سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب في البياض
باب: سفید کپڑوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4061
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا خَيْرُ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے بہتر کپڑوں میں سے ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفناؤ اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ نگاہ کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (3878)، (تحفة الأشراف: 5534) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1638)
انظر الحديث السابق (3878)
مشكوة المصابيح (1638)
انظر الحديث السابق (3878)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1757
| اكتحلوا بالإثمد فإنه يجلو البصر وينبت الشعر له مكحلة يكتحل بها كل ليلة ثلاثة في هذه وثلاثة في هذه عليكم بالإثمد فإنه يجلو البصر وينبت الشعر |
جامع الترمذي |
994
| البسوا من ثيابكم البياض فإنها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم |
سنن أبي داود |
4061
| البسوا من ثيابكم البياض فإنها خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم خير أكحالكم الإثمد يجلو البصر وينبت الشعر |
سنن أبي داود |
3878
| البسوا من ثيابكم البياض فإنها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم خير أكحالكم الإثمد يجلو البصر وينبت الشعر |
سنن ابن ماجه |
1472
| خير ثيابكم البياض فكفنوا فيها موتاكم والبسوها |
سنن ابن ماجه |
3566
| خير ثيابكم البياض فالبسوها وكفنوا فيها موتاكم |
سنن ابن ماجه |
3497
| خير أكحالكم الإثمد يجلو البصر وينبت الشعر |
المعجم الصغير للطبراني |
609
| من خير ثيابكم البياض فألبسوها أحياءكم وكفنوا فيها موتاكم خير أكحالكم الإثمد وإنه يجلو البصر وينبت الشعر |
سنن النسائى الصغرى |
5116
| خير أكحالكم الإثمد إنه يجلو البصر وينبت الشعر |
بلوغ المرام |
439
| البسوا من ثيابكم البياض فإنها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم |
مسندالحميدي |
530
| خير ثيابكم البياض ليلبسها أحياؤكم وكفنوا فيها موتاكم، وخير كحالكم الإثمد؛ إنه يجلو البصر، وينبت الشعر |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4061 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4061
فوائد ومسائل:
مستحب ہے کہ انسان سفید کپڑے پہنا کرے اور میت کو بھی سفید کفن دیا جائے۔
مستحب ہے کہ انسان سفید کپڑے پہنا کرے اور میت کو بھی سفید کفن دیا جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4061]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 439
مرنے والوں کو سفید کفن دینا
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید لباس زیب تن کیا کرو یہ تمہارے ملبوسات میں بہترین اور عمدہ لباس ہے اور اپنے مرنے والوں کو بھی اس میں کفن دیا کرو . . .“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 439]
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید لباس زیب تن کیا کرو یہ تمہارے ملبوسات میں بہترین اور عمدہ لباس ہے اور اپنے مرنے والوں کو بھی اس میں کفن دیا کرو . . .“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 439]
فوائد و مسائل: ➊ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سفید لباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ و محبوب لباس تھا، گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ دار لباس بھی زیب تن فرمایا ہے۔
➋ مرنے والوں کو بھی سفید کفن ہی دینا چاہیے۔ بامر مجبوری دوسرے رنگ کا کپڑا بھی کفن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
➋ مرنے والوں کو بھی سفید کفن ہی دینا چاہیے۔ بامر مجبوری دوسرے رنگ کا کپڑا بھی کفن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 439]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5116
سرمہ کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہترین سرمہ اثمد (ایک پتھر) ہوتا ہے، وہ نظر تیز کرتا اور بال اگاتا ہے۔“ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان بن خثیم لین الحدیث ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5116]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہترین سرمہ اثمد (ایک پتھر) ہوتا ہے، وہ نظر تیز کرتا اور بال اگاتا ہے۔“ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان بن خثیم لین الحدیث ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5116]
اردو حاشہ:
(1) اثمد سرمہ لگانا مستحب ہے۔ اور یہ استحباب مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ہے کیونکہ احادیث مبارکہ کے الفاظ عام ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اکتحلوا بالاثمد...) ”تم اثمد سرمہ لگایا کرو۔ اس سے نظر روشن اور تیز ہوتی ہے اور (پلکوں کے) بال اگتے ہیں۔“
(2) سرمہ جہاں نظرتیز کرنے کے لیے لگانا جائز ہے وہاں زینت کےلیے بھی اس کا استعمال جائز ہے۔ عورتوں کےلیے تو کوئی اختلاف نہیں، البتہ مردوں کے لیے بعض فقہاء نے بطور زینت منع فرمایا ہے کیونکہ یہ رنگ والی زنگ زینت ہے اور رنگ والی زینت مردوں کے لیے قطعاً منع ہے۔ لیکن یہ صریح نص کےمقابلے میں رائے ہے، اس لیے قبول نہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود مردوں کو سرمہ لگانے کی ترغیب بھی دی ہے۔ واللہ أعلم
(1) اثمد سرمہ لگانا مستحب ہے۔ اور یہ استحباب مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ہے کیونکہ احادیث مبارکہ کے الفاظ عام ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اکتحلوا بالاثمد...) ”تم اثمد سرمہ لگایا کرو۔ اس سے نظر روشن اور تیز ہوتی ہے اور (پلکوں کے) بال اگتے ہیں۔“
