یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب في الشفعة
باب: شفعہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3513
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفعہ ۱؎ ہر مشترک چیز میں ہے، خواہ گھر ہو یا باغ کی چہار دیواری، کسی شریک کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے شریک کو آگاہ کئے بغیر بیچ دے، اور اگر بغیر آگاہ کئے بیچ دیا تو شریک اس کے لینے کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ اسے دوسرے کے ہاتھ بیچنے کی اجازت دیدے ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3513]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفعہ ہر مشترک زمین یا باغ میں ہے، اسے اپنے شریک کو خبر دیے بغیر فروخت کرنا درست نہیں۔ اگر (بلا اطلاع) فروخت کر دیا ہو تو وہ شریک ہی زیادہ حقدار ہے حتیٰ کہ وہ دوسرے کے لیے اجازت دے دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 28 (1608)، سنن النسائی/البیوع 78 (4650)، (تحفة الأشراف: 2806)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/312، 316، 357، 397)، سنن الدارمی/البیوع 83 (2670) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شفعہ وہ استحقاق ہے جس کے ذریعہ شریک اپنے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہے قیمت ادا کر کے حاصل کر سکے۔
۲؎: اگر شریک لینے کا خواہش مند ہے تو مشتری نے جتنی قیمت دی ہے، وہ قیمت دے کر لے لے، مشتری کے پیسے واپس ہو جائیں گے، لیکن اگر اس نے آگاہ کر دیا، اور شریک لینے کا خواہش مند نہیں ہے، تو جس کے ہاتھ بھی چاہے بیچے حق شفغہ باقی نہ رہے گا۔
۲؎: اگر شریک لینے کا خواہش مند ہے تو مشتری نے جتنی قیمت دی ہے، وہ قیمت دے کر لے لے، مشتری کے پیسے واپس ہو جائیں گے، لیکن اگر اس نے آگاہ کر دیا، اور شریک لینے کا خواہش مند نہیں ہے، تو جس کے ہاتھ بھی چاہے بیچے حق شفغہ باقی نہ رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1608)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2496
| الشفعة في كل ما لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
صحيح البخاري |
2213
| الشفعة في كل مال لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
صحيح البخاري |
6976
| الشفعة في كل ما لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
صحيح البخاري |
2495
| الشفعة في كل ما لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
صحيح مسلم |
4129
| الشفعة في كل شرك في أرض أو ربع أو حائط لا يصلح أن يبيع حتى يعرض على شريكه فيأخذ أو يدع إن أبى فشريكه أحق به حتى يؤذنه |
صحيح مسلم |
4128
| الشفعة في كل شركة لم تقسم ربعة أو حائط لا يحل له أن يبيع حتى يؤذن شريكه إن شاء أخذ وإن شاء ترك إذا باع ولم يؤذنه فهو أحق به |
جامع الترمذي |
1369
| الجار أحق بشفعته ينتظر به إن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا |
جامع الترمذي |
1312
| من كان له شريك في حائط فلا يبيع نصيبه من ذلك حتى يعرضه على شريكه |
سنن أبي داود |
3514
| الشفعة في كل ما لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
سنن أبي داود |
3513
| الشفعة في كل شرك ربعة أو حائط لا يصلح أن يبيع حتى يؤذن شريكه إن باع فهو أحق به حتى يؤذنه |
سنن أبي داود |
3518
| الجار أحق بشفعة جاره ينتظر بها إن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا |
سنن النسائى الصغرى |
4709
| الشفعة والجوار |
سنن النسائى الصغرى |
4705
| الشفعة في كل شركة لم تقسم ربعة وحائط لا يحل له أن يبيعه حتى يؤذن شريكه إن شاء أخذ وإن شاء ترك إن باع ولم يؤذنه فهو أحق به |
سنن النسائى الصغرى |
4650
| الشفعة في كل شرك ربعة أو حائط لا يصلح له أن يبيع حتى يؤذن شريكه إن باع فهو أحق به حتى يؤذنه |
سنن ابن ماجه |
2499
| الشفعة في كل ما لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
سنن ابن ماجه |
2494
| الجار أحق بشفعة جاره ينتظر بها إن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا |
المعجم الصغير للطبراني |
513
| الشفعة في كل شرك في ربع أو حائط لا يصلح له أن يبيعه حتى يؤذن شريكه فيأخذ أو يدع |
بلوغ المرام |
763
| الجار أحق بشفعة جاره ينتظر بها وإن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا |
مسندالحميدي |
1309
| أيكم كانت له أرض أو نخل فلا يبعها حتى يعرضها على شريكه |
Sunan Abi Dawud Hadith 3513 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري