🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب في الرهن
باب: گروی رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3527
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ لَأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ، وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، وَالشُّهَدَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ؟، قَالَ: هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ، وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا، فَوَاللَّهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ، وَإِنَّهُمْ عَلَى نُورٍ، لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ، وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ سورة يونس آية 62".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو انبیاء و شہداء تو نہیں ہوں گے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو مرتبہ انہیں ملے گا اس پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں بتائیں وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسے لوگ ہوں گے جن میں آپس میں خونی رشتہ تو نہ ہو گا اور نہ مالی لین دین اور کاروبار ہو گا لیکن وہ اللہ کی ذات کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے، قسم اللہ کی، ان کے چہرے (مجسم) نور ہوں گے، وہ خود پرنور ہوں گے انہیں کوئی ڈر نہ ہو گا جب کہ لوگ ڈر رہے ہوں گے، انہیں کوئی رنج و غم نہ ہو گا جب کہ لوگ رنجیدہ و غمگین ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون» یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں (سورۃ یونس: ۶۲)۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3527]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو نبی ہوں گے نہ شہید، مگر قیامت کے روز اللہ کے ہاں (بلند) مراتب و منازل کی وجہ سے انبیاء و شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بتائیں، وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو آپس میں اللہ کی کتاب (یا اللہ کے ساتھ محبت) کی بنا پر محبت کرتے تھے۔ حالانکہ ان کا آپس میں کوئی رشتہ ناطہ یا مالی لین دین نہ تھا۔ اللہ کی قسم! ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ لوگ نور پر ہوں گے۔ جب لوگ خوف زدہ ہو رہے ہوں گے، تو انہیں کوئی خوف نہ ہو گا۔ جب لوگ غمگین و پریشان ہو رہے ہوں گے، تو انہیں کوئی غم اور پریشانی نہ ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ [سورة يونس: 62] آگاہ رہو! اللہ کے ولیوں کو کوئی خوف ہو گا، نہ وہ غم کھائیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10661) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث نُسَّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہوگئی ہے، اس باب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور ابن داسہ کی روایت میں ہے، لولوی کی روایت میں نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5012)
وله شاھد حسن عند أبي يعلٰي الموصلي (6110) والنسائي في الكبريٰ (11236) وابن حبان (2508)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥أبو زرعة بن عمرو البجلي، أبو زرعة
Newأبو زرعة بن عمرو البجلي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة
👤←👥عمارة بن القعقاع الضبي
Newعمارة بن القعقاع الضبي ← أبو زرعة بن عمرو البجلي
ثقة
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← عمارة بن القعقاع الضبي
ثقة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3527
من عباد الله لأناسا ما هم بأنبياء ولا شهداء يغبطهم الأنبياء والشهداء يوم القيامة بمكانهم من الله قالوا يا رسول الله تخبرنا من هم قال هم قوم تحابوا بروح الله على غير أرحام بينهم ولا أموال يتعاطونها فوالله إن وجوههم لنور وإنهم على نور لا يخافون إذا خاف النا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3527 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3527
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
اس حدیث کا کتاب الرہن سے بظاہر کوئی ربط معلوم نہیں ہوتا۔
سوائے اس کے کہ اہل ایمان میں فی اللہ محبت کی بنا پر بخوشی ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔
اور انھیں ایک دوسرے پر کامل اعتماد ہوتا ہے۔
اور رہن دینا لینا کوئی واجب نہیں ہے۔
قرآن مجید میں ہے۔
(فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ) (البقرة:283) اور اگر تم میں سے کوئی دوسرے پر اعتبار کرے تو جس شخص پراعتبار کیا گیا ہو اسے چاہیے کہ دوسرے کی امانت واپس ادا کردے۔
یعنی رہن (گروی) رکھنا۔
ایک دوسرے پر عدم اعتماد اورامانت ودیانت کے فقدان کی دلیل ہے۔
جہاں اس کے برعکس صورت حال ہوگی۔
یعنی ایک دوسرے کی امانت ودیانت پر اعتماد ہوگا۔
وہاں رہن کے بغیر بھی قرض لینے دینے میں نقصان کا خظرہ نہیں ہوگا۔
اور ایسا ہی معاشرہ اسلام کا مثالی معاشرہ ہے۔
اس حدیث میں اسی معاشرے کی طرف اشارہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3527]

Sunan Abi Dawud Hadith 3527 in Urdu