سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب في حل الأزرار
باب: بٹن کھلا رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4082
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ بْنُ قُشَيْرٍ أَبُو مَهَلٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَبَايَعْنَاهُ وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقُ الْأَزْرَارِ، قَالَ: فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ أَدْخَلْتُ يَدَيَّ فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ، فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ"، قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا ابْنَهُ قَطُّ إِلَّا مُطْلِقَيْ أَزْرَارِهِمَا فِي شِتَاءٍ وَلَا حَرٍّ وَلَا يُزَرِّرَانِ أَزْرَارَهُمَا أَبَدًا.
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ مزینہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ کچھ قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے، میں نے آپ سے بیعت کی پھر اپنا ہاتھ آپ کی قمیص کے گریبان میں داخل کیا اور مہر نبوت کو چھوا۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ اور ان کے بیٹے کی قمیص کے بٹن جاڑا ہو یا گرمی ہمیشہ کھلے دیکھے، یہ دونوں کبھی بٹن لگاتے ہی نہیں تھے اپنے گریبان ہمیشہ کھلے رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4082]
جناب معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ”میں قبیلہ مزینہ کی جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کی گھنڈیاں کھلی ہوئی تھیں۔“ کہتے ہیں: ”ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ پھر میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کے دامن میں ڈال دیا اور مہرِ نبوت کو چھوا۔“ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”بعد ازاں میں نے معاویہ اور ان کے صاحبزادے کو جب بھی دیکھا، سردی ہوتی یا گرمی، ان کی قمیصوں کی گھنڈیاں کھلی ہوتی تھیں اور وہ انہیں کبھی بند نہ کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ الشمائل (58)، سنن ابن ماجہ/اللباس 11 (3578)، (تحفة الأشراف: 11079)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/434، 4/19، 5/35) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4336)
أخرجه ابن ماجه (3578 وسنده صحيح) والترمذي في الشمائل بتحقيقي (59 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (4336)
أخرجه ابن ماجه (3578 وسنده صحيح) والترمذي في الشمائل بتحقيقي (59 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4082
| أدخلت يدي في جيب قميصه فمسست الخاتم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4082 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4082
فوائد ومسائل:
1: بٹن کھلے رکھنا اگر بطور تواضع اور اتباع نبی ؐہو تو مستحب اور باعث اجر ہے، مگر ہمارے ہاں بعض علاقوں میں یہ عمل بطور تکبربھی ہوتا ہے جس میں یہ لوگ اپنا گریبان بھی کھلا رکھتے ہیں، لہذا ان کی مشابہت سے بچنا ضروری ہے۔
2:صحابہ کرام رضی اللہ عنه رسول ؐ کی عادات کو بھی اپنے عمل کا حصہ بنا لیتے تھے جو یقینامحبت کا اظہار ہوتا تھا۔
1: بٹن کھلے رکھنا اگر بطور تواضع اور اتباع نبی ؐہو تو مستحب اور باعث اجر ہے، مگر ہمارے ہاں بعض علاقوں میں یہ عمل بطور تکبربھی ہوتا ہے جس میں یہ لوگ اپنا گریبان بھی کھلا رکھتے ہیں، لہذا ان کی مشابہت سے بچنا ضروری ہے۔
2:صحابہ کرام رضی اللہ عنه رسول ؐ کی عادات کو بھی اپنے عمل کا حصہ بنا لیتے تھے جو یقینامحبت کا اظہار ہوتا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4082]
Sunan Abi Dawud Hadith 4082 in Urdu
معاوية بن قرة المزني ← قرة بن إياس المزني