سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا
باب: فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4248
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا رَقَبَةَ الْآخَرِ، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، قُلْتُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَفْعَلَ وَنَفْعَلَ، قَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی امام سے بیعت کی، اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا، اور اس سے عہد و اقرار کیا تو اسے چاہیئے کہ جہاں تک ہو سکے وہ اس کی اطاعت کرے، اور اگر کوئی دوسرا امام بن کر اس سے جھگڑنے آئے تو اس دوسرے کی گردن مار دے“۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں اسے میرے دونوں کانوں نے سنا ہے، اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، میں نے کہا: یہ آپ کے چچا کے لڑکے معاویہ رضی اللہ عنہ ہم سے تاکیداً کہتے ہیں کہ ہم یہ یہ کریں تو انہوں نے کہا: ان کی اطاعت ان چیزوں میں کرو جس میں اللہ کی اطاعت ہو، اور جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اس میں ان کا کہنا نہ مانو۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4248]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی امام کی بیعت کی ہو اور اپنے ہاتھ کا مال اور دل کا پھل (اپنا قول و قرار) اس کو دے دیا ہو تو پھر ہمت بھر اس کی اطاعت کرے۔ اگر کوئی دوسرا (امیر بن کر) آئے اور اس سے جھگڑا کرے تو اس دوسرے کی گردن مار دو۔“ (عبدالرحمٰن کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا بھلا یہ حدیث آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”(کیوں نہیں) اسے میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا ہے۔“ میں نے کہا: ”یہ آپ کے چچا زاد معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ یوں کریں اور یوں کریں؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی اطاعت میں اس کی اطاعت کرو اور اللہ کی معصیت میں اس کی نافرمانی کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الإمارہ 10 (1844)، سنن النسائی/البیعة 25 (4196)، سنن ابن ماجہ/الفتن 9 (3956)، (تحفة الأشراف: 8881)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/161، 191، 193) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1844)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4248
| من بايع إماما فأعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه ما استطاع إن جاء آخر ينازعه فاضربوا رقبة الآخر قلت أنت سمعت هذا من رسول الله قال سمعته أذناي ووعاه قلبي قلت هذا ابن عمك معاوية يأمرنا أن نفعل ونفعل قال أطعه في طاعة الله واعصه في معصية الله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4248 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4248
فوائد ومسائل:
امام المسلمین کی بیعت تا ئید اور اطاعت واجب ہے اور شرعی امور میں اس کی مخالفت حرام ہے۔
اللہ کی نا فرمانی میں کسی مخلوق کی کو ئی اطاعت نہیں۔
امام المسلمین کی بیعت تا ئید اور اطاعت واجب ہے اور شرعی امور میں اس کی مخالفت حرام ہے۔
اللہ کی نا فرمانی میں کسی مخلوق کی کو ئی اطاعت نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4248]
Sunan Abi Dawud Hadith 4248 in Urdu
عبد الرحمن بن عبد رب الكعبة العائذي ← عبد الله بن عمرو السهمي