یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب ما يقول الرجل إذا طعم
باب: کھانے کے بعد کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3851
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى، وَسَوَّغَهُ، وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھاتے یا پیتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعم وسقى، وسوغه، وجعل له مخرجا» ”ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، اسے خوشگوار بنایا اور اس کے نکلنے کی راہ بنائی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3851]
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کچھ کھاتے پیتے تو یوں کہا کرتے تھے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَىٰ وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا» ”حمد اس اللہ کی جس نے کھلایا، پلایا، اسے خوش گوار بنایا اور اس کے باہر نکلنے کا نظام بھی بنا دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3467)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6894)، الیوم واللیلة (285) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4207)
مشكوة المصابيح (4207)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3851
| الحمد لله الذي أطعم وسقى وسوغه وجعل له مخرجا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3851 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3851
فوائد ومسائل:
فائدہ: یوں تو ہرہر نعمت اللہ تعالیٰ کا خاص فضل واحسان ہے۔
لیکن مذکورہ بالا چاروں نعمتیں اپنے ضمن میں مذید بے شمار نعمتیں لیے ہوئے ہیں۔
جو بجائے خود قابل حمد ہیں۔
فائدہ: یوں تو ہرہر نعمت اللہ تعالیٰ کا خاص فضل واحسان ہے۔
لیکن مذکورہ بالا چاروں نعمتیں اپنے ضمن میں مذید بے شمار نعمتیں لیے ہوئے ہیں۔
جو بجائے خود قابل حمد ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3851]
Sunan Abi Dawud Hadith 3851 in Urdu
عبد الله بن يزيد المعافري ← أبو أيوب الأنصاري