سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب في وقت صلاة العصر
باب: عصر کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 409
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ:" حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے روز فرمایا: ”ہم کو انہوں نے (یعنی کافروں نے) نماز وسطیٰ (یعنی عصر) سے روکے رکھا، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو جہنم کی آگ سے بھر دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 98 (2931)، والمغازي 29 (4111)، وتفسیر البقرة (4533)، والدعوات 58 (6396)، صحیح مسلم/المساجد 35 (626)، 36 (627)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة 42 (2984)، سنن النسائی/الصلاة 14 (474)، (تحفة الأشراف: 10232)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصلاة 6 (684)، مسند احمد (1/81، 82، 113، 122، 126، 135، 137، 144، 146، 150، 151، 152، 153، 154)، سنن الدارمی/الصلاة 28 (1286) (صحیح)»
وضاحت: یہ حدیث آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» ”نمازوں کی محافظت اور پابندی کرو اور درمیانی (یا افضل) نماز کی، اور اللہ کے لیے باادب ہو کر کھڑے ہوؤ“۔ کی تفسیر کرتی ہے کہ اس میں صلوۃ وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی رحیم و شفیق شخصیت کی زبان مبارک سے اس قسم کی شدید بددعا کا جاری ہونا واضح کرتا ہے کہ نماز کا بروقت ادا کرنا کتنا اہم ہے ہمیں بھی ہر نماز بروقت ادا کرنی چاہیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2931) صحيح مسلم (627)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4533
| ملأ الله قبورهم وبيوتهم أو أجوافهم شك يحيى نارا |
صحيح البخاري |
2931
| ملأ الله بيوتهم وقبورهم نارا شغلونا عن الصلاة الوسطى حتى غابت الشمس |
صحيح البخاري |
4111
| ملأ الله عليهم بيوتهم وقبورهم نارا كما شغلونا عن صلاة الوسطى حتى غابت الشمس |
صحيح البخاري |
6396
| ملأ الله قبورهم وبيوتهم نارا كما شغلونا عن صلاة الوسطى حتى غابت الشمس |
صحيح مسلم |
1425
| شغلونا عن الصلاة الوسطى صلاة العصر ملأ الله بيوتهم وقبورهم نارا ثم صلاها بين العشاءين بين المغرب والعشاء |
صحيح مسلم |
1422
| شغلونا عن صلاة الوسطى حتى آبت الشمس ملأ الله قبورهم نارا أو بيوتهم أو بطونهم |
صحيح مسلم |
1424
| شغلونا عن الصلاة الوسطى حتى غربت الشمس ملأ الله قبورهم وبيوتهم أو قال قبورهم وبطونهم نارا |
صحيح مسلم |
1420
| ملأ الله قبورهم وبيوتهم نارا كما حبسونا وشغلونا عن الصلاة الوسطى حتى غابت الشمس |
جامع الترمذي |
2984
| اللهم املأ قبورهم وبيوتهم نارا كما شغلونا عن صلاة الوسطى حتى غابت الشمس |
سنن أبي داود |
409
| حبسونا عن صلاة الوسطى صلاة العصر ملأ الله بيوتهم وقبورهم نارا |
سنن النسائى الصغرى |
474
| شغلونا عن الصلاة الوسطى حتى غربت الشمس |
سنن ابن ماجه |
684
| ملأ الله بيوتهم وقبورهم نارا كما شغلونا عن الصلاة الوسطى |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 409 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 409
409۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ حدیث آیت کریمہ: «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» [البقره: 238]
”نماز وں کی محافت اور پابندی کرو اور درمیانی (یا افضل) نماز کی، اور اللہ کے لیے باادب ہو کر کھڑے ہوؤ۔“ کی تفسیر کرتی ہے کہ اس میں صلوۃ وسطی سے مرا د عصر کی نماز ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی رحیم وشفیق شخصیت کی زبان سے اس قسم کی شدید بددعا کا جاری ہونا واضح کرتا ہے کہ کسی ایک نماز کا بروقت ادا نہ ہونا بھی دین میں بہت بڑا خسارہ ہے۔
➊ یہ حدیث آیت کریمہ: «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» [البقره: 238]
