سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب في الحبس في الدين وغيره
باب: قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3631
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ: إِنَّ أَخَاهُ أَوْ عَمَّهُ، وَقَالَ مُؤَمَّل: إِنَّهُ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ"، لَمْ يَذْكُرْ مُؤَمَّلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ.
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے: کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیر لیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو“ اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3631]
جناب بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا (سیدنا معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ابن قدامہ نے کہا: معاویہ رضی اللہ عنہ کا بھائی یا چچا، اور مؤمل (مؤمل ابن ہشام) نے کہا: بیشک وہ (معاویہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو کھڑا ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اس نے کہا: ”میرے ہمسایوں کو کس بنا پر پکڑا گیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دو بار اعراض فرمایا۔ پھر معاویہ نے کچھ کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ہمسایوں کو رہا کر دو۔“ مؤمل نے اپنی روایت میں ”خطبہ دینے کا“ ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11389) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3631
| خلوا له عن جيرانه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3631 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3631
فوائد ومسائل:
فائدہ: ان لوگوں کو کسی تہمت میں پکڑا گیا تھا۔
جب تہمت ثابت نہ ہوئی تو ان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
فائدہ: ان لوگوں کو کسی تہمت میں پکڑا گیا تھا۔
جب تہمت ثابت نہ ہوئی تو ان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3631]
Sunan Abi Dawud Hadith 3631 in Urdu
حكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري