سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب في القضاء
باب: قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3640
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُثْمَانَ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، وَعَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" اخْتَصَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فِي حَرِيمِ نَخْلَةٍ فِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا، فَأَمَرَ بِهَا فَذُرِعَتْ، فَوُجِدَتْ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ، وَفِي حَدِيثِ الْآخَرِ، فَوُجِدَتْ خَمْسَةَ أَذْرُعٍ، فَقَضَى بِذَلِكَ"، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ مِنْ جَرِيدِهَا فَذُرِعَتْ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخص ایک کھجور کے درخت کی حد کے سلسلے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک روایت میں ہے آپ نے اس کے ناپنے کا حکم دیا جب ناپا گیا تو وہ سات ہاتھ نکلا، اور دوسری روایت میں ہے وہ پانچ ہاتھ نکلا تو آپ نے اسی کا فیصلہ فرما دیا۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی درخت کی ایک ٹہنی سے پیمائش کرنے کے لیے کہا تو پیمائش کی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3640]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جھگڑا لائے۔ ان کا ایک کھجور کے درخت کے اردگرد احاطے (زمین کی حدود جو اس درخت کے ساتھ لازم اور ملحق ہو سکتی ہے) کے بارے میں تنازع تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس درخت کا (طول) ناپا جائے۔ اسے ناپا گیا تو وہ سات ہاتھ ہوا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ وہ پانچ ہاتھ ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرما دیا۔ راوی حدیث عبدالعزیز بن محمد نے کہا: ”پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخت کی ایک چھڑی کے بارے میں حکم دیا، اسی سے اسے ناپا گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4408) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3640
| أمر بها فذرعت فوجدت سبعة أذرع |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3640 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3640
فوائد ومسائل:
فائدہ: کسی کا کہیں درخت ہو تو اس کے طول برابر اس کے اطراف میں اس کا خاص احاطہ ہوگا جس میں دوسرا دخل نہیں دے سکتا۔
فائدہ: کسی کا کہیں درخت ہو تو اس کے طول برابر اس کے اطراف میں اس کا خاص احاطہ ہوگا جس میں دوسرا دخل نہیں دے سکتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3640]
Sunan Abi Dawud Hadith 3640 in Urdu
يحيى بن عمارة الأنصاري ← أبو سعيد الخدري