہ پچھنا لگانے کی اجرت سے اپنے اونٹ اورغلام کوفائدہ پہنچاؤ،
نیز آپ نے خود پچھنا لگوایا اور لگانے والے کواس کی اجرت بھی دی،
لہٰذا پچھنا لگانے والے کی کمائی کے متعلق خبیث کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے لہسن اور پیاز کو خبیث کہا باوجودیکہ ان دونوں کا استعمال حرام نہیں ہے،
اسی طرح حجام کی کمائی بھی حرام نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ غیرشریفانہ ہے۔
یہاں خبیث بمعنی حرام ہے۔

2؎:
چونکہ زنا فحش اموراورکبیرہ گناہوں میں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اورحرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد ہو۔

3؎:
کتا چونکہ نجس اورناپاک جانورہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی،
اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کوجس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کاحکم دیا ہے جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے،
اسی سبب کتے کی خریدوفروخت اوراس سے فائدہ اٹھانا منع ہے،
الا یہ کہ کسی شدید ضرورت سے ہو مثلاً گھر جائیداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔
پھر بھی قیمت لینا گھٹیا کام ہے،
ہدیہ کردینا چاہیے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1275]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4011
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدترین کمائی فاحشہ کی اجرت، کتے کی قیمت اور سینگی لگانے والے کی اجرت ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4011]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سینگی لگانے کی اجرت لینا اور اس کو پیشہ بنانا،
پسندیدہ کام نہیں ہے،
اگلی حدیث میں اس کو خبیث سے تعبیر کیا گیا ہے،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
کسی شریف اور باوقار کو یہ پیشہ اختیار نہیں کرنا چاہیے،
بعض حضرات نے اس حدیث کی بناء پر،
اس کو حرام قرار دیا ہے،
لیکن آگے اس سلسلہ میں ایک مستقل باب آ رہا ہے،
اس کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے،
اس کی اجرت لینا حرام نہیں ہے،
جمہور علماء،
جن میں ائمہ اربعہ بھی داخل ہیں،
انہیں احادیث کی بنا پر اس کے جواز کے قائل ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4011]

Sunan Abi Dawud Hadith 3421 in Urdu