🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب الأكل باليمين
باب: دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3776
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے چاہیئے کہ داہنے ہاتھ سے کھائے، اور جب پانی پیے تو داہنے ہاتھ سے پیئے اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3776]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 13 (2020)، سنن الترمذی/الأطعمة 9 (1799)، (تحفة الأشراف: 8579)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی 4 (6)، مسند احمد (2/8، 33، 106، 146)، سنن الدارمی/الأطعمة 9 (2073) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2020)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو بكر بن عبيد الله العدوي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عبيد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو بكر بن عبيد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5267
لا يأكلن أحد منكم بشماله ولا يشربن بها إن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بها
صحيح مسلم
5265
إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه
جامع الترمذي
1800
إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه
جامع الترمذي
1799
لا يأكل أحدكم بشماله ولا يشرب بشماله فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بشماله
سنن أبي داود
3776
إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
399
إذا اكل احدكم فلياكل بيمينه وليشرب بيمينه، فإن الشيطان ياكل بشماله ويشرب بشماله
بلوغ المرام
1250
‏‏‏‏إذا اكل احدكم فلياكل بيمينه وإذا شرب فليشرب بيمينه فإن الشيطان ياكل بشماله
مسندالحميدي
648
إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه، وإذا شرب فليشرب بيمينه، فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بشماله
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3776 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3776
فوائد ومسائل:
فائدہ: دایئں ہاتھ سے کھانا پینا واجب ہے۔
نیز برے لوگوں کی مشابہت سے بچنا بھی لازم ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3776]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عبدالسلام بن محمد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1250
دائیں ہاتھ سے کھانا پینا
«وعنه رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: ‏‏‏‏إذا اكل احدكم فلياكل بيمينه وإذا شرب فليشرب بيمينه فإن الشيطان ياكل بشماله ويشرب بشماله. اخرجه مسلم» ‏‏‏‏
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے اور جب پئے تو دائیں ہاتھ کے ساتھ پئے کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ کھاتا ہے اور بائیں کے ساتھ پیتا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1250]
تخریج:
[مسلم الاشربة 5265] ،
[تحفة الاشرف 267/6، 140/6، 400/5]

فوائد:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بائیں ہاتھ سے کھانا پینا حرام ہے کیونکہ اس میں شیطان کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من تشبه بقوم فهو منهم» جو شخص کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ [ابوداؤد عن ابن عمر لباس 4] اور دیکھئیے [صحيح ابي داود 3401] جب فاسق و فاجر لوگوں کی مشابہت حرام ہے تو شیطان کی مشابہت تو بدرجہ اولیٰ حرام ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ربیب عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «يا غلام سم الله وكل بيمينك وكل مما يليك» لڑکے بسم اللہ پڑھ اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھا اور اپنے سامنے سے کھا۔ [صحيح بخاري/الاطعمة 3]
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے کہا میں اس سے نہیں کھا سکتا اس نے یہ بات صرف تکبر کی وجہ سے کہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نہ ہی کھا سکو تو اس کے بعد وہ اپنا دایاں ہاتھ اپنے منہ کی طرف نہیں اٹھا سکا۔ [مسلم عن سلمة بن الاكوع الاشربة 107]
[شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 60]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 399
کھانا دائیں ہاتھ سے کھانا چاہئے
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا اكل احدكم فلياكل بيمينه وليشرب بيمينه، فإن الشيطان ياكل بشماله ويشرب بشماله . . .»
. . . رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور (پئیے تو) اپنے دائیں ہاتھ سے پئیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 399]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 2020، من حديث ما لك به]

تفقه:
➊ معلوم ہوا کہ بغیر شرقی عذر کے بائیں ہاتھ سے کھانا پینا منع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہاتھ سے کھانا کھانے اور ایک جوتی میں چلنے سے منع فرمایا ہے۔ دیکھئے: [الموطأ ح:104، وصحيح مسلم 2099/70]
➋ کھانے پینے اور تمام امور دنیا میں آداب شریعت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
➌ شیاطین جنات کھاتے اور پیتے ہیں۔
➍ بلاعذر بائیں ہاتھ سے کھانا پینا شیطان کا طریقہ ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 62]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1250
ادب کا بیان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھانا چاہیئے اور جب کوئی مشروب نوش کرے تو اسے دائیں ہاتھ سے نوش کرنا چاہیئے۔ اس لئے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہی سے پیتا ہے۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1250»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الأشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما، حديث:2020.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانا پینا دائیں ہاتھ سے ہونا چاہیے۔
بلاعذر بائیں ہاتھ سے کھانا پینا حرام ہے اور شیطان سے مشابہت ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1250]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1799
بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1799]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ضروری ہے،
اور بائیں ہاتھ سے مکروہ ہے،
البتہ کسی عذر کی صورت میں بائیں کا استعمال کھانے پینے کے لیے جائز ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1799]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5265
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیے تو دائیں ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور اپنے بائیں سے پیتا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5265]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے دائیں ہاتھ سے کھانا اور دائیں ہاتھ سے پینا لازم ہے اور بائیں ہاتھ سے کھانا پینا شیطانی کام ہے،
اس لیے جائز نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر معاملہ میں دائیں ہاتھ سے آغاز فرماتے تھے،
ہر کام میں تیامن کو پسند فرماتے،
جو یمین اور برکت پر دلالت کرتا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا،
فاسق اور فاجر لوگوں کی عادات و خصائل سے بچنا ضروری ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5265]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5267
حضرت سالم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ہرگز اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور نہ ہرگز اس سے پیے، کیونکہ شیطان اپنے بائیں سے کھاتا اور اس سے پیتا ہے۔ اور نافع اس میں یہ اضافہ کرتے تھے: نہ بائیں سے پکڑے اور نہ اس سے دے۔ ابو طاہر کی روایت میں، لا يأكلن أحد منكم [صحيح مسلم، حديث نمبر:5267]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی چیز لیتے دیتے وقت بھی بایاں ہاتھ نہیں استعمال کرنا چاہیے اور شیطان کا بھی ہاتھ ہے،
اس لیے آپ نے اس کو پکڑ لیا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5267]