سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب في قوله { غير أولي الإربة }
باب: آیت کریمہ: «غير أولي الإربة» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِي، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً، فَقَالَ:" إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا، لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ هَذَا فَحَجَبُوهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث (ہجڑا) آتا جاتا تھا اسے لوگ اس صنف میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے وہ مخنث آپ کی ایک بیوی کے پاس تھا، اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتوں کی باتیں جانتا ہے، اب یہ تمہارے پاس ہرگز نہ آیا کرے، تو وہ سب اس سے پردہ کرنے لگیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 13 (2181)، (تحفة الأشراف: 16634، 17247)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (9237)، مسند احمد (6/152) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2181)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← هشام بن عروة الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥محمد بن ثور الصنعاني، أبو عبد الله، أبو جعفر محمد بن ثور الصنعاني ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة وكان يدلس كثيرا | |
👤←👥محمد بن عبيد الغبري محمد بن عبيد الغبري ← محمد بن ثور الصنعاني | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5691
| ألا أرى هذا يعرف ما هاهنا لا يدخلن عليكن قالت فحجبوه |
سنن أبي داود |
4107
| إذا أقبلت أقبلت بأربع وإذا أدبرت أدبرت بثمان فقال النبي ألا أرى هذا يعلم ما هاهنا لا يدخلن عليكن هذا فحجبوه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4107 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4107
فوائد ومسائل:
سورۃ نور کی آیت حجاب (31) میں جن لوگوں سے پردہ نہ کرنے کا بیان ہے، ان میں (غیرُ أولي الإربةِ) کا بھی ذکر ہے، یعنی ایسے بڑے بوڑھے مرد جنہیں اب عورتوں کی کوئی خواہش نہ ہو، لیکن عمرکے باوجود اگر محسوس ہو کہ فکری طور پر یہ آدمی عورتوں سے دلچسپی رکھتا ہے تو اس سے پردہ کرنا لازمی ہے، انسان کی گفتگو اور نشست برخاست سے اس کے ذوق ومزاج کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہوتا جیسے کہ درج ذیل حدیث میں مذکور ہے۔
سورۃ نور کی آیت حجاب (31) میں جن لوگوں سے پردہ نہ کرنے کا بیان ہے، ان میں (غیرُ أولي الإربةِ) کا بھی ذکر ہے، یعنی ایسے بڑے بوڑھے مرد جنہیں اب عورتوں کی کوئی خواہش نہ ہو، لیکن عمرکے باوجود اگر محسوس ہو کہ فکری طور پر یہ آدمی عورتوں سے دلچسپی رکھتا ہے تو اس سے پردہ کرنا لازمی ہے، انسان کی گفتگو اور نشست برخاست سے اس کے ذوق ومزاج کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہوتا جیسے کہ درج ذیل حدیث میں مذکور ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4107]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5691
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس ایک ہیجڑا آیا کرتا تھا، کیونکہ وہ انہیں ان لوگوں میں سے سمجھتی تھیں، جو عورتوں میں رغبت اور دلچسپی نہیں رکھتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی کسی بیوی کے پاس گئے تو اسے ایک عورت کے اوصاف بیان کرتے پایا کہ جب وہ سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں اور جب وہ پشت پھیر کر چل دیتی ہے تو وہ سلوٹیں آٹھ بن جاتی ہیں تو نبی اکرم صلی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5691]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ھیت نامی مخنث کے بارے میں یہ خیال کرتے تھے کہ وہ عورتوں میں دلچسپی نہیں رکھتا،
نہ ان کا خواہشمند ہے،
اس لیے اس کو اپنے گھروں میں آنے سے نہیں روکتے تھے،
لیکن جب آپ کو پتہ چلا کہ یہ عورتوں سے دلچسپی رکھتا ہے،
ان کے محاسن اور خوبیوں پر اس کی نظر ہے اور دوسروں کو بھی اس سے آگاہ کرتا ہے تو اس کا داخلہ بند کر دیا،
بلکہ اس کو مدینہ سے نکلوا دیا اور ایک غیر آباد جگہ بھیج دیا،
اس لیے ایسے ہیجڑوں کو گھروں میں داخل نہیں ہونے دینا چاہیے۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ھیت نامی مخنث کے بارے میں یہ خیال کرتے تھے کہ وہ عورتوں میں دلچسپی نہیں رکھتا،
نہ ان کا خواہشمند ہے،
اس لیے اس کو اپنے گھروں میں آنے سے نہیں روکتے تھے،
لیکن جب آپ کو پتہ چلا کہ یہ عورتوں سے دلچسپی رکھتا ہے،
ان کے محاسن اور خوبیوں پر اس کی نظر ہے اور دوسروں کو بھی اس سے آگاہ کرتا ہے تو اس کا داخلہ بند کر دیا،
بلکہ اس کو مدینہ سے نکلوا دیا اور ایک غیر آباد جگہ بھیج دیا،
اس لیے ایسے ہیجڑوں کو گھروں میں داخل نہیں ہونے دینا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5691]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق