سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب كَيْفَ الرُّقَى
باب: جھاڑ پھونک کیسے ہو؟
حدیث نمبر: 3890
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ يَعْنِي لِثَابِتٍ:" أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ الْبَاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِهِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے ثابت سے کہا: کیا میں تم پر دم نہ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ضرور کیجئے، تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت اشفه شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرمانے والے شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے نہیں کوئی شفاء دینے والا سوائے تیرے تو اسے ایسی شفاء دے جو بیماری کو باقی نہ رہنے دے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3890]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جناب ثابت بنانی سے کہا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (سکھایا ہوا) دم نہ کروں؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ تو انہوں نے کہا: «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِهِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے اللہ! لوگوں کے پالنے والے! دکھوں کے دور کرنے والے! شفاء عنایت فرما، تو ہی شافی ہے، تیرے سوا کوئی شفاء نہیں دے سکتا، اسے شفاء دے ایسی شفاء جو کوئی بیماری نہ رہنے دے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 38 (5742)، سنن الترمذی/الجنائز 4 (973)،سنن النسائی/الیوم واللیلة (1022)، (تحفة الأشراف: 1034)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/151) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5742)
حدیث نمبر: 3891
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيرٍ، أَخْبَرَهُ،عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُثْمَانُ:" وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُهْلِكُنِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: امْسَحْهُ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ".
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عثمان کہتے ہیں: اس وقت مجھے ایسا درد ہو رہا تھا کہ لگتا تھا کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا داہنا ہاتھ اس پر سات مرتبہ پھیرو اور کہو: «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد» ”میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس چیز کی برائی سے جو میں پاتا ہوں“۔ میں نے اسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے جو تکلیف تھی وہ دور فرما دی اس وقت سے میں برابر اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو اس کا حکم دیا کرتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3891]
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ مجھے بڑا سخت درد ہو رہا تھا، قریب تھا کہ مجھے ہلاک کر دے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درد کی جگہ پر سات بار اپنا داہنا ہاتھ پھیرو اور یوں کہو «أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللّٰهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ» ”میں اللہ کی عزت اور قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس تکلیف سے جس میں میں مبتلا ہوں۔“”چنانچہ میں نے ایسے ہی کیا تو اللہ نے میری تکلیف دور کر دی۔ تب سے میں اپنے گھر والوں اور دوسروں کو یہ دم بتاتا آ رہا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 24 (2202)، سنن الترمذی/الطب 29 (80 20)، سنن ابن ماجہ/الطب 36 (3522)، (تحفة الأشراف: 9774)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 4 (9)، مسند احمد (4/21، 217) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رواه مسلم (2202)
رواه مسلم (2202)
حدیث نمبر: 3892
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ زِيَادَةَ بِنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنِ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوِ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهُ، فَلْيَقُلْ: رَبُّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ فَيَبْرَأَ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے جو بیمار ہو یا جس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے: «ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض كما رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على هذا الوجع» ”ہمارے رب! جو آسمان کے اوپر ہے تیرا نام پاک ہے، تیرا ہی اختیار ہے آسمان اور زمین میں، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی رحمت زمین پر بھی نازل فرما، ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے، تو (رب پروردگار) ہے پاک اور اچھے لوگوں کا، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاء میں سے ایک شفاء اس درد پر بھی نازل فرما“ تو وہ صحت یاب ہو جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3892]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”تم میں سے جس کو کوئی تکلیف ہو جائے یا اس کا بھائی بیمار ہو جائے تو اسے یوں دم کرے «رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ» ”ہمارا رب اللہ ہے جو آسمان میں ہے۔ (اے اللہ!) تیرا نام مقدس ہے، آسمان اور زمین میں تیرا حکم نافذ ہے، تیری رحمت جس طرح آسمان میں (عام) ہے زمین میں بھی (عام) کر دے، ہمارے گناہ اور خطائیں معاف کر دے، تو پاک لوگوں کا رب ہے، اپنی رحمت اور شفاء کا ایک حصہ اس بیماری پر نازل فرما دے۔“ تو وہ شفاء پا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10957) (ضعیف)» (اس کے راوی زیادہ بن محمد منکر الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زيادة بن محمد : منكر الحديث (تق: 2113)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139
