یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب الاستتار في الخلاء
باب: قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 35
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنِ الْحُصَيْنِ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ مَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ، وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرٍ، قَالَ حُصَيْنٌ الْحِمْيَرِيُّ: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ ثَوْرٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْر، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْر هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں، جو شخص (استنجاء کے لیے) پتھر یا ڈھیلا لے تو طاق لے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرنے سے جو کچھ نکلے اسے پھینک دے، اور جسے زبان سے نکالے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، جو شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو پردہ کرے، اگر پردہ کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو بالو یا ریت کا ایک ڈھیر لگا کر اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جائے کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے ۱؎، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی مضائقہ نہیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعاصم نے ثور سے روایت کی ہے، اس میں (حصین حبرانی کی جگہ) حصین حمیری ہے، اور عبدالملک بن صباح نے بھی اسے ثور سے روایت کیا ہے، اس میں (ابوسعید کی جگہ) ابوسعید الخیر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید الخیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 35]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سرمہ لگائے تو طاق سلائیاں لگائے، جس نے ایسا کیا تو بہتر کیا اور جس نے نہ کیا اس پر کوئی حرج نہیں اور جو استنجا کرنے میں ڈھیلے استعمال کرے، اسے چاہیے کہ طاق عدد لے، جس نے ایسا کیا تو بہتر کیا اور جس نے نہ کیا اس پر کوئی حرج نہیں اور جس نے کچھ کھایا اور پھر تنکے سے خلال کیا تو چاہیے کہ منہ کے ریزوں کو پھینک دے اور جو کچھ اپنی زبان سے صاف کرے تو وہ نگل لے، جس نے ایسا کیا تو خوب کیا اور جس نے نہ کیا اس پر کوئی حرج نہیں اور جو پاخانے کو آئے تو چاہیے کہ کوئی آڑ لے لے، اگر کچھ نہ پائے تو ریت کی ڈھیری ہی بنا لے اور اس کی طرف پشت کر لے، بلاشبہ شیطان بنی آدم کے سرینوں کے ساتھ کھیلتا ہے، جس نے ایسا کیا بہت اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو اس پر کوئی حرج نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس حدیث کو ابوعاصم نے ثور سے روایت کیا تو راوی کا نام حصین حمیری بتایا (نہ کہ حبرانی) اور عبدالملک بن صباح نے روایت کیا تو کہا ابوسعید الخیر (نہ کہ صرف ابوسعید)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”ابوسعید الخیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 35]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة 23 (338)، الطب 6 (3498)، (تحفة الأشراف: 14938)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضو 26 (162)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (237) سنن النسائی/الطھارة 72 (88)، موطا امام مالک/الطھارة 1(2)، مسند احمد (2/236، 237، 308، 401، 371)، سنن الدارمی/الطھارة 5 (689) (ضعیف)» (حصین اور ابوسعید الخیر الحبرانی مجہول راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: شیطان کے کھیلنے سے یہ مقصود ہے کہ اگر آڑ نہ ہو گی تو پیچھے سے آ کر کوئی جانور اسے ایذا پہنچا دے گا، یا بے پردگی کی حالت میں دیکھ کر کوئی آدمی آ کر اس کا ٹھٹھا و مذاق اڑائے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف،ابن ماجه (337،3498)
حصين مجھول كما في تقريب التھذيب (1393)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15
إسناده ضعيف،ابن ماجه (337،3498)
حصين مجھول كما في تقريب التھذيب (1393)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥حصين الحميري، أبو سعيد حصين الحميري ← أبو هريرة الدوسي | مجهول | |
👤←👥ثور بن يزيد الرحبي، أبو خالد ثور بن يزيد الرحبي ← حصين الحميري | ثقة ثبت إلا أنه يرى القدر | |
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو عيسى بن يونس السبيعي ← ثور بن يزيد الرحبي | ثقة مأمون | |
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق إبراهيم بن موسى التميمي ← عيسى بن يونس السبيعي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
35
| من اكتحل فليوتر من فعل فقد أحسن من لا فلا حرج من استجمر فليوتر من فعل فقد أحسن ومن لا فلا حرج |
سنن ابن ماجه |
337
| من استجمر فليوتر من فعل ذلك فقد احسن، ومن لا فلا حرج |
سنن ابن ماجه |
3498
| من اكتحل فليوتر من فعل فقد أحسن ومن لا فلا حرج |
سنن الدارمي |
685
| من اكتحل فليوتر من فعل ذلك فقد أحسن ومن لا فلا حرج من استجمر فليوتر من فعل فقد أحسن ومن لا فلا حرج |
بلوغ المرام |
86
| من أتى الغآئط فليستتر |
مسندالحميدي |
987
| إذا استجمر أحدكم فليستجمر وترا، وإذا استنثر فليستنثر وترا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 35 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 35
فوائد و مسائل:
یہ روایت ضعیف ہے۔ اس میں جو باتیں دوسری احادیث سے ثابت ہیں، وہ قابل عمل ہیں۔ دیگر باتوں پر عمل کرنا ضروری نہیں۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ اس میں جو باتیں دوسری احادیث سے ثابت ہیں، وہ قابل عمل ہیں۔ دیگر باتوں پر عمل کرنا ضروری نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 35]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:987
987- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے: ”جب کسی شخص نے ڈھیلے استعمال کرنے ہوں، تو طاق تعداد میں استعمال کرے اور جب کوئی شخص ناک صاف کرے، تو طاق تعداد میں کرے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:987]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں حدیث میں مذکور ہر کام طاق بار کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں حدیث میں مذکور ہر کام طاق بار کرنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 986]
Sunan Abi Dawud Hadith 35 in Urdu
حصين الحميري ← أبو هريرة الدوسي