یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب في الرجل يفلس فيجد الرجل متاعه بعينه عنده
باب: آدمی مفلس (دیوالیہ) کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا۔
حدیث نمبر: 3522
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ يَعْنِي الْخَبَائِرِيَّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو الْهُذَيْلِ الْحِمْصِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ: فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ، وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ وَعِنْدَهُ مَتَاعُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا، أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدِيثُ مَالِكٍ، أَصَحُّ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ”اگر بائع نے اس کی قیمت میں سے کچھ پا لیا ہے تو باقی قرض کے سلسلہ میں وہ دیگر قرض خواہوں کی طرح ہو گا، اور جو شخص مر گیا اور اس کے پاس کسی شخص کی بعینہٖ کوئی چیز نکلی تو اس میں سے اس نے کچھ وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہر حال میں وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہو گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کی روایت (بہ نسبت زبیدی کی روایت کے) زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3522]
جناب ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی مانند بیان کیا، انہوں نے کہا: ”اگر اس کی قیمت سے کچھ وصول کر لیا ہو تو باقی میں وہ دیگر قرض خواہوں کے برابر ہو گا۔ البتہ اگر کوئی شخص ہلاک ہو جائے اور اس کے پاس کسی کا مال بعینہ موجود ہو، وہ خواہ اس کی قیمت وصول کر چکا ہو یا نہ، تو وہ باقی قرض خواہوں کے ساتھ ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3519)، (تحفة الأشراف: 14861) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3519)
انظر الحديث السابق (3519)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥محمد بن الوليد الزبيدي، أبو الهذيل محمد بن الوليد الزبيدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة إسماعيل بن عياش العنسي ← محمد بن الوليد الزبيدي | صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم | |
👤←👥عبد الله بن عبد الجبار الخبائري، أبو القاسم عبد الله بن عبد الجبار الخبائري ← إسماعيل بن عياش العنسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن عوف الطائي، أبو عبد الله، أبو جعفر محمد بن عوف الطائي ← عبد الله بن عبد الجبار الخبائري | ثقة حافظ |
Sunan Abi Dawud Hadith 3522 in Urdu
أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي ← أبو هريرة الدوسي