🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب في قدر الذيل
باب: عورت کے دامن لٹکانے کی مقدار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4117
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ الْإِزَارَ:" فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: تُرْخِي شِبْرًا، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: إِذًا يَنْكَشِفُ عَنْهَا، قَالَ: فَذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ".
صفیہ بنت ابی عبید خبر دیتی ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عورت (کتنا دامن لٹکائے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک بالشت لٹکائے ام سلمہ نے کہا: تب تو ستر کھل جا یا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4117]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تہبند کا ذکر کیا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عورت کے متعلق پوچھا کہ وہ اسے کس قدر لمبا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بالشت لٹکا لے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس سے تو اس کے پاؤں ننگے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ لٹکا لے اور اس سے زیادہ نہ کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزینة من المجتبی 51 (5340)، (تحفة الأشراف: 18282)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، سنن ابن ماجہ/اللباس 13 (3580)، موطا امام مالک/اللباس 6 (13)، مسند احمد (6/293، 296، 309، 315)، سنن الدارمی/الاستئذان 16 (2686) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4334)
رواه النسائي (5340 وسنده صحيح)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥صفية بنت أبي عبيد الثقفية
Newصفية بنت أبي عبيد الثقفية ← أم سلمة زوج النبي
لها إدراك
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← صفية بنت أبي عبيد الثقفية
ثقة ثبت مشهور
👤←👥أبو بكر بن نافع القرشي، أبو بكر
Newأبو بكر بن نافع القرشي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← أبو بكر بن نافع القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1732
شبر لفاطمة شبرا من نطاقها
سنن أبي داود
4117
ترخي شبرا قالت أم سلمة إذا ينكشف عنها قال فذراعا لا تزيد عليه
سنن ابن ماجه
3580
شبرا قلت إذا ينكشف عنها قال ذراع لا تزيد عليه
سنن النسائى الصغرى
5339
ترخي ذراعا لا تزيد عليه
سنن النسائى الصغرى
5341
ذراعا لا يزدن عليه
سنن النسائى الصغرى
5341
ذراع لا تزيد عليها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4117 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4117
فوائد ومسائل:
عورت کو گھر سے باہراپنے ٹخنے اور پاوں بھی پردے میں رکھنے کا حکم واجب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4117]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3580
عورت کے کپڑے کا دامن (نچلا حصہ) کتنا لمبا ہو؟
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: عورت اپنے کپڑے کا دامن کتنا لٹکا سکتی ہے؟ فرمایا: ایک بالشت میں نے عرض کیا: اتنے میں تو پاؤں کھل جائے گا، تو فرمایا: ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3580]
اردو حاشہ:
فائده:
ایک بالشت یا ایک ہاتھ سے مراد ٹخنوں سے اس قدر نیچے تک ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں:
خلاصہ یہ ہے کہ مرد کی دو حالتیں ہیں:
مستحب حالت یہ ہے کہ تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھے۔
اور جائز حالت یہ ہے کہ ٹخنوں (سے اوپر)
تک رکھے۔
اسی طرح عورتوں کی بھی دو حالتیں ہیں۔
مستحب حالت یہ ہے کہ مردوں کی جائز حالت سے ایک بالشت زیادہ ہو۔
اور جائز حالت ایک ہاتھ یعنی مردوں کی جائز حالت سے دو بالشت زیادہ۔ (فتح الباری: 10/ 320)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3580]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1732
عورتوں کے دامن لٹکانے کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے «نطاق» کے لیے ایک بالشت کا اندازہ لگایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1732]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
یعنی ایک بالشت کے برابرلٹکانے کی اجازت دی۔

نوٹ:
(ابوداؤد اور ابن ماجہ کی مذکورہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے،
ورنہ اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1732]

Sunan Abi Dawud Hadith 4117 in Urdu