(2) سرمہ جہاں نظرتیز کرنے کے لیے لگانا جائز ہے وہاں زینت کےلیے بھی اس کا استعمال جائز ہے۔ عورتوں کےلیے تو کوئی اختلاف نہیں، البتہ مردوں کے لیے بعض فقہاء نے بطور زینت منع فرمایا ہے کیونکہ یہ رنگ والی زنگ زینت ہے اور رنگ والی زینت مردوں کے لیے قطعاً منع ہے۔ لیکن یہ صریح نص کےمقابلے میں رائے ہے، اس لیے قبول نہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود مردوں کو سرمہ لگانے کی ترغیب بھی دی ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5116]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3878
سرمہ لگانے کے حکم کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر کپڑا ہے، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو، اور تمہارے سرموں میں سب سے اچھا اثمد ہے، وہ روشنی بڑھاتا اور (پلک کے) بالوں کو اگاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3878]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر کپڑا ہے، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو، اور تمہارے سرموں میں سب سے اچھا اثمد ہے، وہ روشنی بڑھاتا اور (پلک کے) بالوں کو اگاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3878]
فوائد ومسائل:
اثمد خاص اصفہانی سرمہ ہے جو سرخی مائل ہوتا ہے اور حجاز میں ملتا ہے۔
اثمد خاص اصفہانی سرمہ ہے جو سرخی مائل ہوتا ہے اور حجاز میں ملتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3878]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1472
کفن کے لیے کون سا کپڑا اچھا اور مستحب ہے؟
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑا ہے، لہٰذا تم اپنے مردوں کو اسی میں کفناؤ، اور اسی کو پہنو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1472]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑا ہے، لہٰذا تم اپنے مردوں کو اسی میں کفناؤ، اور اسی کو پہنو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1472]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث میں سفید لباس کی تعریف ہے۔
اور اسے بہترین قرار دیا گیا ہے۔
اس لباس میں وقار اور رعنائی ہے جو مردانہ جلال کے مطابق ہے تاہم رنگدار لباس پہننا جائز ہے بشرط یہ کہ وہ رنگ ایسا نہ ہو۔
جو عرف عام میں عورتوں کے لباس کا رنگ تصور کیا جاتا ہو کیونکہ مردوں کے لئے عورتوں سے مشابہت حرام ہے۔
(2)
کفن کے لئے سفید کپڑا بہتر ہے۔
تاہم ہلکے رنگ کا کوئی کپڑا بھی استعمال ہوسکتا ہے۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جب تمہارا کوئی فرد فوت ہوجائے اور اسے وسعت حاصل ہو تو چاہیے کہ اس کا کفن حبرہ (منقش دھاری دارچادر)
کا ہو (سنن ابی داؤد، الجنائز، باب فی الکفن: 3150)
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث میں سفید لباس کی تعریف ہے۔
اور اسے بہترین قرار دیا گیا ہے۔
اس لباس میں وقار اور رعنائی ہے جو مردانہ جلال کے مطابق ہے تاہم رنگدار لباس پہننا جائز ہے بشرط یہ کہ وہ رنگ ایسا نہ ہو۔
جو عرف عام میں عورتوں کے لباس کا رنگ تصور کیا جاتا ہو کیونکہ مردوں کے لئے عورتوں سے مشابہت حرام ہے۔
(2)
کفن کے لئے سفید کپڑا بہتر ہے۔
تاہم ہلکے رنگ کا کوئی کپڑا بھی استعمال ہوسکتا ہے۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جب تمہارا کوئی فرد فوت ہوجائے اور اسے وسعت حاصل ہو تو چاہیے کہ اس کا کفن حبرہ (منقش دھاری دارچادر)
کا ہو (سنن ابی داؤد، الجنائز، باب فی الکفن: 3150)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1472]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 994
کس رنگ کا کفن مستحب ہے؟
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو بھی کفناؤ“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 994]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو بھی کفناؤ“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 994]
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث میں امر استحباب کے لیے ہے اس امر پر اجماع ہے کہ کفن کے لیے بہتر سفید کپڑا ہی ہو۔
1؎:
اس حدیث میں امر استحباب کے لیے ہے اس امر پر اجماع ہے کہ کفن کے لیے بہتر سفید کپڑا ہی ہو۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 994]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1757
سرمہ لگانے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اثمد سرمہ لگاؤ اس لیے کہ وہ بینائی کو جلا بخشتا ہے اور پلکوں کا بال اگاتا ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ہر رات تین سلائی اس (داہنی آنکھ) میں اور تین سلائی اس (بائیں آنکھ) میں سرمہ لگاتے تھے۔“ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1757]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اثمد سرمہ لگاؤ اس لیے کہ وہ بینائی کو جلا بخشتا ہے اور پلکوں کا بال اگاتا ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ہر رات تین سلائی اس (داہنی آنکھ) میں اور تین سلائی اس (بائیں آنکھ) میں سرمہ لگاتے تھے۔“ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1757]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے،
ورنہ اس کے راوی ”عباد بن منصور“ مدلس ومختلط ہیں)
نوٹ:
(پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے،
ورنہ اس کے راوی ”عباد بن منصور“ مدلس ومختلط ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1757]
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي