سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب من كرهه
باب: ریشم کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4049
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ يَعْنِي الْهَيْثَمَ بْنَ شَفِيٍّ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُكْنَى أَبَا عَامِرٍ رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ لِنُصَلِّيَ بِإِيلْيَاءَ وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَدِفْتُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلَنِي هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ: عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ أَوْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى وَرُكُوبِ النُّمُورِ وَلُبُوسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ذِكْرُ الْخَاتَمِ.
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر کے تھے دونوں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ و خطیب قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک صحابی تھے۔ میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا: نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: ”دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، بال اکھیڑنے سے، اور دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، اور دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، اور مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، اور دوسروں کے مال لوٹنے سے اور درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ کے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں انگوٹھی کا ذکر منفرد ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4049]
ابوالحصین ہیثم بن شفی کا بیان ہے کہ میں اور میرا ایک ساتھی، جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر سے تعلق رکھتا تھا، ہم روانہ ہوئے کہ بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھیں۔ ان دنوں ان لوگوں کا واعظ قبیلہ ازد کا ایک آدمی تھا جسے ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا اور وہ صحابی تھے۔ ابوالحصین نے کہا کہ میرا ساتھی مجھ سے پہلے مسجد میں چلا گیا، میں اس کے بعد پہنچا اور اس کے ساتھ جا بیٹھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے ابوریحانہ کے وعظ سے کچھ سنا ہے؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: ”میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: (1) دانت باریک کروانے سے (ان میں قدرے خلا آ جائے اور خوبصورت نظر آئیں) (2) جسم گدوانے سے (کہ اس میں نقش و نگار بنائے جائیں یا نام وغیرہ لکھا جائے) (3) بال نوچنے سے (پلکوں اور چہرے کے کہ خوبصورت نظر آئے) (4) کسی مرد کا کسی دوسرے مرد کے ساتھ لپٹنے سے جبکہ انہوں نے کپڑے نہ پہنے ہوئے ہوں (5) کسی عورت کا دوسری عورت کے ساتھ لپٹنے سے جبکہ انہوں نے کپڑے نہ پہنے ہوں (6) عجمیوں (غیر مسلموں) کی طرح کپڑوں کے نیچے ریشمی استر لگانے سے (7) یا یہ کہ کوئی عجمیوں کی طرح اپنے کندھوں پر ریشمی چادر ڈالے (8) لوٹ مار کرنے سے (9) چیتوں کی کھال بطور گدی یا سیٹ استعمال کرنے سے اور (10) انگوٹھی پہننے سے سوائے اس کے کہ کوئی منصب دار ہو (تو اس کے لیے جائز ہے)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس حدیث میں انگوٹھی کا ذکر منفرد ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة 20 (5094)، 27 (5113، 5114، 5115)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 47 (3655)، (تحفة الأشراف: 12039)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/134، 135)، سنن الدارمی/الاستئذان 20 (2690) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5094) وغيره،ابن ماجه (3655)
أبو عامر المعافري الحجري : لم أجد من وثقه وھو : مجهول الحال كما في التحرير (8200)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
إسناده ضعيف
نسائي (5094) وغيره،ابن ماجه (3655)
أبو عامر المعافري الحجري : لم أجد من وثقه وھو : مجهول الحال كما في التحرير (8200)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4049
| الوشر الوشم النتف عن مكامعة الرجل الرجل بغير شعار عن مكامعة المرأة المرأة بغير شعار أن يجعل الرجل في أسفل ثيابه حريرا مثل الأعاجم يجعل على منكبيه حريرا مثل الأعاجم عن النهبى ركوب النمور لبوس الخاتم إلا لذي سلطان |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4049 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4049
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم مذکورہ مسائل دیگر صحیح روایات سے ثابت ہیں اور انگوٹھی سے مراد وہ خاص مہر والی انگوٹھی ہے جو اصحاب حکومت اور منصف دارلوگ استعمال کرتے ہیں اور انہی کے لئے مخصوص ہوتی ہے ورنہ عام انگوٹھی پہننا جائز ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم مذکورہ مسائل دیگر صحیح روایات سے ثابت ہیں اور انگوٹھی سے مراد وہ خاص مہر والی انگوٹھی ہے جو اصحاب حکومت اور منصف دارلوگ استعمال کرتے ہیں اور انہی کے لئے مخصوص ہوتی ہے ورنہ عام انگوٹھی پہننا جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4049]
Sunan Abi Dawud Hadith 4049 in Urdu
عياش بن عباس القتباني ← الهيثم بن شفي الرعيني