یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب ما جاء في الأكل متكئا
باب: ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3771
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ:" بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ".
مصعب بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کہیں) بھیجا جب میں لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ کو پایا کہ آپ کھجوریں کھا رہے ہیں، سرین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں پاؤں کھڑا کئے ہوئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3771]
جناب شعیب بن عبداللہ بن عمرو اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکیہ لگا کر کھانا کھایا ہو یا دو آدمیوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیاں روندی ہوں۔ (ایسے نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبرانہ انداز سے آگے آگے چلیں اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3771]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 24 (2044)، سنن الترمذی/الشمائل (142)، (تحفة الأشراف: 1591)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/180، 203)، دی/ الأطعمة 26 (2106) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥مصعب بن سليم الزهري مصعب بن سليم الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← مصعب بن سليم الزهري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق إبراهيم بن موسى التميمي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5331
| مقعيا يأكل تمرا |
سنن أبي داود |
3771
| يأكل تمرا وهو مقع |
مسندالحميدي |
1255
| أتى النبي صلى الله عليه وسلم بتمر فجعل يقسمه، وهو محتفز، وهو يأكل أكلا ذريعا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3771 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3771
فوائد ومسائل:
توضیح: (إقعاء) یعنی اس طرح زمین پر بیٹھ جانا کہ پنڈلیاں سامنے کھڑی ہوں۔
اس صورت میں بعض اوقات پیچھے سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔
لہذا اس سے یہ استشہاد کیا جا سکتا ہے۔
کہ بیماری اور کمزوری وغیرہ کی صورت میں سہارا لینا جائز ہے۔
فتح الباری میں ہے کہ ایک روایت میں (مقع) کی بجائے (محتفز) کا لفظ آیا ہے۔
یعنی اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے۔
بہرحال عام روایات سے ثابت ہے کہ سہارا لے کر (ٹیک لگا کر) کھانا سنت کے خلاف ہے۔
علامہ خطابی خوب جم کر اور بکھر کر کے بیٹھنے کو بھی (اتکا) میں شمار کرتے ہیں۔
جیسے کہ آلتی پالتی مار کر بیٹھنا کہ اس صورت میں انسان بہت زیادہ کھانا کھا لیتا ہے۔
الا یہ کہ کوئی عذرہو۔
علمائے کرام (غزالی وغیرہ) افضل صورت یہ بتاتے ہیں کہ گھٹنوں کے بل بیٹھے یا دایاں گھٹنا کھڑا کیا ہو۔
اور بایئں پر بیٹھ جائے جیسے کہ بعض دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
توضیح: (إقعاء) یعنی اس طرح زمین پر بیٹھ جانا کہ پنڈلیاں سامنے کھڑی ہوں۔
اس صورت میں بعض اوقات پیچھے سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔
لہذا اس سے یہ استشہاد کیا جا سکتا ہے۔
کہ بیماری اور کمزوری وغیرہ کی صورت میں سہارا لینا جائز ہے۔
فتح الباری میں ہے کہ ایک روایت میں (مقع) کی بجائے (محتفز) کا لفظ آیا ہے۔
یعنی اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے۔
بہرحال عام روایات سے ثابت ہے کہ سہارا لے کر (ٹیک لگا کر) کھانا سنت کے خلاف ہے۔
علامہ خطابی خوب جم کر اور بکھر کر کے بیٹھنے کو بھی (اتکا) میں شمار کرتے ہیں۔
جیسے کہ آلتی پالتی مار کر بیٹھنا کہ اس صورت میں انسان بہت زیادہ کھانا کھا لیتا ہے۔
الا یہ کہ کوئی عذرہو۔
علمائے کرام (غزالی وغیرہ) افضل صورت یہ بتاتے ہیں کہ گھٹنوں کے بل بیٹھے یا دایاں گھٹنا کھڑا کیا ہو۔
اور بایئں پر بیٹھ جائے جیسے کہ بعض دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3771]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1255
1255- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں لائی گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تقسیم کرنا شروع کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر آرام دہ حالت میں (یعنی پاؤں کے بل) بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے انہیں کھا رہے تھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1255]
فائدہ:
اس حدیث میں کھانا بیٹھ کر کھانے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے بعض روایات میں (مقعیا) کے الفاظ ہیں۔ (صـحـيـح مـسـلـم: 2044) اس کے معنی ہیں: پنڈلی اور ران کو ملا کر کولہوں پر بیٹھنا۔ (نیز دیکھیں: ارواء الغليل: 29/7) آہستہ آہستہ کھانا کھانا اچھا نہیں ہے، بلکہ جلدی جلدی کھانا کھانا چاہیے، کھجور کھانے کو زندگی کا معمول بنا نا چا ہیے، اس کے بہت سے فوائد ہیں۔
اس حدیث میں کھانا بیٹھ کر کھانے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے بعض روایات میں (مقعیا) کے الفاظ ہیں۔ (صـحـيـح مـسـلـم: 2044) اس کے معنی ہیں: پنڈلی اور ران کو ملا کر کولہوں پر بیٹھنا۔ (نیز دیکھیں: ارواء الغليل: 29/7) آہستہ آہستہ کھانا کھانا اچھا نہیں ہے، بلکہ جلدی جلدی کھانا کھانا چاہیے، کھجور کھانے کو زندگی کا معمول بنا نا چا ہیے، اس کے بہت سے فوائد ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1253]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5331
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرین کے بل بیٹھ کر، پنڈلیاں کھڑی کرکے کھجوریں کھاتے دیکھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5331]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تواضع اور انکساری کے ساتھ کھاتے تھے،
متکبرین اور ان لوگوں کی طرح نہیں کھاتے تھے جو کھانا پینا ہی مقصد زندگی سمجھتے ہیں اور ایسے طریقہ سے بیٹھتے ہیں،
جس سے خوب کھایا جا سکے،
اس لیے آپ پوری طرح چوکڑی مار کر،
خوب کھانے کے لیے نہیں بیٹھتے تھے،
بلکہ جلدی جلدی فارغ ہونے کی کوشش کرتے تھے۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تواضع اور انکساری کے ساتھ کھاتے تھے،
متکبرین اور ان لوگوں کی طرح نہیں کھاتے تھے جو کھانا پینا ہی مقصد زندگی سمجھتے ہیں اور ایسے طریقہ سے بیٹھتے ہیں،
جس سے خوب کھایا جا سکے،
اس لیے آپ پوری طرح چوکڑی مار کر،
خوب کھانے کے لیے نہیں بیٹھتے تھے،
بلکہ جلدی جلدی فارغ ہونے کی کوشش کرتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5331]
Sunan Abi Dawud Hadith 3771 in Urdu
مصعب بن سليم الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري