علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما يذكر من ملاحم الروم
باب: رومیوں سے ہونے والی لڑائیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4292
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ: مَالَ مَكْحُولٌ، وابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمِلْتُ مَعَهُمْ فَحَدَّثَنَا، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ الْهُدْنَةِ، قَالَ: قَالَ جُبَيْرٌ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مِخْبَرٍ ٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلَهُ جُبَيْرٌ عَنِ الْهُدْنَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا فَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ ثُمَّ تَرْجِعُونَ، حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّصْرَانِيَّةِ الصَّلِيبَ فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَتَجْمَعُ لِلْمَلْحَمَةِ".
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا: خالد بن معدان کی طرف چلے، میں بھی ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے صلح کے متعلق بیان کیا، جبیر نے کہا: ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ذی مخبر نامی ایک شخص کے پاس چلو چنانچہ ہم ان کے پاس آئے، جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”عنقریب تم رومیوں سے ایک پر امن صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک ایسے دشمن سے لڑو گے جو تمہارے پیچھے ہے، اس پر فتح پاؤ گے، اور غنیمت کا مال لے کر صحیح سالم واپس ہو گے یہاں تک کہ ایک میدان میں اترو گے جو ٹیلوں والا ہو گا، پھر نصرانیوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا: صلیب غالب آئی، یہ سن کر مسلمانوں میں سے ایک شخص غصہ میں آئے گا اور اس کو مارے گا، اس وقت اہل روم عہد شکنی کریں گے اور لڑائی کے لیے اپنے لوگوں کو جمع کریں گے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4292]
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابوزکریا، خالد بن معدان کی طرف روانہ ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل دیا، تو خالد نے جبیر بن نفیر سے ایک حدیث روایت کی جو «هُدْنَة» (مصالحت) کے متعلق تھی۔ پھر جبیر نے کہا: ”چلیں سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ کے ہاں چلتے ہیں جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔“ ہم ان کے پاس پہنچے تو جبیر نے ان سے «هُدْنَة» (مصالحت) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم لوگ رومیوں سے ایک پُرامن مصالحت کرو گے، اور پھر ان کے ساتھ مل کر اپنے پیچھے ایک دشمن سے جنگ کرو گے، ان پر غالب رہو گے، غنیمت پاؤ گے اور صحیح سلامت رہو گے، پھر وہاں سے واپس لوٹو گے اور ایک میدان میں اترو گے جس میں ٹیلے بھی ہوں گے۔ تو عیسائیوں میں سے ایک آدمی صلیب بلند کرے گا اور کہے گا: ”صلیب غالب آ گئی“، تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کو غصہ آئے گا اور وہ اسے قتل کر ڈالے گا، تو اس موقع پر رومی دھوکا کریں گے اور جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے۔“” [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2767)، (تحفة الأشراف: 3547) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5428)
أخرجه ابن ماجه (4089 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (2767)
مشكوة المصابيح (5428)
أخرجه ابن ماجه (4089 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (2767)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2767
| ستصالحون الروم صلحا آمنا وتغزون أنتم وهم عدوا من ورائكم |
سنن أبي داود |
4292
| ستصالحون الروم صلحا آمنا فتغزون أنتم وهم عدوا من ورائكم فتنصرون وتغنمون وتسلمون ثم ترجعون حتى تنزلوا بمرج ذي تلول فيرفع رجل من أهل النصرانية الصليب فيقول غلب الصليب فيغضب رجل من المسلمين فيدقه فعند ذلك تغدر الروم وتجمع للملحمة |
سنن ابن ماجه |
4089
| ستصالحكم الروم صلحا آمنا ثم تغزون أنتم وهم عدوا فتنتصرون وتغنمون وتسلمون ثم تنصرفون حتى تنزلوا بمرج ذي تلول فيرفع رجل من أهل الصليب الصليب فيقول غلب الصليب فيغضب رجل من المسلمين فيقوم إليه فيدقه فعند ذلك تغدر الروم ويجتمعون للملحمة |
Sunan Abi Dawud Hadith 4292 in Urdu
جبير بن نفير الحضرمي ← ذو مخبر الحبشي