Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في المحافظة على وقت الصلوات
باب: اوقات نماز کی حفاظت اور اہتمام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 430
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ضُبَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْكٍ الْأَلْهَانِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: إِنَّ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي فَرَضْتُ عَلَى أُمَّتِكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَعَهِدْتُ عِنْدِي عَهْدًا أَنَّهُ مَنْ جَاءَ يُحَافِظُ عَلَيْهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ فَلَا عَهْدَ لَهُ عِنْدِي".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میں نے آپ کی امت پر پانچ (وقت کی) نماز فرض کی ہیں اور میری طرف سے یہ وعدہ ہے کہ جو ان کے وقتوں پر ان کی محافظت کرتے ہوئے میرے پاس آئے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جس نے ان کی محافظت نہیں کی، میرا اس سے کوئی وعدہ نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 194 (1403)، (تحفة الأشراف: 12082) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1403)
ضبارة: مجھول (تقريب: 2962)
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28
قال ابو سعيد بن الاعرابي:حدثنامحمد بن عبد الملك بن يزيد الرواس۔يكني۔قال: حدثنا ابوداؤد:

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← الحارث بن ربعي السلمي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥دويد بن نافع القرشي، أبو عيسى
Newدويد بن نافع القرشي ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥ضبارة بن عبد الله الشامي، أبو شريح
Newضبارة بن عبد الله الشامي ← دويد بن نافع القرشي
مقبول
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← ضبارة بن عبد الله الشامي
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥حيوة بن شريح الحضرمي، أبو العباس
Newحيوة بن شريح الحضرمي ← بقية بن الوليد الكلاعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
430
فرضت على أمتك خمس صلوات وعهدت عندي عهدا أنه من جاء يحافظ عليهن لوقتهن أدخلته الجنة ومن لم يحافظ عليهن فلا عهد له عندي
سنن ابن ماجه
1403
افترضت على أمتك خمس صلوات وعهدت عندي عهدا أنه من حافظ عليهن لوقتهن أدخلته الجنة ومن لم يحافظ عليهن فلا عهد له عندي
سلسله احاديث صحيحه
476
افترضت على امتك خمس صلوات، وعهدت عندي عهدا: انه من حافظ عليهن لوقتهن؛ ادخلته الجنة، ومن لم يحافظ عليهن؛ فلا عهد له عندي
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 430 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 430
430۔ اردو حاشیہ:
➊ ایسی احادیث جن میں ایسے الفاظ آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان کو حدیث قدسی کہتے ہیں۔ قرآن مجید اور حدیث قدسی میں فرق یہ کہ قرآن مجید وحی متلو ہے اور دوسرے غیر متلو۔ یعنی قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے اور حدیث یا دیگر احادیث کی تلاوت نہیں ہوتی۔ قرآن مجید کلام معجز ہے اور احادیث اس پائے کی نہیں ہیں۔ قرآن مجید متواتر ہے اور احادیث سب اس درجہ کی نہیں ہیں۔ دیگر فرق اور مباحث علوم القرآن کی کتب میں ملاحظہ ہوں۔
➋ نمازوں کے اوقات کے محافظت کے ساتھ ساتھ دیگر آداب (طہارت، خشوع اور اعتدال وغیرہ ضروری ہیں۔
➌ اللہ عزوجل پر کوئی واجب کرنے والا نہیں ہے۔ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے بندوں کے لیے اس قسم کے وعدے اپنے اوپر لازم فرمائے ہیں اور وہ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا «إِنَّ اللهَ لَا يُخلفُ المِيعادَ» [آل عمران: 9]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 430]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد محفوظ اعوان حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سلسله احاديث صحيحه 476
نماز کی اہمیت
«. . . - قال الله عز وجل: افترضتُ على أمتك خمس صلوات، وعهدتُ عندي عهداً: أنه من حافظ عليهنَّ لوقتهنَّ؛ أدخلتُه الجنة، ومن لم يحافظ عليهنَّ؛ فلا عهدَ له عندي . . .»
. . . سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور اپنے اوپر یہ لازم کیا ہے کہ جو آدمی ان نمازوں کی ان کے اوقات میں محافظت کرے گا، اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو ان کی حفاظت نہیں کرے گا اس کو (بخشنے کا) میرا کوئی معاہدہ نہیں۔ . . . [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة: 476]
فوائد و مسائل
واجبات و فرائض اور مندوبات و مستحبات کی ادائیگی کا خیال رکھتے ہوئے پانچ نمازوں کی ادائیگی عظیم عمل ہے، یہ عمل انسان میں برائیوں سے بچنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے، جیسا کہ:
ارشادباری تعالیٰ ہے:
«إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ» [سورہ العنکبوت: 45]
بیشک نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے۔‏‏‏‏
اللہ تعالیٰ نے نماز میں ایسی روحانی تاثیر رکھی ہے کہ انسان خود بخود برائیوں سے متنفر ہو جاتا ہے اور پھر اس عمل کی برکت کی وجہ سے اعمال صالحہ کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ ایسا شخص دن بدن جنت کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر اللہ تعالیٰ اس کو بہشت کا وارث بنا دیتے ہیں۔ دوسری طرف بے نمازی کے برے انجام کا بیان ہے، بلکہ بے نماز تو کجا، جو آدمی نمازوں کی (باقاعدگی سے ادائیگی) محافظت نہیں کرتا، بلکہ بسا اوقات ادا کر لیتا ہے اور بعض اوقات چھوڈ دیتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے عہد و ضمانت سے خارج ہو جاتا ہے۔
[سلسله احاديث صحيحه شرح از محمد محفوظ احمد، حدیث/صفحہ نمبر: 476]