سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَوَاتِ
باب: اوقات نماز کی حفاظت اور اہتمام کا بیان۔
حدیث نمبر: 425
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصُّنَابِحِيِّ، قَالَ: زَعَمَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى، مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ كَانَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ".
عبداللہ بن صنابحی نے کہا کہ ابومحمد کا کہنا ہے کہ وتر واجب ہے تو اس پر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: ابومحمد نے غلط کہا ۱؎، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے پانچ نماز فرض کی ہیں، جو شخص ان کے لیے اچھی طرح وضو کرے گا، اور انہیں ان کے وقت پر ادا کرے گا، ان کے رکوع و سجود کو پورا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کا اس سے وعدہ ہے کہ اسے بخش دے گا، اور جو ایسا نہیں کرے گا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اس کو بخش دے، چاہے تو عذاب دے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 425]
جناب عبداللہ بن صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابو محمد (انصاری صحابی) کا خیال ہے کہ وتر واجب ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے (سنا تو) کہا: ”ابو محمد نے غلط کہا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”پانچ نمازیں اللہ نے فرض کی ہیں، جو ان کا وضو عمدہ بنائے اور انہیں ان کے اوقات پر ادا کرے، ان کے رکوع اور خشوع کامل رکھے، تو ایسے شخص کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے بخش دے گا، اور جو یہ نہ کرے تو اس کے لیے اللہ کا کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو معاف کر دے اور اگر چاہے تو عذاب دے۔“” [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5101)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصلاة 6 (462)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 194 (1401)، مسند احمد (5/317) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عبادہ رضی اللہ عنہ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وتر پانچ نمازوں کی طرح فرض اور واجب نہیں ہے۔ مگر مسنون اور موکد ہونے میں کوئی اختلاف نہیں جیسے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں بھی وتر نہ چھوڑا کرتے تھے۔ کامل و مقبول نماز کے لیے تمام سنن و واجبات کو جاننا اور ان پر عمل کرنا چاہیے یعنی مسنون کامل وضو، مشروع افضل وقت، اعتدال ارکان اور حضور قلب وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وقع في نسخ أبي داود ’’عبد الله بن الصنابحي‘‘ وھو خطأ والصواب أبو عبد الله الصنابحي وھو عبد الرحمن بن عسيد
وقع في نسخ أبي داود ’’عبد الله بن الصنابحي‘‘ وھو خطأ والصواب أبو عبد الله الصنابحي وھو عبد الرحمن بن عسيد
حدیث نمبر: 426
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ، عَنْ بَعْضِ أُمَّهَاتِهِ،عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا"، قَالَ الْخُزَاعِيُّ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ عَمَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ فَرْوَةَ، قَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ.
ام فروہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا“۔ خزاعی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے (قاسم نے) اپنی پھوپھی (جنہیں ام فروہ کہا جاتا تھا اور جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) سے روایت کی ہے، اس میں «سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم» کی بجائے «أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل» ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 426]
قاسم بن غنام اپنی ماں سے بیان کرتے ہیں، وہ سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ”اعمال میں سے کون سا عمل افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اول وقت میں ادا کرنا۔“ خزاعی نے اپنی روایت میں کہا (کہ قاسم بن غنام نے) اپنی پھوپھی سے روایت کیا جس کا نام ام فروہ تھا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی (فرماتی ہیں کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا۔ (یہ خزاعی کی روایت ہے جبکہ عبداللہ بن مسلمہ نے «بعض أمهاته» کا لفظ روایت کیا ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 13(170)، (تحفة الأشراف: 18341)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/375، 374، 440) (صحیح)» (اس کے راوی قاسم مضطرب الحدیث اور عبداللہ بن عمر سیٔ الحفظ ہیں، نیز بعض أمھاتہ مجہول راوی ہیں) لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر اس باب میں صحیح ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث متفق علیہ (بخاری و مسلم) میں ہے
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (607)
وللحديث طريق صحيح عند ابن خزيمة (327) وسنده صحيح
مشكوة المصابيح (607)
وللحديث طريق صحيح عند ابن خزيمة (327) وسنده صحيح
حدیث نمبر: 427
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ أَخْبِرْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: نَعَمْ، كُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ذَلِكَ".
عمارہ بن رویبہ کہتے ہیں کہ اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: آپ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”وہ آدمی جہنم میں داخل نہ ہو گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی“، اس شخص نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ یہ جملہ اس نے تین بار کہا، انہوں نے کہا: ہاں، ہر بار وہ یہی کہتے تھے: میرے دونوں کانوں نے اسے سنا ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، پھر اس شخص نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے فرماتے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 427]
جناب ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ اپنے والد (عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ اہل بصرہ کے کسی شخص نے ان سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، اس میں سے کچھ مجھے بھی بیان فرمائیے۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”دوزخ میں نہیں جائے گا وہ آدمی جس نے سورج طلوع ہونے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے کی نمازیں پڑھیں۔“ اس نے کہا: ”کیا یہ آپ نے ان سے خود سنا ہے؟“ اس نے تین بار (ایسا ہی) کہا۔ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں!“ اور ہر بار کہتے کہ میں نے اسے اپنے کانوں سے سنا ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے۔ تو اس آدمی نے کہا: ”میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 37 (634)، سنن النسائی/الصلاة 13 (472)، 21 (488)، (تحفة الأشراف: 10378)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/136، 261) (صحیح)»
وضاحت: اس حدیث میں نماز فجر اور عصر کی خاص اہمیت کا بیان ہے۔ اور کہا جا سکتا ہے کہ جو ان کی پابندی کرے گا وہ باقی نمازوں کی بھی پابندی کرے گا یا اسے توفیق مل جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (634)
حدیث نمبر: 428
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنِي" وَحَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ هَذِهِ سَاعَاتٌ لِي فِيهَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِي بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُهُ أَجْزَأَ عَنِّي، فَقَالَ: حَافِظْ عَلَى الْعَصْرَيْنِ وَمَا كَانَتْ مِنْ لُغَتِنَا، فَقُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ فَقَالَ: صَلَاةُ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةُ قَبْلَ غُرُوبِهَا".
فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو باتیں سکھائیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ پانچوں نماز پر محافظت کرو، میں نے کہا: یہ ایسے اوقات ہیں جن میں مجھے بہت کام ہوتے ہیں، آپ مجھے ایسا جامع کام کرنے کا حکم دیجئیے کہ جب میں اس کو کروں تو وہ مجھے کافی ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عصرین پر محافظت کرو“، عصرین کا لفظ ہماری زبان میں مروج نہ تھا، اس لیے میں نے پوچھا: عصرین کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو نماز: ایک سورج نکلنے سے پہلے، اور ایک سورج ڈوبنے سے پہلے (فجر اور عصر)“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 428]
جناب عبداللہ بن فضالہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا اور جو سکھایا ان میں یہ بات بھی تھی: ”پانچ نمازوں کی پابندی کرنا۔“ میں نے عرض کیا کہ مجھے ان اوقات میں کام ہوتے ہیں تو آپ مجھے کوئی جامع بات ارشاد فرمائیں جس پر عمل میرے لیے کافی رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْعَصْرَيْنِ» کی پابندی کرنا۔“ اور یہ لفظ ہماری زبان میں مستعمل نہ تھا۔ میں نے کہا کہ «الْعَصْرَيْنِ» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے کی نمازیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 11042)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/344) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو بہت زیادہ مصروف ہو اس کے لئے فقط دو وقت کی نماز کافی ہو جائے گی، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کم سے کم ان دو وقتوں کی نماز کو اول وقت پر پابندی سے پڑھ لیا کرے (بیہقی، عراقی)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
والحديث محمول علي الجماعة يعني أنه رخص له في ترك حضور بعض الصلوات في الجماعة لا علٰي تركھا أصلاً فافھمه فإنه مھم وللحديث لون الآخر عند أحمد (4/344) وھذا لا يضر والحمد لله
والحديث محمول علي الجماعة يعني أنه رخص له في ترك حضور بعض الصلوات في الجماعة لا علٰي تركھا أصلاً فافھمه فإنه مھم وللحديث لون الآخر عند أحمد (4/344) وھذا لا يضر والحمد لله
حدیث نمبر: 429
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، وَأَبَانُ، كلاهما عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ: مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ عَلَى وُضُوئِهِنَّ وَرُكُوعِهِنَّ وَسُجُودِهِنَّ وَمَوَاقِيتِهِنَّ، وَصَامَ رَمَضَانَ، وَحَجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، وَأَعْطَى الزَّكَاةَ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ"، قَالُوا: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ؟ قَالَ: الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ.
