سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء في جر ذيول النساء
باب: عورتوں کے دامن لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1732
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَبَّرَ لِفَاطِمَةَ شِبْرًا مِنْ نِطَاقِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ رُخْصَةٌ لِلنِّسَاءِ فِي جَرِّ الْإِزَارِ، لِأَنَّهُ يَكُونُ أَسْتَرَ لَهُنَّ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے «نطاق» کے لیے ایک بالشت کا اندازہ لگایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- بعض لوگوں نے اسے «حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن أمه عن أم سلمة» کی سند سے روایت کی ہے،
۲- اس حدیث میں عورتوں کے لیے تہ بند (چادر) گھسیٹنے کی اجازت ہے، اس لیے کہ یہ ان کے لیے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1732]
۱- بعض لوگوں نے اسے «حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن أمه عن أم سلمة» کی سند سے روایت کی ہے،
۲- اس حدیث میں عورتوں کے لیے تہ بند (چادر) گھسیٹنے کی اجازت ہے، اس لیے کہ یہ ان کے لیے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن ابی داود/ اللباس 40 (4117-4118)، و ق /اللباس 13 (3508)، (تحفة الأشراف: 8257) (صحیح) (ابوداود اور ابن ماجہ کی مذکورہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں ”علی بن زید بن جدعان“ ضعیف راوی ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک بالشت کے برابر لٹکانے کی اجازت دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3580)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥خيرة مولاة أم سلمة، أم الحسن خيرة مولاة أم سلمة ← أم سلمة زوج النبي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن علي بن زيد القرشي ← خيرة مولاة أم سلمة | ضعيف الحديث | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← علي بن زيد القرشي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب إسحاق بن منصور الكوسج ← عفان بن مسلم الباهلي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1732
| شبر لفاطمة شبرا من نطاقها |
سنن أبي داود |
4117
| ترخي شبرا قالت أم سلمة إذا ينكشف عنها قال فذراعا لا تزيد عليه |
سنن ابن ماجه |
3580
| شبرا قلت إذا ينكشف عنها قال ذراع لا تزيد عليه |
سنن النسائى الصغرى |
5339
| ترخي ذراعا لا تزيد عليه |
سنن النسائى الصغرى |
5341
| ذراعا لا يزدن عليه |
سنن النسائى الصغرى |
5341
| ذراع لا تزيد عليها |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1732 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1732
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
یعنی ایک بالشت کے برابرلٹکانے کی اجازت دی۔
نوٹ:
(ابوداؤد اور ابن ماجہ کی مذکورہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے،
ورنہ اس کی سند میں ”علی بن زید بن جدعان“ ضعیف راوی ہیں)
وضاحت: 1 ؎:
یعنی ایک بالشت کے برابرلٹکانے کی اجازت دی۔
نوٹ:
(ابوداؤد اور ابن ماجہ کی مذکورہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے،
ورنہ اس کی سند میں ”علی بن زید بن جدعان“ ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1732]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4117
عورت کے دامن لٹکانے کی مقدار کا بیان۔
صفیہ بنت ابی عبید خبر دیتی ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عورت (کتنا دامن لٹکائے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک بالشت لٹکائے“ ام سلمہ نے کہا: تب تو ستر کھل جا یا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4117]
صفیہ بنت ابی عبید خبر دیتی ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عورت (کتنا دامن لٹکائے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک بالشت لٹکائے“ ام سلمہ نے کہا: تب تو ستر کھل جا یا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4117]
فوائد ومسائل:
عورت کو گھر سے باہراپنے ٹخنے اور پاوں بھی پردے میں رکھنے کا حکم واجب ہے۔
عورت کو گھر سے باہراپنے ٹخنے اور پاوں بھی پردے میں رکھنے کا حکم واجب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4117]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3580
عورت کے کپڑے کا دامن (نچلا حصہ) کتنا لمبا ہو؟
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: عورت اپنے کپڑے کا دامن کتنا لٹکا سکتی ہے؟ فرمایا: ”ایک بالشت“ میں نے عرض کیا: اتنے میں تو پاؤں کھل جائے گا، تو فرمایا: ”ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3580]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: عورت اپنے کپڑے کا دامن کتنا لٹکا سکتی ہے؟ فرمایا: ”ایک بالشت“ میں نے عرض کیا: اتنے میں تو پاؤں کھل جائے گا، تو فرمایا: ”ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3580]
اردو حاشہ:
فائده:
ایک بالشت یا ایک ہاتھ سے مراد ٹخنوں سے اس قدر نیچے تک ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں:
خلاصہ یہ ہے کہ مرد کی دو حالتیں ہیں:
مستحب حالت یہ ہے کہ تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھے۔
اور جائز حالت یہ ہے کہ ٹخنوں (سے اوپر)
تک رکھے۔
اسی طرح عورتوں کی بھی دو حالتیں ہیں۔
مستحب حالت یہ ہے کہ مردوں کی جائز حالت سے ایک بالشت زیادہ ہو۔
اور جائز حالت ایک ہاتھ یعنی مردوں کی جائز حالت سے دو بالشت زیادہ۔ (فتح الباری: 10/ 320)
فائده:
ایک بالشت یا ایک ہاتھ سے مراد ٹخنوں سے اس قدر نیچے تک ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں:
خلاصہ یہ ہے کہ مرد کی دو حالتیں ہیں:
مستحب حالت یہ ہے کہ تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھے۔
اور جائز حالت یہ ہے کہ ٹخنوں (سے اوپر)
تک رکھے۔
اسی طرح عورتوں کی بھی دو حالتیں ہیں۔
مستحب حالت یہ ہے کہ مردوں کی جائز حالت سے ایک بالشت زیادہ ہو۔
اور جائز حالت ایک ہاتھ یعنی مردوں کی جائز حالت سے دو بالشت زیادہ۔ (فتح الباری: 10/ 320)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3580]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1732 in Urdu
خيرة مولاة أم سلمة ← أم سلمة زوج النبي