سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب في أكل الثوم
باب: لہسن کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3824
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَظُنُّهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَفْلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ثَلَاثًا".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قبلہ کی جانب تھوکا تو اس کا تھوک قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوا آئے گا، اور جس نے ان گندی سبزیوں کو کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے“ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3824]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، راوی کا خیال ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قبلے کی طرف تھوکا تو قیامت کے دن وہ شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کا تھوک اس کی آنکھوں کے درمیان لگا ہوگا، اور جس نے یہ ناپسندیدہ سبزی کھائی ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3326) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جرير بن عبدالحميد شك في رفع الحديث
فالسند معلل
وللحديث طريق موقوف عند ابن أبي شيبة (2/ 365) وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
إسناده ضعيف
جرير بن عبدالحميد شك في رفع الحديث
فالسند معلل
وللحديث طريق موقوف عند ابن أبي شيبة (2/ 365) وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3824
| من أكل من هذه البقلة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا ثلاثا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3824 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3824
فوائد ومسائل:
1۔
مسجد کے آداب کے علاوہ قبلے کے احترام میں یہ چیز بھی انتہائی اہم ہے۔
کہ ا س کی سمت میں تھوکا نہ جائے۔
نماز کی حالت ہو یا نماز سے باہر یہ بات صراحت سے کہی گئی، لیکن لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔
حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےایک شخص کو اس جرم کی پاداش میں امامت سےمعزول فرما دیا تھا۔
دیکھئے۔
(گزشتہ حدیث 482۔
کتاب الصلوة،کراهیة البزاق في المسجد)
2۔
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وحرمت وحرم مکی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آدمی کسی طرح بھی دوسروں کےلئے ازیت کا باعث نہ بنے۔
دیگر مساجد کا ادب بھی یہی ہے۔
جیسے کہ اگلی حدیث میں ہے۔
1۔
مسجد کے آداب کے علاوہ قبلے کے احترام میں یہ چیز بھی انتہائی اہم ہے۔
کہ ا س کی سمت میں تھوکا نہ جائے۔
نماز کی حالت ہو یا نماز سے باہر یہ بات صراحت سے کہی گئی، لیکن لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔
حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےایک شخص کو اس جرم کی پاداش میں امامت سےمعزول فرما دیا تھا۔
دیکھئے۔
(گزشتہ حدیث 482۔
کتاب الصلوة،کراهیة البزاق في المسجد)
2۔
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وحرمت وحرم مکی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آدمی کسی طرح بھی دوسروں کےلئے ازیت کا باعث نہ بنے۔
دیگر مساجد کا ادب بھی یہی ہے۔
جیسے کہ اگلی حدیث میں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3824]
Sunan Abi Dawud Hadith 3824 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي