علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب في المواقيت
باب: اوقات نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ عليه السلام قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ، فَقَالَ عُرْوَةُ، سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" نَزَلَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلَاةِ فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ، وَصَلَّى الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ كَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ التَّغْلِيسَ حَتَّى مَاتَ، وَلَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ مَعْمَرٌ، وَمَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَغَيْرُهُمْ، لَمْ يَذْكُرُوا الْوَقْتَ الَّذِي صَلَّى فِيهِ وَلَمْ يُفَسِّرُوهُ، وَكَذَلِكَ أَيْضًا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ عُرْوَةَ، نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْمَرٍ وَأَصْحَابِهِ، إِلَّا أَنَّ حَبِيبًا لَمْ يَذْكُرْ بَشِيرًا، وَرَوَى وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقْتَ الْمَغْرِبِ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ يَعْنِي مِنَ الْغَدِ وَقْتًا وَاحِدًا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ يَعْنِي مِنَ الْغَدِ وَقْتًا وَاحِدًا، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ حَدِيثِ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے عصر میں کچھ تاخیر کر دی، اس پر عروہ بن زبیر نے آپ سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کا وقت بتا دیا ہے؟ تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو اسے سوچ لو ۱؎۔ عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود کو کہتے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ”جبرائیل علیہ السلام اترے، انہوں نے مجھے اوقات نماز کی خبر دی، چنانچہ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی“، آپ اپنی انگلیوں پر پانچوں (وقت کی) نماز کو شمار کرتے جا رہے تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سورج ڈھلتے ہی ظہر پڑھی، اور جب کبھی گرمی شدید ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دیر کر کے پڑھتے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر اس وقت پڑھتے دیکھا جب سورج بالکل بلند و سفید تھا، اس میں زردی نہیں آئی تھی کہ آدمی عصر سے فارغ ہو کر ذوالحلیفہ ۲؎ آتا، تو سورج ڈوبنے سے پہلے وہاں پہنچ جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب سورج ڈوبتے ہی پڑھتے اور عشاء اس وقت پڑھتے جب آسمان کے کناروں میں سیاہی آ جاتی، اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء میں دیر کرتے تاکہ لوگ اکٹھا ہو جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھی، اور دوسری مرتبہ آپ نے اس میں اسفار ۳؎ کیا یعنی خوب اجالے میں پڑھی، مگر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر ہمیشہ غلس میں پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کبھی اسفار میں نماز نہیں ادا کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث زہری سے: معمر، مالک، ابن عیینہ، شعیب بن ابوحمزہ، لیث بن سعد وغیرہم نے بھی روایت کی ہے لیکن ان سب نے (اپنی روایت میں) اس وقت کا ذکر نہیں کیا، جس میں آپ نے نماز پڑھی، اور نہ ہی ان لوگوں نے اس کی تفسیر کی ہے، نیز ہشام بن عروہ اور حبیب بن ابی مرزوق نے بھی عروہ سے اسی طرح روایت کی ہے جس طرح معمر اور ان کے اصحاب نے روایت کی ہے، مگر حبیب نے (اپنی روایت میں) بشیر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور وہب بن کیسان نے جابر رضی اللہ عنہ سے، جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کے وقت کی روایت کی ہے، اس میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن مغرب کے وقت سورج ڈوبنے کے بعد آئے یعنی دونوں دن ایک ہی وقت میں آئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل نے مجھے دوسرے دن مغرب ایک ہی وقت میں پڑھائی“۔ اسی طرح عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے یعنی حسان بن عطیہ کی حدیث جسے وہ عمرو بن شعیب سے، وہ ان کے والد سے، وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے، اور عبداللہ بن عمرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 394]
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے اور نمازِ عصر میں انہوں نے کچھ تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے ان سے کہا: ”یاد رہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کے اوقات کی خبر دی ہے۔“ تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے کہا: ”اپنی بات پر ذرا غور کیجیے!“ تو عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابی مسعود رحمہ اللہ سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے میں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: ”جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور مجھے نماز کے اوقات کی اطلاع دی اور میں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر پڑھی، پھر پڑھی، پھر پڑھی، پھر پڑھی۔“ آپ رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہوئے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کو شمار بھی کر رہے تھے۔ ”تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نمازِ ظہر پڑھتے تھے جبکہ سورج ڈھل جاتا تھا اور سخت گرمی کے وقت کبھی مؤخر بھی کر لیتے تھے۔ اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ عصر کی نماز پڑھتے تھے جبکہ سورج اونچا اور سفید ہوتا تھا، زردی آنے سے پہلے پہلے۔ آدمی نماز پڑھ کر نکلتا اور غروب سے پہلے پہلے ذوالحلیفہ مقام تک پہنچ جاتا تھا۔ اور مغرب کی نماز پڑھتے جس وقت کہ سورج غروب ہو جاتا اور عشاء پڑھتے جبکہ افقِ مغرب سیاہ ہو جاتا اور کبھی مؤخر بھی کر دیتے۔ حتیٰ کہ لوگ جمع ہو جاتے اور فجر کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اندھیرے میں پڑھی اور ایک دفعہ پڑھی تو روشن کر دی، مگر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اندھیرے ہی میں ہوا کرتی تھی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور کبھی روشن نہ کی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو زہری رحمہ اللہ سے معمر، مالک، ابن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ اور لیث بن سعد رحمہم اللہ وغیرہ نے روایت کیا ہے مگر اس میں وہ وقت ذکر نہیں کیا جس میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور نہ ان لوگوں نے اس طرح تفصیل بیان کی ہے۔ اور ایسے ہی ہشام بن عروہ اور حبیب بن ابی مرزوق نے عروہ سے معمر اور اس کے ساتھیوں کی مانند روایت کیا ہے مگر حبیب نے بشیر کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ اور وہب بن کیسان نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کا وقت روایت کیا ہے۔ کہا کہ ”پھر دوسرے دن (جبرائیل علیہ السلام) مغرب کے لیے آئے جبکہ سورج غروب ہو گیا۔ ایک ہی وقت میں (یعنی پہلے اور دوسرے دن کا وقت ایک ہی تھا)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کیا ہے یعنی: ”پھر مجھے اگلے دن نمازِ مغرب پڑھائی۔ ایک ہی وقت میں۔“ اور اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے بہ سند «حَسَّانِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «م /المساجد 31 (610)، سنن النسائی/ المواقیت 1 (495)، سنن ابن ماجہ/ الصلاة 1 (668)، (تحفة الأشراف: 9977)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ المواقیت 1 (521)، وبدء الخلق 6 (3221)، والمغازي 12 (4007)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1(1)، مسند احمد (4/120)، سنن الدارمی/الصلاة 3 (1223) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: عمر بن عبدالعزیز کو اس حدیث کے متعلق شبہہ ہوا کہ کہیں یہ ضعیف نہ ہو کیونکہ عروہ نے اسے بغیر سند بیان کیا تھا، یا یہ شبہہ ہوا کہ اوقات نماز کی نشاندہی تو اللہ تعالی نے معراج کی رات میں خود براہ راست کر دی ہے اس میں جبرئیل علیہ السلام کا واسطہ کہاں سے آ گیا، یا جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کیسے کی جبکہ وہ مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کمتر ہیں، چنانچہ انہیں شبہات کے ازالہ کے لئے عروہ نے اسے مع سند بیان کرنا شروع کیا۔ ۲؎: ذوالحلیفہ مدینہ سے مکہ کے راستہ میں دو فرسخ (چھ میل یا ساڑھے نو کیلو میٹر) کی دوری پر ہے، اس وقت یہ بئر علی یا ابیار علی سے معروف ہے، یہ اہل مدینہ اور مدینہ کے راستہ سے گزرنے والے حجاج اور معتمرین کی میقات ہے۔ ۳؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر میں یہ پڑھنا جواز کے بیان کے لئے تھا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ غلس ہی میں فجر ادا کی۔
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
للحديث شواھد حسن عند الحاكم (1/190 تا 193) وصححه الحاكم عليٰ شرط الشيخين ووافقه الذهبي . أسامة بن زيد الليثي وثقه الجمهور، وصرح الزھري بالسماع في أصل الحديث عند البيھقي (1/441)
للحديث شواھد حسن عند الحاكم (1/190 تا 193) وصححه الحاكم عليٰ شرط الشيخين ووافقه الذهبي . أسامة بن زيد الليثي وثقه الجمهور، وصرح الزھري بالسماع في أصل الحديث عند البيھقي (1/441)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
394
| صلى الظهر حين تزول الشمس وربما أخرها حين يشتد الحر يصلي العصر والشمس مرتفعة بيضاء |
مسندالحميدي |
456
| نزل جبريل فأمني فصليت معه ثم نزل فأمني فصليت معه ثم نزل فأمني فصليت معه حتى عد الصلوات الخمس |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 394 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 394
سنن ابی داود کی ایک روایت میں آیا ہے کہ «ثم كانت صلاته بعد ذلك التغليس حتي مات ولم يعد إلى أن يسفر» پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی وفات تک اندھیرے میں (صبح کی) نماز پڑھتے رہے اور (دوبارہ) روشنی میں نماز نہیں پڑھی۔ [سنن ابي داود: 394، دله شاهد فى مستدرك الحاكم 190/1 ح682 فالحديث به حسن]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس روایت میں ”نمازِ فجر کو خوب رو شن کر کے پڑھو“ آیا ہے، وہ منسوخ ہے۔ نیز دیکھئے: [هدية المسلمين ح8]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھو۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 456/1 و سنده حسن]
... اصل مضمون دیکھیں ...
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس روایت میں ”نمازِ فجر کو خوب رو شن کر کے پڑھو“ آیا ہے، وہ منسوخ ہے۔ نیز دیکھئے: [هدية المسلمين ح8]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھو۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 456/1 و سنده حسن]
... اصل مضمون دیکھیں ...
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:456
456- زہری بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیزؒ نے نماز ادا کرنے میں تاخیر کردی تو عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے میری امامت کی میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی، پھر وہ نازل ہوئے انہوں نے میری امامت کی، میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی، پھر نازل ہوئے انہوں نے نے میری امامت کی، تو میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی، یہاں تک کہ راوی نے پانچ نمازوں کا تذکرہ کیا“، تو عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا: ”اللہ سے ڈرو، اے عروہ! اور اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔“ تو عروہ نے کہا: بشر بن اب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:456]
فائدہ:
نمازوں کے اوقات کی تعیین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین علیہ السلام کو بھیجا، وہ دو دن مستقل نماز وں کے اوقات کی تعیین کے لیے آئے اور ہر نماز کا اول اور آخر وقت سمجھا کر گئے، والحمد للہ
جس طرح قرآن وحی ہے، اس طرح حدیث بھی وحی ہے، یہ دونوں حجت ہیں، حدیث نے ہی بتایا ہے کہ یہ قرآن ہے، جو انسان صراط مستقیم سے ہٹ جائے اور عقل کے پیچھے لگ کر احادیث کا انکار کرنا شروع کر دے، حقیقت میں وہ قرآن کا بھی منکر ہے، کیونکہ اس کو کس نے بتایا کہ یہ قرآن ہے؟
نمازوں کے اوقات کی تعیین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین علیہ السلام کو بھیجا، وہ دو دن مستقل نماز وں کے اوقات کی تعیین کے لیے آئے اور ہر نماز کا اول اور آخر وقت سمجھا کر گئے، والحمد للہ
جس طرح قرآن وحی ہے، اس طرح حدیث بھی وحی ہے، یہ دونوں حجت ہیں، حدیث نے ہی بتایا ہے کہ یہ قرآن ہے، جو انسان صراط مستقیم سے ہٹ جائے اور عقل کے پیچھے لگ کر احادیث کا انکار کرنا شروع کر دے، حقیقت میں وہ قرآن کا بھی منکر ہے، کیونکہ اس کو کس نے بتایا کہ یہ قرآن ہے؟
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 456]
Sunan Abi Dawud Hadith 394 in Urdu
بشير بن أبي مسعود الأنصاري ← أبو مسعود الأنصاري