”نماز وں کی محافت اور پابندی کرو اور درمیانی (یا افضل) نماز کی، اور اللہ کے لیے باادب ہو کر کھڑے ہوؤ۔“ کی تفسیر کرتی ہے کہ اس میں صلوۃ وسطی سے مرا د عصر کی نماز ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی رحیم وشفیق شخصیت کی زبان سے اس قسم کی شدید بددعا کا جاری ہونا واضح کرتا ہے کہ کسی ایک نماز کا بروقت ادا نہ ہونا بھی دین میں بہت بڑا خسارہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 409]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 474
نماز عصر کی محافظت کا بیان۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جنگ خندق کے موقع پر) فرمایا: ”ان لوگوں (کافروں) نے ہمیں بیچ والی نماز سے مشغول کر دیا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 474]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جنگ خندق کے موقع پر) فرمایا: ”ان لوگوں (کافروں) نے ہمیں بیچ والی نماز سے مشغول کر دیا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 474]
474 ۔ اردو حاشیہ:
➊ظاہر ہے غروب شمس سے پہلے عصر ہی کی نماز ہے۔ اسے ہی آپ نے صلاۃ وسطیٰ کہا ہے۔ صحیحین کی روایت میں اس کی صراحت ہے۔
➋غزوۂ احزاب، یعنی جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے تھے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4111، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث: 627]
➊ظاہر ہے غروب شمس سے پہلے عصر ہی کی نماز ہے۔ اسے ہی آپ نے صلاۃ وسطیٰ کہا ہے۔ صحیحین کی روایت میں اس کی صراحت ہے۔
➋غزوۂ احزاب، یعنی جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے تھے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4111، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث: 627]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 474]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث684
نماز عصر کی محافظت۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن فرمایا: ”اللہ ان کافروں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، جیسے کہ ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ (عصر کی نماز) کی ادائیگی سے باز رکھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 684]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن فرمایا: ”اللہ ان کافروں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، جیسے کہ ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ (عصر کی نماز) کی ادائیگی سے باز رکھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 684]
اردو حاشہ:
(1)
جو شخص بددعا کا مستحق ہو اسے بددعا دینا جائز ہے۔
(2)
دینی نقصان دنیاوی نقصان سے زیادہ اہم ہے۔
(3)
نماز عصر کی اہمیت دوسری نمازوں سے زیادہ ہے۔
(4)
اس واقعہ کا یہ پہلو انتہائی قابل توجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنھیں اللہ تعالی نے (رحمة للعالمين)
فرمایا ہے جب ان کی زندگی کا شدید ترین دن تھا یعنی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئےاور مشرکین نے نہ صرف یہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی اور انتہائی گستاخی سے پیش آئے بلکہ بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگا دیا جنہوں نے اس حد تک سنگ ہاری کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر لہولہان ہوگیا اس وقت بھی آپ نے ان کو بددعا دینے سے اجتناب کیا لیکن جنگ خندق میں مصروفیت کی وجہ سے نماز عصر رہ گئی تو طائف میں خاموش رہنے والی زبان سے بھی بددعا نکل گئی۔
اور بددعا بھی اتنی شدید کہ اللہ کرے کہ ان کے گھروں میں آسمان سے آگ برسے اور جب مرجائیں تو قبروں میں بھی آگ کا ایندھن بنے رہیں۔
ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو محض کاہلی کی وجہ سے یا کھیل کود میں مصروفیت کی وجہ سے یا کاروبار یا کسی دوسری مشغولیت کی وجہ سے نماز چھوڑدیتے ہیں ان کا یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں کس قدر قابل نفرت اور کتنا عظیم جرم ہے۔
اللہ ہمیں اپنے غضب سے محفوظ رکھے۔
آمین۔
(1)
جو شخص بددعا کا مستحق ہو اسے بددعا دینا جائز ہے۔
(2)
دینی نقصان دنیاوی نقصان سے زیادہ اہم ہے۔
