سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب في إصلاح الشعر
باب: بالوں کو سنوارنے اور آراستہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4163
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ، فَلْيُكْرِمْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس بال ہوں تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں اچھی طرح رکھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12691) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4450)
مشكوة المصابيح (4450)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4163
| من كان له شعر فليكرمه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4163 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4163
فوائد ومسائل:
بال رکھے ہوں تو انہیں سنوار کر رکھنا لازم ہے، مگر باقاعدہ اہتمام کے ساتھ دھونے ارو تیل کنگھی کے لیے ایک دن کا وقفہ ہونا چاہیئے۔
بال رکھے ہوں تو انہیں سنوار کر رکھنا لازم ہے، مگر باقاعدہ اہتمام کے ساتھ دھونے ارو تیل کنگھی کے لیے ایک دن کا وقفہ ہونا چاہیئے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4163]
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي