🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب فِي الْوَكَالَةِ
باب: وکیل بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3632
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، قَالَ:" أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ: إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا، فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کی جانب نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا پھر میں نے عرض کیا: میں خیبر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میرے وکیل کے پاس جانا تو اس سے پندرہ وسق کھجور لے لینا اور اگر وہ تم سے کوئی نشانی طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دینا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3632]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے خیبر جانے کا ارادہ کیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پیش کیا اور عرض کیا کہ میں خیبر جانا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میرے وکیل کے پاس پہنچو تو اس سے پندرہ وسق وصول کر لینا۔ اور اگر وہ تم سے کوئی علامت (نشانی) طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دینا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3131) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
وضاحت: ۱؎: شاید یہی نشانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وکیل کو بتائی ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 129


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥وهب بن كيسان القرشي، أبو نعيم
Newوهب بن كيسان القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← وهب بن كيسان القرشي
صدوق مدلس
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← ابن إسحاق القرشي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥عبيد الله بن سعد القرشي، أبو الفضل
Newعبيد الله بن سعد القرشي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3632
إذا أتيت وكيلي فخذ منه خمسة عشر وسقا فإن ابتغى منك آية فضع يدك على ترقوته
بلوغ المرام
745
إذا أتيت وكيلي بخيبر فخذ منه خمسة عشر وسقا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3632 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3632
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم وکیل بننا بنانا جائز ہے۔
اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ذاتی کام اپنے وکیل کے ذریعے سے کروا لیا کرتے تھے۔
جیسے کہ بکری خریدنے کا واقعہ ہے۔
(صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 3642) علاوہ ازیں عمال حکومت سبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب اوروکیل ہی ہوا کرتے تھے۔
آج کل کے عدالتی نظام میں وکالت ناگزیر ہے۔
اس کے بغیر اپنا حق وصول کرنا ناممکن ہے۔
اس بنا پر صاحب حق کےلئے تو اپنے حق کی وصولی کےلئے وکیل بنانا اور کسی شخص کا اس کےلئے وکیل بننا جائز ہے۔
لیکن کسی دوسرے کا حق غصب کرکے عدالت سے اس پر مہر تصدیق ثبت کرانے کے لئے کسی کو وکیل بنایا اور اس ظالم وغاصب کی وکالت کے لئے کسی کا وکیل بننا قطعا جائز نہیں ہے۔
ایسی وکالت کا سارا معاوضہ یکسر حرام اور ناجائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3632]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 745
شراکت اور وکالت کا بیان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے خیبر کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تو خیبر میں میرے وکیل کے پاس پہنچے تو اس سے پندرہ وسق وصول کر لینا۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور انہوں نے اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 745»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، القضاء، باب في الوكالة، حديث:3632.* ابن إسحاق عنعن، وعلق البخاري ببعض الحديث في صحيحه.»
تشریح:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے‘ تاہم دیگر دلائل کی رو سے وکیل بنانا جائز ہے جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ذاتی کام اپنے وکیل کے ذریعے سے کروا لیا کرتے تھے جیسے کہ بکری خریدنے کا واقعہ۔
(صحیح البخاري‘ المناقب‘ حدیث: ۳۶۴۲) نیز درج ذیل روایات سے بھی اسی موقف کی تائید ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں عمال حکومت سبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب اور وکیل ہوا کرتے تھے۔
بنابریں مالی معاملات میں کسی کو اپنا وکیل بنانا درست ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 745]

Sunan Abi Dawud Hadith 3632 in Urdu