🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب في وقت صلاة العصر
باب: عصر کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 408
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ:" قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً".
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے تو دیکھا کہ آپ عصر کو مؤخر کرتے جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 408]
جناب یزید بن عبدالرحمٰن بن علی بن شیبان اپنے والد سے، وہ اپنے دادا علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو (دیکھا کہ) آپ عصر کو مؤخر کرتے تھے جب تک کہ سورج سفید اور صاف ہوتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: 10019) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے دو راوی محمد بن یزید اور یزید مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن يزيد اليمامي وشيخه يزيد بن عبد الرحمٰن: مجهولان (تقريب: 6404،7747)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن شيبان السحيمىصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن علي الحنفي
Newعبد الرحمن بن علي الحنفي ← علي بن شيبان السحيمى
ثقة
👤←👥يزيد بن عبد الرحمن اليمامي
Newيزيد بن عبد الرحمن اليمامي ← عبد الرحمن بن علي الحنفي
مجهول
👤←👥محمد بن يزيد اليمامي
Newمحمد بن يزيد اليمامي ← يزيد بن عبد الرحمن اليمامي
مجهول
👤←👥إبراهيم بن أبي الوزير الهاشمي، أبو إسحاق، أبو عمرو
Newإبراهيم بن أبي الوزير الهاشمي ← محمد بن يزيد اليمامي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن العنبري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الرحمن العنبري ← إبراهيم بن أبي الوزير الهاشمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
408
يؤخر العصر ما دامت الشمس بيضاء نقية
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 408 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 408
عصر کی نماز ایک مثل پر پڑھنی چاہئے۔
دیکھئے سنن الترمذی (ج1 ص38۔ 39 ح149، وقال: حدیث حسن و سندہ حسن)
ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز تاخیر سے پڑھتے تھے، جب تک سورج سفید اور شفاف رہتا۔ [سنن ابي داود: 408]
اس روایت کی سند دو مجہول راویوں:
محمد بن یزید الیمامی اور یزید بن عبدالرحمن دونوں کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [هدية المسلمين ص25ح7]
اگر کوئی کہے کہ امام ابوداود نے اس حدیث پر سکوت کیا ہے تو عرض ہے کہ آلِ دیو بند کے نزدیک کسی حدیث پر امام ابوداود کا سکوت حجت نہیں ہے۔ مثلاًً:
ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی پھر آپ نے صحابۂ کرام سے کہا کیا تم امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟ صحابہ نے کہا جی ہاں! آپ نے فرمایا: ایسا نہ کرو سوائے سورۂ فاتحہ کے کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔ [سنن ابي داود: 823 ملخصا]
اس حدیث پر امام ابوداود نے سکوت کیا ہے لیکن محمد سرفراز خان صفدر دیو بندی نے اس کے راوی محمد بن اسحاق بن یسار کو کذاب و دجال لکھا ہے۔
دیکھئے: [احسن الكلام ج2 ص84، دوسرانسخه ج2 ص94]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہانے بعض لوگوں سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز تم سے جلدی پڑھتے تھے، جبکہ تم عصر کی نماز آپ سے جلدی پڑھتے ہو۔ [سنن الترمذي: 161]
اس حدیث سے عصر کی نماز تاخیر سے پڑھنے پر استدلال دو وجہ سے باطل ہے؟
اول: اس میں عصر کی نماز تاخیر سے پڑھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
دوم: بعض لوگوں کے بارے میں یہ صراحت کہیں بھی نہیں ہے کہ وہ ظہر کی نماز کس وقت پڑھتے تھے اور عصر کی نماز کس وقت پڑھتے تھے؟
صحیح اور صریح احادیث کو چھوڑ کر متشابہات اور غیر واضح روایات کے پیچھے وہی لوگ بھاگتے ہیں جو دلائل صحیحہ سے سراسر عاری ہوتے ہیں۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 408
408. اردو حاشیہ:
 صحیح روایات سے تاخیر کا نہیں، اول وقت میں پڑھنے کا اثبات ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 408]

Sunan Abi Dawud Hadith 408 in Urdu