🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب فيمن اشترى عبدا فاستعمله ثم وجد به عيبا
باب: ایک شخص نے غلام خریدا اور اسے کام پر لگایا پھر اس میں عیب کا پتہ چلا تو اس کی اجرت خریدار کے ذمہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3509
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ الْغِفَارِيِّ، قَال:" كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أُنَاسٍ شَرِكَةٌ فِي عَبْدٍ فَاقْتَوَيْتُهُ، وَبَعْضُنَا غَائِبٌ فَأَغَلَّ عَلَيَّ غَلَّةً فَخَاصَمَنِي فِي نَصِيبِهِ إِلَى بَعْضِ الْقُضَاةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَرُدَّ الْغَلَّةَ، فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثْتُهُ، فَأَتَاهُ عُرْوَةُ فَحَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ".
(مخلد بن خفاف) غفاری کہتے ہیں میرے اور چند لوگوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، میں نے اس غلام سے کچھ کام لینا شروع کیا اور ہمارا ایک حصہ دار موجود نہیں تھا اس غلام نے کچھ غلہ کما کر ہمیں دیا تو میرا شریک جو غائب تھا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور معاملہ ایک قاضی کے پاس لے گیا، اس قاضی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے حصہ کا غلہ اسے دے دوں، پھر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اسے بیان کیا، تو عروہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تھی آپ نے فرمایا: منافع اس کا ہو گا جو ضامن ہو گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3509]
جناب مخلد بن خفاف غفاری بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ میری ایک غلام میں شراکت تھی، میں نے اسے کام پر لگایا جبکہ میرا ساتھی غائب تھا، تو وہ غلام میرے لیے کچھ کما کر لایا، میرے شریک نے اپنے حصے کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کیا اور مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کر دیا، تو قاضی نے مجھ سے کہا کہ میں اس کا حصہ ادا کر دوں، چنانچہ میں سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور واقعہ انہیں بتایا، تو وہ قاضی کے پاس گئے اور اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» آمدنی کا وہی حقدار ہوتا ہے جو ضامن ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16755) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عروہ نے اس حصہ دار سے یہ حدیث اس لئے بیان کی تاکہ وہ مخلد سے غلہ نہ لے کیونکہ غلام اس وقت مخلد کے ضمان میں تھا اس لئے اس کی کمائی کے مستحق بھی تنہا وہی ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3509)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥مخلد بن خفاف الغفاري
Newمخلد بن خفاف الغفاري ← عروة بن الزبير الأسدي
مقبول
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث
Newمحمد بن أبي ذئب العامري ← مخلد بن خفاف الغفاري
ثقة فقيه فاضل
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن أبي ذئب العامري
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمود بن خالد السلمي، أبو علي
Newمحمود بن خالد السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1285
الخراج بالضمان
جامع الترمذي
1286
الخراج بالضمان
سنن أبي داود
3508
الخراج بالضمان
سنن أبي داود
3509
الخراج بالضمان
سنن أبي داود
3510
الخراج بالضمان
سنن ابن ماجه
2243
الخراج بالضمان
سنن النسائى الصغرى
4495
الخراج بالضمان
بلوغ المرام
685
الخراج بالضمان
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4495
الخراج بالضمان
جامع الترمذي
1285
الخراج بالضمان
جامع الترمذي
1286
الخراج بالضمان
سنن ابن ماجه
2243
الخراج بالضمان
سنن أبي داود
3508
الخراج بالضمان
سنن أبي داود
3509
الخراج بالضمان
سنن أبي داود
3510
الخراج بالضمان
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3509 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3509
فوائد ومسائل:
توضیح۔
اس صورت میں غالبا ً مخلد نے اپنے شریک سے اتفاق کئے بغیر کام کروایا۔
اس لئے غلام ان کی ضمان میں ہوگیا۔
اگر شریک سے اتفاق کیا گیا ہوتا تو پھر وہ بھی اس کی آمدنی میں حصہ دار ہوتا۔
(از ترجمہ۔
علامہ وحید الزمان)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3509]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4495
نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ «خراج» (نفع) مال کی ضمانت سے جڑا ہوا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4495]
اردو حاشہ:
مثلاً: کسی شخص نے کوئی جانور خریدا، چند دن کے بعد اس میں عیب یا دھوکے کا انکشاف ہوا تو بیع واپس ہو گئی مگر جتنے دن وہ جانور خریدار کے پاس رہا، اس سے حاصل ہونے والا دودھ وغیرہ اسی کا ہو گا کیونکہ ان دنوں اگر اس جانور کا نقصان ہو جاتا تو خریدار کے ذمے پڑتا۔ اسی طرح ان دنوں کے دوران میں خوراک وغیرہ بھی اسی کی ذمہ داری تھی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4495]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3508
ایک شخص نے غلام خریدا اور اسے کام پر لگایا پھر اس میں عیب کا پتہ چلا تو اس کی اجرت خریدار کے ذمہ ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3508]
فوائد ومسائل:
توضیح۔
غلام نے جو کچھ کمایا وہ خریدار کا ہے۔
اس مدت میں اگر اس کے کسی عیب پر مطلع ہوا اور اسے واپس کیا تو صرف غلام واپس ہوگا۔
اس کی کمائی نہیں۔
کیونکہ بالفرض اگران دنوں میں غلام مرجاتا۔
تو یہ نقصان خریدار کا ہی ہوتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3508]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2243
غلام کی کمائی اس کے ضامن مالک سے جڑی ہوئی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، پھر اس سے مزدوری کرائی، بعد میں اسے اس میں کوئی عیب نظر آیا، اسے بیچنے والے کو واپس کر دیا، بیچنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام سے مزدوری کرائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فائدہ اسے ضمانت کی وجہ سے ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2243]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی آمدنی دینے والی چیز خریدی جائے اور پھر واپس کر دی جائے تو جتنے دن وہ چیز خریدار کے پاس رہی ہے اور اس نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے واپسی کے وقت اس فائدے کا کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا۔
اس قانون سے صرف دودھ دینے والا جانور مستثنیٰ ہے جس کو واپس کرتے وقت ایک صاع کھجوریں ساتھ دی جائیں گی۔

(2)
اگر خریدار کے پاس جانور مر جائے یا کوئی دوسری چیز خراب ہو جائے یا تباہ ہو جائے تو یہ نقصان خریدار برداشت کرے گا، اس لیے اگر خریدار کو اس سے کوئی آمدنی ہوتی ہے تو وہ بھی خود رکھے گا، خریدی ہوئی چیز واپس کرتے وقت اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بیچنے والے کو واپس نہیں کرے گا۔

(3)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ یہی روایت سنن ابی داؤد (3510)
میں بھی ہے، وہاں ہمارے محقق نے اس کی بابت یوں لکھا ہے کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے البتہ سابقہ روایت (3509)
اس سے کفایت کرتی ہے لہٰذا مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک بھی سنداً ضعیف ہونے باوجود معناً صحیح اور قابل عمل ہے، علاوہ ازیں مذکورہ روایت کو دیگر محققین نے حسن قرار دیا ہے۔
-دیکھیے: (صحيح سنن ابن ماجه للألباني، رقم: 1836، والموسوعة الحديثة مسندالإمام أحمد: 40/ 272، 273)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2243]

Sunan Abi Dawud Hadith 3509 in Urdu