إسناده ضعيف
زيادة بن محمد : منكر الحديث (تق: 2113)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139
حدیث نمبر: 3893
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْفَزَعِ كَلِمَاتٍ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ" وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرٍو يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ عَقَلَ مِنْ بَنِيهِ وَمَنْ لَمْ يَعْقِلْ كَتَبَهُ فَأَعْلَقَهُ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں (خواب میں) ڈرنے پر یہ کلمات کہنے کو سکھلاتے تھے: «أعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلموں کی اس کے غصہ سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کے میرے پاس آنے سے“۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے ان بیٹوں کو جو سمجھنے لگتے یہ دعا سکھاتے اور جو نہ سمجھتے تو ان کے گلے میں اسے لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3893]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ڈر یا گھبراہٹ کے موقع پر انہیں یہ کلمات سکھایا کرتے تھے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ» ”میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، اس کی ناراضی سے، اس کے بندوں کی شرارتوں سے، شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئیں۔“ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے سمجھدار بچوں کو یہ کلمات سکھا دیا کرتے تھے اور جو ناسمجھ ہوتے، انہیں لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 93 (8781)، (تحفة الأشراف: 8781)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/181) (حسن)» (عبداللہ بن عمرو کا اثر صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله وكان عبدالله
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3528)
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139
إسناده ضعيف
ترمذي (3528)
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139
حدیث نمبر: 3894
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَة، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَت: أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَفَثَ فِيَّ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ".
یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں چوٹ کا ایک نشان دیکھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ چوٹ خیبر کے دن لگی تھی، لوگ کہنے لگے تھے: سلمہ رضی اللہ عنہ کو ایسی چوٹ لگی ہے (اب بچ نہیں سکیں گے) تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے تین بار مجھ پر دم کیا اس کے بعد سے اب تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں محسوس ہوئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3894]
جناب یزید بن ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سلمہ (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کی پنڈلی پر تلوار لگنے کا نشان دیکھا، میں نے پوچھا کہ ”یہ کیسا نشان ہے؟“ تو انہوں نے بتایا کہ ”یہ مجھے خیبر کے روز لگی تھی اور لوگ کہنے لگے کہ ”سلمہ تو گیا!“ تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر تین بار پھونک ماری (جس میں ہلکا سا لعاب دہن بھی تھا) تو اس کے بعد سے اب تک مجھے اس کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 38 (4206)، (تحفة الأشراف: 4546)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/48) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4206)
حدیث نمبر: 3895
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لِلإِنْسَانِ إِذَا اشْتَكَى يَقُولُ بِرِيقِهِ، ثُمَّ قَالَ بِهِ فِي التُّرَابِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی اپنی بیماری کی شکایت کرتا تو آپ اپنا لعاب مبارک لیتے پھر اسے مٹی میں لگا کر فرماتے: «تربة أرضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا» ”یہ ہماری زمین کی خاک ہے ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا بیمار ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3895]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جب کوئی شخص بیمار ہو جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا لعاب لیتے پھر اسے مٹی لگاتے اور یوں فرماتے: «تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا» ”مٹی ہماری زمین کی، ہمارے ایک کے لعاب کے ساتھ، شفا پائے ہمارا مریض، ہمارے رب کے حکم سے۔“” [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 38 (5745)، صحیح مسلم/السلام 21 (2194)، سنن ابن ماجہ/الطب 36 (3521)، (تحفة الأشراف: 17906)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/93) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5745) صحيح مسلم (2194)
حدیث نمبر: 3896
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ،" أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدِهِ فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ عِنْدَهُمْ رَجُلٌ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ أَهْلُهُ: إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ فَهَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُدَاوِيهِ، فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ فَأَعْطَوْنِي مِائَةَ شَاةٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: هَلْ إِلَّا هَذَا"، وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: هَلْ قُلْتَ غَيْرَ هَذَا؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: خُذْهَا فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ، لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ.
