علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب في الجمع بين لونين في الأكل
باب: دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3836
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ نُصَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ، فَيَقُولُ: نَكْسِرُ حَرَّ هَذَا بِبَرْدِ هَذَا وَبَرْدَ هَذَا بِحَرِّ هَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تربوز یا خربوزہ پکی ہوئی تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے تھے: ”ہم اس (کھجور) کی گرمی کو اس (تربوز) کی ٹھنڈک سے اور اس (تربوز) کی ٹھنڈک کو اس (کھجور) کی گرمی سے توڑتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16853)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 36 (1843) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4225)
مشكوة المصابيح (4225)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة حماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت | |
👤←👥سعيد بن نصير الدورقي، أبو عثمان، أبو منصور سعيد بن نصير الدورقي ← حماد بن أسامة القرشي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1843
| يأكل البطيخ بالرطب |
سنن أبي داود |
3836
| يأكل البطيخ بالرطب فيقول نكسر حر هذا ببرد هذا وبرد هذا بحر هذا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3836 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3836
فوائد ومسائل:
فائدہ: اس حدیث سے چیزوں کی طبائع اور خواص کے نظرئے کی تایئد ہوتی ہے۔
جو کہ طب قدیم میں معروف ہے۔
در حقیقت خواص اشیاء کے حوالے سے ٹھنڈی اور گرمی سے مراد وہ ٹھنڈک اور گرمی نہیں۔
جو تھرما میٹر سے ناپی جا سکتی ہے۔
بلکہ ان اشیاء کے استعمال سے انسان کو جسم میں جو کیفیت محسوس ہوتی ہے۔
اس کو ٹھنڈک یا گرمی سے تشبیہ د ے کر اس کے اظہارکرنے کا طریقہ زمانہ قدیم سے اطباء اورعام انسانوں میں ر ائج ہے۔
حتیٰ کہ انگریز ڈاکٹر بھی اس کھانے کو جس میں مرچیں اور مسالے زیادہ شامل کر دییئے جایئں۔
ویری ہاٹ کہتے ہیں۔
خواہ وہ کھانا حرارت کے حوالے سے ٹھنڈا ہی کیوں نہ ہو۔
فائدہ: اس حدیث سے چیزوں کی طبائع اور خواص کے نظرئے کی تایئد ہوتی ہے۔
جو کہ طب قدیم میں معروف ہے۔
در حقیقت خواص اشیاء کے حوالے سے ٹھنڈی اور گرمی سے مراد وہ ٹھنڈک اور گرمی نہیں۔
جو تھرما میٹر سے ناپی جا سکتی ہے۔
بلکہ ان اشیاء کے استعمال سے انسان کو جسم میں جو کیفیت محسوس ہوتی ہے۔
اس کو ٹھنڈک یا گرمی سے تشبیہ د ے کر اس کے اظہارکرنے کا طریقہ زمانہ قدیم سے اطباء اورعام انسانوں میں ر ائج ہے۔
حتیٰ کہ انگریز ڈاکٹر بھی اس کھانے کو جس میں مرچیں اور مسالے زیادہ شامل کر دییئے جایئں۔
ویری ہاٹ کہتے ہیں۔
خواہ وہ کھانا حرارت کے حوالے سے ٹھنڈا ہی کیوں نہ ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3836]
Sunan Abi Dawud Hadith 3836 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق