سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب فيمن روى أنه، لا يستسعي
باب: جنہوں نے اس حدیث میں محنت کرانے کا ذکر نہیں کیا ان کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3948
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ ابْنِ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا"أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ، فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَحْمَدُ: إِنَّمَا هُوَ بِالتَّاءِ يَعْنِي التَّلِبَّ وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغُ لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّاءِ.
تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ احمد کہتے ہیں: (صحابی کا نام) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3948]
ابن التلب (ابن التلب ملقام) اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے (مشترک) مملوک میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی کا ضامن اور ذمہ دار نہیں بنایا تھا۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”راوی (ابن التلب) ”تا“ کے ساتھ ہے اور شعبہ رحمہ اللہ قدرے توتلے تھے، ”تا“ (دو نقطے والے) کو ”ثا“ (تین نقطے والے) سے نمایاں نہ کر سکتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 0502) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی ملقام بن تلب مجہول الحال ہیں، اور ان کی یہ روایت سابقہ صحیح روایات کے مخالف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ملقام مستور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
إسناده ضعيف
ملقام مستور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3948
| أعتق نصيبا له من مملوك لم يضمنه النبي |
Sunan Abi Dawud Hadith 3948 in Urdu
ملقام بن التلب التميمي ← تلب بن ثعلبة التميمي