علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب خروج الدجال
باب: دجال کے نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4319
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ عَنْهُ فَوَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَيَتَّبِعُهُ مِمَّا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ، أَوْ لِمَا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ"، هَكَذَا قَالَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دجال کے متعلق سنے کہ وہ ظاہر ہو چکا ہے تو وہ اس سے دور ہی رہے کیونکہ قسم ہے اللہ کی! آدمی اس کے پاس آئے گا تو یہی سمجھے گا کہ وہ مومن ہے، اور وہ اس کا ان مشتبہ چیزوں کی وجہ سے جن کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہو گا تابع ہو جائے گا“ راوی کو شک ہے کہ «مما یُبعث بہ» کہا ہے یا «لما یُبعث بہ» ۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4319]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دجال کے متعلق سنے تو اس سے دور رہے، اللہ کی قسم! آدمی اس کے پاس آئے گا جب کہ وہ سمجھتا ہو گا کہ وہ صاحب ایمان ہے، مگر ان شبہات کی بنا پر جو اس کی طرف سے اٹھائے جائیں گے، اس کی اتباع کر بیٹھے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/431، 441) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5488)
مشكوة المصابيح (5488)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4319
| من سمع بالدجال فلينأ عنه فوالله إن الرجل ليأتيه وهو يحسب أنه مؤمن فيتبعه مما يبعث به من الشبهات أو لما يبعث به من الشبهات |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4319 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4319
فوائد ومسائل:
فتنہ پرور اور گمراہ افراد یا اس قسم کی چیزوں سے دور رہنے میں ہی امان ہے۔
تاہم اظہارِ حق اور ابطال باطل کے لیئے ایسے لوگوں کے پاس جانا حق ہے۔
لیکن سطحی قسم کے مسلمان ان کے بھرے میں آکر گمراہ ہو سکتے ہیں، لہذا ان سے دور رہنا ضروری ہے اور اپنے ایمان میں رسوخ پید ا کرنے کی بھرپورکوشش کرنی چاہیئے۔
فتنہ پرور اور گمراہ افراد یا اس قسم کی چیزوں سے دور رہنے میں ہی امان ہے۔
تاہم اظہارِ حق اور ابطال باطل کے لیئے ایسے لوگوں کے پاس جانا حق ہے۔
لیکن سطحی قسم کے مسلمان ان کے بھرے میں آکر گمراہ ہو سکتے ہیں، لہذا ان سے دور رہنا ضروری ہے اور اپنے ایمان میں رسوخ پید ا کرنے کی بھرپورکوشش کرنی چاہیئے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4319]
Sunan Abi Dawud Hadith 4319 in Urdu
قرفة بن بهيس العدوي ← عمران بن حصين الأزدي