🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب في خيار المتبايعين
باب: بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3457
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ، قَالَ: غَزَوْنَا غَزْوَةً لَنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا بِغُلَامٍ، ثُمَّ أَقَامَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا، فَلَمَّا أَصْبَحَا مِنَ الْغَدِ حَضَرَ الرَّحِيلُ، فَقَامَ إِلَى فَرَسِهِ يُسْرِجُهُ، فَنَدِمَ فَأَتَى الرَّجُلَ وَأَخَذَهُ بِالْبَيْعِ، فَأَبَى الرَّجُلُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَبُو بَرْزَةَ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيَا أَبَا بَرْزَةَ فِي نَاحِيَةِ الْعَسْكَرِ، فَقَالَا: لَهُ هَذِهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا"، قَالَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ: حَدَّثَ جَمِيلٌ، أَنَّهُ قَالَ: مَا أَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا.
ابوالوضی کہتے ہیں ہم نے ایک جنگ لڑی ایک جگہ قیام کیا تو ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے بدلے ایک گھوڑا بیچا، اور معاملہ کے وقت سے لے کر پورا دن اور پوری رات دونوں وہیں رہے، پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی اور کوچ کا وقت آیا، تو وہ (بیچنے والا) اٹھا اور (اپنے) گھوڑے پر زین کسنے لگا اسے بیچنے پر شرمندگی ہوئی (زین کس کر اس نے واپس لے لینے کا ارادہ کر لیا) وہ مشتری کے پاس آیا اور اسے بیع کو فسخ کرنے کے لیے پکڑا تو خریدنے والے نے گھوڑا لوٹانے سے انکار کر دیا، پھر اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوبرزہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں (وہ جو فیصلہ کر دیں ہم مان لیں گے) وہ دونوں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت ابوبرزہ لشکر کے ایک جانب (پڑاؤ) میں تھے، ان دونوں نے ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: دونوں خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک بیع فسخ کر دینے کا اختیار ہے، جب تک کہ وہ دونوں (ایک مجلس سے) جدا ہو کر ادھر ادھر نہ ہو جائیں۔ ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ جمیل نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ تم دونوں جدا نہیں ہوئے ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3457]
جناب ابوالوضی سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوے میں گئے تو ہم نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا۔ ہمارے ایک ساتھی نے دوسرے کو غلام کے بدلے میں اپنا گھوڑا بیچا، پھر وہ دونوں باقی دن اور رات اکٹھے ہی رہے۔ جب اگلا دن ہوا اور کوچ کا وقت آ گیا تو گھوڑے کا خریدار اپنے گھوڑے کی طرف اٹھا اور زین رکھ کر اسے تیار کرنے لگا تو بیچنے والے کو اپنے سودے پر ندامت ہوئی اور اس کے پاس آیا اور سودا منسوخ کرنے کی بات کرنے لگا، لیکن گھوڑا لینے والے نے واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ تو اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان (حکم) سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ چنانچہ وہ دونوں لشکر کی ایک طرف سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور قصہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا: کیا تم راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان وہ فیصلہ کر دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: دو سودا کرنے والے جب تک علیحدہ علیحدہ نہ ہو جائیں (سودا منسوخ کرنے کا) انہیں اختیار رہتا ہے۔ہشام بن حسان نے کہا کہ جمیل (جمیل بن مرہ) نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ تم جدا جدا ہوئے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/التجارات 17 (2182)، (تحفة الأشراف: 11599)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/425) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: چونکہ یہ دونوں اسی جگہ ٹھہرے رہے جہاں آپس میں خرید وفروخت کا معاملہ ہوا تھا اور ایجاب و قبول کے بعد دونوں جسمانی طور پر جدا نہیں ہوئے بلکہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اپنا معاملہ بھی ایک ساتھ ہو کر لائے اسی لئے انہوں نے بیچنے والے کے حق میں فیصلہ دیا، اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے قول «ما لم يتفرقا» کو «تفرق بالأبدان» پر مجہول کرتے تھے نہ کہ تفرق بالا قوال پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2182 وسنده صحيح)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نضلة بن عمرو الأسلمي، أبو برزةصحابي
👤←👥عباد بن نسيب القيسي، أبو الوضيء
Newعباد بن نسيب القيسي ← نضلة بن عمرو الأسلمي
ثقة
👤←👥جميل بن مرة الشيباني
Newجميل بن مرة الشيباني ← عباد بن نسيب القيسي
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← جميل بن مرة الشيباني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3457
البيعان بالخيار ما لم يتفرقا
سنن ابن ماجه
2182
البيعان بالخيار ما لم يتفرقا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3457 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3457
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں معاملہ کرنے والوں کی دن رات کی طویل مجلس کو ایک ہی مجلس قرار دیا اور بیع فسخ کرادی۔
حالانکہ اس دوران میں ان دونوں نے سودے کے بعد بے شمار دوسرے لوازمات پر بات چیت کی ہوگی۔
لیکن حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کے ایک ہی جگہ رہنے کو ایک مجلس قرار دیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3457]

Sunan Abi Dawud Hadith 3457 in Urdu