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں ہیں، جو انہیں ایمان و یقین کے ساتھ ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: جس نے وضو کے ساتھ ان پانچوں نماز کی، ان کے رکوع اور سجدوں کی اور ان کے اوقات کی محافظت کی، رمضان کے روزے رکھے، اور بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنے کی صورت میں حج کیا، خوش دلی و رضا مندی کے ساتھ زکاۃ دی، اور امانت ادا کی“۔ لوگوں نے پوچھا: ابوالدرداء! امانت ادا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے کہا: اس سے مراد جنابت کا غسل کرنا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 429]
جناب خلید عصری، سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں ہیں جس نے ان پر ایمان کے ساتھ عمل کیا وہ جنت میں داخل ہوا، جس نے پانچ نمازوں کی ان کے وضو، رکوع، سجود اور اوقات سمیت حفاظت اور پابندی کی، رمضان کے روزے رکھے، بیت اللہ کا حج کیا، اگر اس تک پہنچنے کی استطاعت ہو، زکوٰۃ دی خوشی کے ساتھ اور امانت ادا کی۔“ لوگوں نے کہا: ”اے ابوالدرداء! ادائیگی امانت سے کیا مراد ہے؟“ انہوں نے کہا: ”غسلِ جنابت۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 10930) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبان بن أبي عياش: متروك (تقريب: 142)
وقتادة عنعن (تقدم: 29)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28
قال ابن ُالَأعرابي: حَدَّثنا محمد بن عبد الملك الرواسُ: حدثنا ابودؤد:
إسناده ضعيف
أبان بن أبي عياش: متروك (تقريب: 142)
وقتادة عنعن (تقدم: 29)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28
قال ابن ُالَأعرابي: حَدَّثنا محمد بن عبد الملك الرواسُ: حدثنا ابودؤد:
حدیث نمبر: 430
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ضُبَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْكٍ الْأَلْهَانِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: إِنَّ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي فَرَضْتُ عَلَى أُمَّتِكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَعَهِدْتُ عِنْدِي عَهْدًا أَنَّهُ مَنْ جَاءَ يُحَافِظُ عَلَيْهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ فَلَا عَهْدَ لَهُ عِنْدِي".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میں نے آپ کی امت پر پانچ (وقت کی) نماز فرض کی ہیں اور میری طرف سے یہ وعدہ ہے کہ جو ان کے وقتوں پر ان کی محافظت کرتے ہوئے میرے پاس آئے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جس نے ان کی محافظت نہیں کی، میرا اس سے کوئی وعدہ نہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 430]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے کہا کہ سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور اپنے لیے یہ عہد کیا ہے کہ جو شخص اس حال میں (میرے پاس) آیا کہ ان کے اوقات کی محافظت و پابندی کرتا رہا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو ان کی محافظت نہ کرتا رہا اس کے لیے میرے ہاں کوئی عہد اور وعدہ نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 194 (1403)، (تحفة الأشراف: 12082) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1403)
ضبارة: مجھول (تقريب: 2962)
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28
قال ابو سعيد بن الاعرابي:حدثنامحمد بن عبد الملك بن يزيد الرواس۔يكني۔قال: حدثنا ابوداؤد:
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1403)
ضبارة: مجھول (تقريب: 2962)
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28
قال ابو سعيد بن الاعرابي:حدثنامحمد بن عبد الملك بن يزيد الرواس۔يكني۔قال: حدثنا ابوداؤد: