یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب في قدر الذيل
باب: عورت کے دامن لٹکانے کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 4119
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الذَّيْلِ شِبْرًا ثُمَّ اسْتَزَدْنَهُ فَزَادَهُنَّ شِبْرًا فَكُنَّ يُرْسِلْنَ إِلَيْنَا فَنَذْرَعُ لَهُنَّ ذِرَاعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین (رضی اللہ عنہن) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چنانچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4119]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین کو اجازت دی کہ ”اپنی چادروں کے پلو ایک بالشت لمبے رکھا کریں۔“ پھر انہوں نے مزید لمبے کرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بالشت بڑھانے کا فرمایا۔ چنانچہ ”وہ ہمیں اس کا کہتیں تو ہم ان کے لیے ان چادروں کے پلو ایک ایک ہاتھ لمبے رکھتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/ اللباس 13 (3581)، (تحفة الأشراف: 6661)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، مسند احمد (2/18، 90) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3581)
زيد العمي : ضعيف (تق : 2131) وقال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10 / 110)
والحديث السابق (الأصل : 4117) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3581)
زيد العمي : ضعيف (تق : 2131) وقال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10 / 110)
والحديث السابق (الأصل : 4117) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥بكر بن قيس الناجي، أبو الصديق بكر بن قيس الناجي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥زيد بن الحواري العمي، أبو الحواري زيد بن الحواري العمي ← بكر بن قيس الناجي | ضعيف الحديث | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← زيد بن الحواري العمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4119
| رخص رسول الله لأمهات المؤمنين في الذيل شبرا ثم استزدنه فزادهن شبرا فكن يرسلن إلينا فنذرع لهن ذراعا |
سنن ابن ماجه |
3581
| أن أزواج النبي رخص لهن في الذيل ذراعا فكن يأتينا فنذرع لهن بالقصب ذراعا |
سنن النسائى الصغرى |
5338
| ترخينه ذراعا لا تزدن عليه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4119 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4119
فوائد ومسائل:
عورتوں کے لئے چادروں کی لمبائی مردوں کی قمیضوں کے مقابلے میں ہے، نہ کہ زمین کے مقابلے میں۔
عورتوں کے لئے چادروں کی لمبائی مردوں کی قمیضوں کے مقابلے میں ہے، نہ کہ زمین کے مقابلے میں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4119]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5338
عورتوں کے دامن کی لمبائی کی حد کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا لٹکایا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا“، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! تو پھر عورتیں اپنے دامن کیسے رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اسے ایک بالشت لٹکائیں“، وہ بولیں: تب تو ان کے قدم کھلے رہیں گے؟، آپ نے فرمایا: ”تو ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5338]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا لٹکایا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا“، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! تو پھر عورتیں اپنے دامن کیسے رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اسے ایک بالشت لٹکائیں“، وہ بولیں: تب تو ان کے قدم کھلے رہیں گے؟، آپ نے فرمایا: ”تو ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5338]
اردو حاشہ:
(1) ”ایک بالشت“ یعنی نصف پنڈلی سے ایک بالشت نیچے تبھی پاؤں ننگے ہوں گے۔ اگر ٹخنوں سے بالشت نیچے ہو تو پاؤں ڈھانکے جائیں گے۔ ”ایک ہاتھ“ سے مراد بھی نصف پنڈلی سے نیچے ایک ہاتھ ہے۔ اس صورت میں دامن زمین پرگھسیٹنے لگے گا اور پاؤں بھی ننگے نہیں ہوں گے خواہ عورت چل ہی رہی ہو۔
(2) ”ننگے ہوں“ گویا عورتوں کے لیے مناسب ہے کہ ان کے قدم ننگے نہ ہوں البتہ قدم ڈھانکنا ضروری نہیں کیونکہ آپ نے ایک بالشت نیچے ہی کو ضروری قرار دیا ہے۔
(3) ”ایک ہاتھ“ عربی میں لفظ ذراع استعمال کیا گیا ہے یعنی کہنی کی ہڈی کے کنارے سے درمیانی انگلی کے بالائی کنارے تک عربی میں اس فاصلے کو ذراع کہتے ہیں۔ اردو میں اسے ہاتھ کہہ لیتے ہیں۔
(1) ”ایک بالشت“ یعنی نصف پنڈلی سے ایک بالشت نیچے تبھی پاؤں ننگے ہوں گے۔ اگر ٹخنوں سے بالشت نیچے ہو تو پاؤں ڈھانکے جائیں گے۔ ”ایک ہاتھ“ سے مراد بھی نصف پنڈلی سے نیچے ایک ہاتھ ہے۔ اس صورت میں دامن زمین پرگھسیٹنے لگے گا اور پاؤں بھی ننگے نہیں ہوں گے خواہ عورت چل ہی رہی ہو۔
(2) ”ننگے ہوں“ گویا عورتوں کے لیے مناسب ہے کہ ان کے قدم ننگے نہ ہوں البتہ قدم ڈھانکنا ضروری نہیں کیونکہ آپ نے ایک بالشت نیچے ہی کو ضروری قرار دیا ہے۔
(3) ”ایک ہاتھ“ عربی میں لفظ ذراع استعمال کیا گیا ہے یعنی کہنی کی ہڈی کے کنارے سے درمیانی انگلی کے بالائی کنارے تک عربی میں اس فاصلے کو ذراع کہتے ہیں۔ اردو میں اسے ہاتھ کہہ لیتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5338]
Sunan Abi Dawud Hadith 4119 in Urdu
بكر بن قيس الناجي ← عبد الله بن عمر العدوي