یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. باب ما جاء في أرض المشترك يريد بعضهم بيع نصيبه
باب: مشترکہ زمین جس کا حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے۔
حدیث نمبر: 1312
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي حَائِطٍ، فَلَا يَبِيعُ نَصِيبَهُ مِنْ ذَلِكَ، حَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَى شَرِيكِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: سُلَيْمَانُ الْيَشْكُرِيُّ، يُقَالُ: إِنَّهُ مَاتَ فِي حَيَاةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ قَتَادَةُ، وَلَا أَبُو بِشْرٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا نَعْرِفُ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ سَمَاعًا مِنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، فَلَعَلَّهُ سَمِعَ مِنْهُ فِي حَيَاةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَإِنَّمَا يُحَدِّثُ قَتَادَةُ، عَنْ صَحِيفَةِ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، وَكَانَ لَهُ كِتَابٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ عَبْدُ الْقُدُّوسِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: قَالَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ: ذَهَبُوا بِصَحِيفَةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ فَأَخَذَهَا، أَوْ قَالَ: فَرَوَاهَا، وَذَهَبُوا بِهَا إِلَى قَتَادَةَ، فَرَوَاهَا، وَأَتَوْنِي بِهَا، فَلَمْ أَرْوِهَا، يَقُولُ: رَدَدْتُهَا.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کے باغ میں کوئی ساجھی دار ہو تو وہ اپنا حصہ اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے اپنے ساجھی دار پر پیش نہ کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سلیمان یشکری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں مر گئے تھے، ان سے قتادہ اور ابوبشر کا سماع نہیں ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں نہیں جانتا ہوں کہ ان میں سے کسی نے سلیمان یشکری سے کچھ سنا ہو سوائے عمرو بن دینار کے، شاید انہوں نے جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں سلیمان یشکری سے حدیث سنی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ قتادہ، سلیمان یشکری کی کتاب سے حدیث روایت کرتے تھے، سلیمان کے پاس ایک کتاب تھی جس میں جابر بن عبداللہ سے مروی احادیث لکھی تھیں،
۳- سلیمان تمیمی کہتے ہیں: لوگ جابر بن عبداللہ کی کتاب حسن بصری کے پاس لے گئے تو انہوں نے اسے لیا یا اس کی روایت کی۔ اور لوگ اسے قتادہ کے پاس لے گئے تو انہوں نے بھی اس کی روایت کی اور میرے پاس لے کر آئے تو میں نے اس کی روایت نہیں کی میں نے اسے رد کر دیا۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1312]
۱- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سلیمان یشکری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں مر گئے تھے، ان سے قتادہ اور ابوبشر کا سماع نہیں ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں نہیں جانتا ہوں کہ ان میں سے کسی نے سلیمان یشکری سے کچھ سنا ہو سوائے عمرو بن دینار کے، شاید انہوں نے جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں سلیمان یشکری سے حدیث سنی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ قتادہ، سلیمان یشکری کی کتاب سے حدیث روایت کرتے تھے، سلیمان کے پاس ایک کتاب تھی جس میں جابر بن عبداللہ سے مروی احادیث لکھی تھیں،
۳- سلیمان تمیمی کہتے ہیں: لوگ جابر بن عبداللہ کی کتاب حسن بصری کے پاس لے گئے تو انہوں نے اسے لیا یا اس کی روایت کی۔ اور لوگ اسے قتادہ کے پاس لے گئے تو انہوں نے بھی اس کی روایت کی اور میرے پاس لے کر آئے تو میں نے اس کی روایت نہیں کی میں نے اسے رد کر دیا۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ مؤلف، وانظر مسند احمد (3/357) (صحیح لغیرہ) و أخرجہ کل من: صحیح مسلم/المساقاة 28 (البیوع 49)، (1608)، سنن ابی داود/ البیوع 75 (3513)، سنن النسائی/البیوع 80 (4650)، و 107 (4704، 4705)، (تحفة الأشراف: 2272)، و مسند احمد (3/312، 316، 397)، وسنن الدارمی/البیوع 83 (2670) معناہ في سیاق حدیث ”الشفعة“»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (5 / 373) ، أحاديث البيوع
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2496
| الشفعة في كل ما لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
صحيح البخاري |
2213
| الشفعة في كل مال لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
صحيح البخاري |
6976
| الشفعة في كل ما لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
صحيح البخاري |
2495
| الشفعة في كل ما لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
صحيح مسلم |
4129
| الشفعة في كل شرك في أرض أو ربع أو حائط لا يصلح أن يبيع حتى يعرض على شريكه فيأخذ أو يدع إن أبى فشريكه أحق به حتى يؤذنه |
صحيح مسلم |
4128
| الشفعة في كل شركة لم تقسم ربعة أو حائط لا يحل له أن يبيع حتى يؤذن شريكه إن شاء أخذ وإن شاء ترك إذا باع ولم يؤذنه فهو أحق به |
جامع الترمذي |
1369
| الجار أحق بشفعته ينتظر به إن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا |
جامع الترمذي |
1312
| من كان له شريك في حائط فلا يبيع نصيبه من ذلك حتى يعرضه على شريكه |
سنن أبي داود |
3514
| الشفعة في كل ما لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
سنن أبي داود |
3513
| الشفعة في كل شرك ربعة أو حائط لا يصلح أن يبيع حتى يؤذن شريكه إن باع فهو أحق به حتى يؤذنه |
سنن أبي داود |
3518
| الجار أحق بشفعة جاره ينتظر بها إن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا |
سنن النسائى الصغرى |
4709
| الشفعة والجوار |
سنن النسائى الصغرى |
4705
| الشفعة في كل شركة لم تقسم ربعة وحائط لا يحل له أن يبيعه حتى يؤذن شريكه إن شاء أخذ وإن شاء ترك إن باع ولم يؤذنه فهو أحق به |
سنن النسائى الصغرى |
4650
| الشفعة في كل شرك ربعة أو حائط لا يصلح له أن يبيع حتى يؤذن شريكه إن باع فهو أحق به حتى يؤذنه |
سنن ابن ماجه |
2499
| الشفعة في كل ما لم يقسم إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة |
سنن ابن ماجه |
2494
| الجار أحق بشفعة جاره ينتظر بها إن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا |
المعجم الصغير للطبراني |
513
| الشفعة في كل شرك في ربع أو حائط لا يصلح له أن يبيعه حتى يؤذن شريكه فيأخذ أو يدع |
بلوغ المرام |
763
| الجار أحق بشفعة جاره ينتظر بها وإن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا |
مسندالحميدي |
1309
| أيكم كانت له أرض أو نخل فلا يبعها حتى يعرضها على شريكه |
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1312 in Urdu
سليمان بن قيس اليشكري ← جابر بن عبد الله الأنصاري