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، پھر لوٹ کر جب آپ کے پاس سے جانے لگے تو ایک قوم پر سے گزرے جن میں ایک شخص دیوانہ تھا زنجیر سے بندھا ہوا تھا تو اس کے گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کے یہ ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں تو کیا آپ کے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس شخص کا علاج کریں؟ میں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کر دیا تو وہ اچھا ہو گیا، تو ان لوگوں نے مجھے سو بکریاں دیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے صرف یہی سورت پڑھی ہے؟“۔ (مسدد کی ایک دوسری روایت میں: «هل إلا هذا» کے بجائے: «هل قلت غير هذا» ہے یعنی کیا تو نے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں پڑھا؟) میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں لے لو، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو ناجائز جھاڑ پھونک کی روٹی کھاتے ہیں اور تم نے تو جائز جھاڑ پھونک پر کھایا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3896]
جناب خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا (علاقہ بن صحار سلیطی التمیمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ پھر واپس لوٹے تو ایک قوم کے پاس سے گزرے، ان کے ہاں ایک مجنون آدمی تھا جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کے گھر والوں نے ان سے کہا: ”تحقیق ہمیں خبر ملی ہے کہ تمہارا یہ صاحب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) خیر کے ساتھ آیا ہے۔ تو کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس کا علاج کر دو؟“ چنانچہ میں نے اس کو سورۂ فاتحہ سے دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔ پھر انہوں نے مجھے سو بکریاں دیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بس یہی؟“ مسدد نے دوسرے موقع پر کہا: ”کیا تم نے اس کے علاوہ بھی کچھ پڑھا تھا؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے لو۔ قسم میری عمر کی! لوگ باطل دم جھاڑ سے کھاتے ہیں، جبکہ تم ایسے دم سے کھا رہے ہو جو حق ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم:(3420)، (تحفة الأشراف: 11011) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3897
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ مَرَّ قَالَ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ، ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ.
خارجہ بن صلت سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (کچھ لوگوں پر سے) گزرے (ان میں ایک دیوانہ شخص تھا) جس پر وہ صبح و شام فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورۃ فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھو تھو کر دیتے، پھر وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3897]
جناب خارجہ بن صلت اپنے چچا (سیدنا علاقہ بن صحار سلیطی التمیمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ”وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے (اور ایک مریض کو) تین دن تک صبح و شام سورۃ فاتحہ سے دم کرتے رہے۔ جب وہ اسے پوری پڑھ لیتے تو اپنا لعاب جمع کر کے مریض پر پھونک دیتے۔ اس سے وہ گویا اپنے بندھن سے کھل گیا۔“ اس پر ان لوگوں نے ان کو کچھ مال دیا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر مذکورہ بالا حدیث مسدد کی مانند روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3420)، (تحفة الأشراف: 11011) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3420)
انظر الحديث السابق (3420)
حدیث نمبر: 3898
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مَنْ أَسْلَمَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لُدِغْتُ اللَّيْلَةَ فَلَمْ أَنَمْ حَتَّى أَصْبَحْتُ، قَالَ:" مَاذَا؟" قَالَ: عَقْرَبٌ، قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ تَضُرَّكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ".
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے سنا: اس نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا تو رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز نے؟“ اس نے عرض کیا: بچھو نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ”میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے“ تو ان شاءاللہ (اللہ چاہتا تو) وہ تم کو نقصان نہ پہنچاتا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3898]
جناب سہیل بن ابوصالح رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی آئے اور انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آج رات ڈنک لگنے کی وجہ سے میں صبح تک سو نہیں سکا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تھا؟“ انہوں نے بتایا کہ بچھو تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم شام کے وقت یہ دعا پڑھ لیتے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ”میں اللہ کے کامل کلمات کے ساتھ پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی ہے۔“ تو تمہیں ان شاء اللہ کوئی ضرر نہ پہنچتا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3898]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15564)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/448، 5/430) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3899
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَارِقٍ يَعْنِي ابْنَ مَخَاشِنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَدِيغٍ لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ، قَالَ: فَقَالَ:" لَوْ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يُلْدَغْ أَوْ لَمْ يَضُرَّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جسے بچھو نے کاٹ لیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ یہ دعا پڑھ لیتا: «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق» ”میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے“ تو وہ نہ کاٹتا یا اسے نقصان نہ پہنچاتا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3899]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جسے بچھو نے ڈنک مارا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ”میں اللہ کے کامل کلمات کے ساتھ پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی ہے۔“ کے کلمات پڑھے ہوتے تو اسے ڈنک نہ لگتا۔“ یا فرمایا: ”اسے دکھ نہ پہنچتا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13516)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب 35 (3518)، مسند احمد (2/375) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی طارق لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الزھري صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (10434) وعمل اليوم والليلة (598)
الزھري صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (10434) وعمل اليوم والليلة (598)