(3)
نماز عصر کی اہمیت دوسری نمازوں سے زیادہ ہے۔
(4)
اس واقعہ کا یہ پہلو انتہائی قابل توجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنھیں اللہ تعالی نے (رحمة للعالمين)
فرمایا ہے جب ان کی زندگی کا شدید ترین دن تھا یعنی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئےاور مشرکین نے نہ صرف یہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی اور انتہائی گستاخی سے پیش آئے بلکہ بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگا دیا جنہوں نے اس حد تک سنگ ہاری کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر لہولہان ہوگیا اس وقت بھی آپ نے ان کو بددعا دینے سے اجتناب کیا لیکن جنگ خندق میں مصروفیت کی وجہ سے نماز عصر رہ گئی تو طائف میں خاموش رہنے والی زبان سے بھی بددعا نکل گئی۔
اور بددعا بھی اتنی شدید کہ اللہ کرے کہ ان کے گھروں میں آسمان سے آگ برسے اور جب مرجائیں تو قبروں میں بھی آگ کا ایندھن بنے رہیں۔
ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو محض کاہلی کی وجہ سے یا کھیل کود میں مصروفیت کی وجہ سے یا کاروبار یا کسی دوسری مشغولیت کی وجہ سے نماز چھوڑدیتے ہیں ان کا یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں کس قدر قابل نفرت اور کتنا عظیم جرم ہے۔
اللہ ہمیں اپنے غضب سے محفوظ رکھے۔
آمین۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 684]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1422
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے وقت فرمایا: ”انہوں نے ہمیں درمیانی نماز سے مشغول رکھا، حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو یا گھروں کو یا پیٹوں کو آگ سے بھر دے (گھروں اور پیٹوں کے بارے میں شعبہ کو شبہ لاحق ہوا) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1422]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
آبَتِ الشَّمس:
سورج اپنی جگہ لوٹ آیا،
یعنی غروب ہو گیا۔
مفردات الحدیث:
آبَتِ الشَّمس:
سورج اپنی جگہ لوٹ آیا،
یعنی غروب ہو گیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1422]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4533
4533. حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا: ”اللہ تعالٰی ان (کفار) کے گھروں اور قبروں یا پیٹوں کو آگ سے بھر دے کیونکہ انہوں نے ہمیں بہترین نماز کی ادائیگی سے روکے رکھا حتیٰ کہ سوج غروب ہو گیا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4533]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صلٰوة الوسطٰی سے عصر کی نماز مراد ہے۔
کچھ لوگوں نے بعض دوسری نمازوں کو بھی مراد لیا ہے۔
مگر قول راجح یہی ہے۔
اس بارے میں شارح نے ایک رسالہ لکھا ہے۔
جس کا نام ''کشف الخطا عن صلٰوة الوسطٰی'' ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صلٰوة الوسطٰی سے عصر کی نماز مراد ہے۔
کچھ لوگوں نے بعض دوسری نمازوں کو بھی مراد لیا ہے۔
مگر قول راجح یہی ہے۔
اس بارے میں شارح نے ایک رسالہ لکھا ہے۔
جس کا نام ''کشف الخطا عن صلٰوة الوسطٰی'' ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4533]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6396
6396. حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم غزوہ خندق کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراه تھے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالٰی ان کے قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے انہوں نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ نہیں پڑھنے دی کہ سورج غروب ہوگیا۔“ اور وہ عصر کی نماز تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6396]
حدیث حاشیہ:
نماز عصر ہی صلوٰۃ وسطیٰ ہے، اس نماز کی بہت خصوصیت ہے جس میں بہت سے مصالح مقصود ہیں۔
نماز عصر ہی صلوٰۃ وسطیٰ ہے، اس نماز کی بہت خصوصیت ہے جس میں بہت سے مصالح مقصود ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6396]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2931
