🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
105. باب : ذيول النساء
باب: عورتوں کے دامن کی لمبائی کی حد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5339
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُيُولَ النِّسَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُرْخِينَ شِبْرًا" , قَالَتْ: أُمُّ سَلَمَةَ: إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا؟ قَالَ:" تُرْخِي ذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کے دامن لٹکانے کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک بالشت لٹکائیں ۱؎، ام سلمہ رضی اللہ عنہا بولیں: تب تو کھلا رہے گا؟ آپ نے فرمایا: تب ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5339]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عورتوں کے دامن کا مسئلہ ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک بالشت لٹکا لیں۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر ان کے پاؤں ننگے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ایک ہاتھ لٹکا لیں۔ اس سے زیادہ نہ لٹکائیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18217) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عورتیں ایک بالشت یا ایک ہاتھ زیادہ کہاں سے لٹکائیں؟ اس بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ مردوں کی جائز حد (ٹخنوں) سے زیادہ ایک بالشت لٹکائیں یا حد سے حد ایک ہاتھ زیادہ لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہیں، یہ اجازت اس لیے ہے تاکہ عورتوں کے قدم اور پنڈلیاں چلتے وقت ظاہر نہ ہو جائیں، آج ٹخنوں تک پاجامہ (شلوار) کے بعد لمبے موزوں سے عورتوں کا مذکورہ پردہ حاصل ہو سکتا ہے، لیکن عورتوں کے لباس اصلی شلوار وغیرہ میں اس بات کی احتیاط ہونی چاہیئے کہ وہ سلاتے وقت ٹخنے کے نیچے ناپ کر سلاتے جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← أم سلمة زوج النبي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥الوليد بن مزيد العذري، أبو العباس
Newالوليد بن مزيد العذري ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة ثبت
👤←👥العباس بن الوليد العذري، أبو الفضل
Newالعباس بن الوليد العذري ← الوليد بن مزيد العذري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1732
شبر لفاطمة شبرا من نطاقها
سنن أبي داود
4117
ترخي شبرا قالت أم سلمة إذا ينكشف عنها قال فذراعا لا تزيد عليه
سنن ابن ماجه
3580
شبرا قلت إذا ينكشف عنها قال ذراع لا تزيد عليه
سنن النسائى الصغرى
5339
ترخي ذراعا لا تزيد عليه
سنن النسائى الصغرى
5341
ذراعا لا يزدن عليه
سنن النسائى الصغرى
5341
ذراع لا تزيد عليها
Sunan an-Nasa'i Hadith 5339 in Urdu