علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. باب من قال فيه ولعقبه
باب: کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 3557
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ طَارِقٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَعْطَاهَا ابْنُهَا حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ، فَمَاتَتْ، فَقَالَ ابْنُهَا: إِنَّمَا أَعْطَيْتُهَا حَيَاتَهَا، وَلَهُ إِخْوَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ لَهَا حَيَاتَهَا وَمَوْتَهَا، قَالَ: كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا عَلَيْهَا، قَالَ: ذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی ایک عورت کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ دیا تھا پھر وہ مر گئی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ یہ میں نے اسے اس کی زندگی تک کے لیے دیا تھا اور اس کے اور بھائی بھی تھے (جو اپنا حق مانگ رہے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ باغ زندگی اور موت دونوں میں اسی عورت کا ہے“ پھر وہ کہنے لگا: میں نے یہ باغ اسے صدقہ میں دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو یہ (واپسی) تمہارے لیے اور بھی ناممکن بات ہے“ (کہیں صدقہ بھی واپس لیا جاتا ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2283)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/299) (ضعیف)» (حبیب مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، او ر حمید کے بارے میں بھی بعض کلام ہے، ملاحظہ ہو: الارواء 6؍51)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الثوري و حبيب عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126
إسناده ضعيف
الثوري و حبيب عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥طارق بن عمرو الأموي طارق بن عمرو الأموي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حميد بن قيس الأعرج، أبو صفوان، أبو عبد الرحمن حميد بن قيس الأعرج ← طارق بن عمرو الأموي | ثقة | |
👤←👥حبيب بن أبي ثابت الأسدي، أبو يحيى حبيب بن أبي ثابت الأسدي ← حميد بن قيس الأعرج | ثقة فقيه جليل | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← حبيب بن أبي ثابت الأسدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥معاوية بن هشام الأسدي، أبو الحسن معاوية بن هشام الأسدي ← سفيان الثوري | صدوق له أوهام | |
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن عثمان بن أبي شيبة العبسي ← معاوية بن هشام الأسدي | وله أوهام، ثقة حافظ شهير |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3557
| هي لها حياتها وموتها قال كنت تصدقت بها عليها قال ذلك أبعد لك |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3557 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3557
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ عمریٰ یا رقبیٰ واپس نہیں ہوتا اور بالخصوص جب صدقہ کیا ہو۔
فائدہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ عمریٰ یا رقبیٰ واپس نہیں ہوتا اور بالخصوص جب صدقہ کیا ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3557]
Sunan Abi Dawud Hadith 3557 in Urdu
طارق بن عمرو الأموي ← جابر بن عبد الله الأنصاري