2931. حضرت علی ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان (قبائل مشرکین) کے گھر اورقبریں آگ سے بھر دے انھوں نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ، یعنی نماز عصر سے روکا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2931]
حدیث حاشیہ:
1۔
غزوہ احزاب کے دن جب مسلمان سخت مصیبت میں مبتلا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے خلاف بددعا فرمائی جو قبول ہوئی اور وہ شکست کھا کر بھاگ گئے۔
آپ نے فرمایا:
”اے اللہ!ان کے گھر آگ سے بھردے۔
"جب کسی کے گھرمیں آگ لگ جائے تو سخت مضطرب اور انتہائی پریشان ہوتا ہے۔
ان الفاظ سے شکست کھانے اور پاؤں پھسلنے کو ثابت کیا ہے۔
2۔
آگے ایک حدیث میں صراحت ہے کہ آپ نے ان الفاظ میں دعا کی:
" اے اللہ!انھیں شکست دے اور انھیں اچھی طرح جھنجھوڑ کر رکھ دے۔
“ (صحیح البخاري، الجهاد، حدیث: 2933)
1۔
غزوہ احزاب کے دن جب مسلمان سخت مصیبت میں مبتلا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے خلاف بددعا فرمائی جو قبول ہوئی اور وہ شکست کھا کر بھاگ گئے۔
آپ نے فرمایا:
”اے اللہ!ان کے گھر آگ سے بھردے۔
"جب کسی کے گھرمیں آگ لگ جائے تو سخت مضطرب اور انتہائی پریشان ہوتا ہے۔
ان الفاظ سے شکست کھانے اور پاؤں پھسلنے کو ثابت کیا ہے۔
2۔
آگے ایک حدیث میں صراحت ہے کہ آپ نے ان الفاظ میں دعا کی:
" اے اللہ!انھیں شکست دے اور انھیں اچھی طرح جھنجھوڑ کر رکھ دے۔
“ (صحیح البخاري، الجهاد، حدیث: 2933)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2931]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4533
4533. حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا: ”اللہ تعالٰی ان (کفار) کے گھروں اور قبروں یا پیٹوں کو آگ سے بھر دے کیونکہ انہوں نے ہمیں بہترین نماز کی ادائیگی سے روکے رکھا حتیٰ کہ سوج غروب ہو گیا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4533]
حدیث حاشیہ:
1۔
صلاۃ وسطیٰ سے مراد کون سی نماز ہے؟ اس کے متعلق اہل علم میں کافی اختلاف ہے۔
حافظ ابن حجرؒ نے اس کی تعیین میں تقریباً انیس اقوال لکھے ہیں اور فرمایا ہے:
حافظ شرف الدین دمیاطی نے اس کے متعلق ایک مستقل رسالہ "کشف الغطاء عن الصلاة الوسطیٰ" کے نام سے لکھا ہے۔
(فتح الباري: 246/8)
2-
امام بخاری ؒ نے جو روایت پیش کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد نماز عصرہے کیونکہ غروب آفتاب سے پہلے نماز عصر ہی پڑھی جاتی ہے بلکہ ایک روایت میں صراحت ہے کہ انھوں نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ یعنی نماز عصر ادا کرنے سے مشغول رکھا۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث1426۔
(628)
نیز اس روایت سے نماز کی بروقت ادا ئیگی کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے حتی کہ بروقت ادائیگی میں حائل ہونے والوں کو سب وشتم کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور ان کے لیے بددعا کی جا سکتی ہے۔
3۔
امام بخاری ؓ کا اپنا رجحان بھی معلوم ہوتا ہے کہ صلاۃ وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے، چنانچہ سورہ رحمٰن کی تفسیرکرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
﴿فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ﴾ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ انار اور کھجورفاکحہ نہیں ہیں لیکن عرب انھیں فاکحہ ہی کہتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"تم نمازوں کی حفاظت کرو خاص طور پر صلاۃ وسطیٰ کا خیال رکھو۔
" اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے پھر نماز عصر کو اس کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر الگ بیان کیا ہے جیسا کہ فاکحہ کے بعد انار اور کھجور کا ذکر دوبارہ کیا ہے۔
(صحیح مسلم، التفسیر، تفسیرسورة الرحمٰن)
ایک روایت کے مطابق اس نماز کی ادائیگی پر جنت کی بشارت ہے۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1438۔
