سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب في كتابة العلم
باب: علم کے لکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3646
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ، وَقَالُوا: أَتَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا؟، فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى فِيهِ، فَقَالَ: اكْتُبْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا یاد رکھنے کے لیے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا، اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3646]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں جو کچھ سنتا وہ سب لکھ لیا کرتا تھا تاکہ اسے حفظ کر لوں۔ تو (بعض) قریشیوں نے مجھے منع کیا۔ انہوں نے کہا: ”تو ہر بات، جو سنتا ہے، لکھ لیتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں غصے اور خوشی (دونوں حالتوں) میں گفتگو کرتے ہیں،“ تو میں نے لکھنا موقوف کر دیا اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دہن مبارک کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس سے سوائے حق کے اور کچھ نکلتا ہی نہیں ہے۔““ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/162، 192)، سنن الدارمی/المقدمة 43 (501) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3646
| اكتب فوالذي نفسي بيده ما يخرج منه إلا حق |
سنن الدارمي |
502
| ع حديثي ثم استعن بيدك مع قلبك |
سنن الدارمي |
501
| اكتب فوالذي نفسي بيده ما خرج منه إلا حق |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3646 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3646
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
رسول ہر حال میں رسول اور حجت ہوتے ہیں۔
ان کی پوری زندگی ہرحال میں امت کے لئے اتباع نمونہ ہوتی ہے۔
اورپھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توسید الرسل ہیں۔
فائدہ۔
رسول ہر حال میں رسول اور حجت ہوتے ہیں۔
ان کی پوری زندگی ہرحال میں امت کے لئے اتباع نمونہ ہوتی ہے۔
اورپھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توسید الرسل ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3646]
Sunan Abi Dawud Hadith 3646 in Urdu
يوسف بن ماهك الفارسي ← عبد الله بن عمرو السهمي