(635)
1۔
صلاۃ وسطیٰ سے مراد کون سی نماز ہے؟ اس کے متعلق اہل علم میں کافی اختلاف ہے۔
حافظ ابن حجرؒ نے اس کی تعیین میں تقریباً انیس اقوال لکھے ہیں اور فرمایا ہے:
حافظ شرف الدین دمیاطی نے اس کے متعلق ایک مستقل رسالہ "کشف الغطاء عن الصلاة الوسطیٰ" کے نام سے لکھا ہے۔
(فتح الباري: 246/8)
2-
امام بخاری ؒ نے جو روایت پیش کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد نماز عصرہے کیونکہ غروب آفتاب سے پہلے نماز عصر ہی پڑھی جاتی ہے بلکہ ایک روایت میں صراحت ہے کہ انھوں نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ یعنی نماز عصر ادا کرنے سے مشغول رکھا۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث1426۔
(628)
نیز اس روایت سے نماز کی بروقت ادا ئیگی کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے حتی کہ بروقت ادائیگی میں حائل ہونے والوں کو سب وشتم کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور ان کے لیے بددعا کی جا سکتی ہے۔
3۔
امام بخاری ؓ کا اپنا رجحان بھی معلوم ہوتا ہے کہ صلاۃ وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے، چنانچہ سورہ رحمٰن کی تفسیرکرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
﴿فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ﴾ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ انار اور کھجورفاکحہ نہیں ہیں لیکن عرب انھیں فاکحہ ہی کہتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"تم نمازوں کی حفاظت کرو خاص طور پر صلاۃ وسطیٰ کا خیال رکھو۔
" اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے پھر نماز عصر کو اس کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر الگ بیان کیا ہے جیسا کہ فاکحہ کے بعد انار اور کھجور کا ذکر دوبارہ کیا ہے۔
(صحیح مسلم، التفسیر، تفسیرسورة الرحمٰن)
ایک روایت کے مطابق اس نماز کی ادائیگی پر جنت کی بشارت ہے۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1438۔
(635)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4533]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6396
6396. حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم غزوہ خندق کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراه تھے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالٰی ان کے قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے انہوں نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ نہیں پڑھنے دی کہ سورج غروب ہوگیا۔“ اور وہ عصر کی نماز تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6396]
حدیث حاشیہ:
(1)
صلاۃ وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خندق کے دن کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی:
اللہ کے رسول! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''اللہ کی قسم! میں بھی نہیں پڑھ سکا ہوں۔
'' پھر ہم وادئ بطحان میں گئے، وہاں غروب آفتاب کے بعد وضو کر کے پہلے نماز عصر پڑھی، پھر نماز مغرب ادا کی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4112) (2)
چونکہ اس حدیث میں کفار قریش کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے یہاں بیان کیا ہے۔
واللہ المستعان
(1)
صلاۃ وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خندق کے دن کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی:
اللہ کے رسول! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''اللہ کی قسم! میں بھی نہیں پڑھ سکا ہوں۔
'' پھر ہم وادئ بطحان میں گئے، وہاں غروب آفتاب کے بعد وضو کر کے پہلے نماز عصر پڑھی، پھر نماز مغرب ادا کی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4112) (2)
چونکہ اس حدیث میں کفار قریش کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے یہاں بیان کیا ہے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6396]
عبيدة بن عمرو السلمانى ← علي بن أبي طالب الهاشمي