سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب في خبر الجساسة
باب: جساسہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4328
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنَّهُ بَيْنَمَا أُنَاسٌ يَسِيرُونَ فِي الْبَحْرِ فَنَفِدَ طَعَامُهُمْ، فَرُفِعَتْ لَهُمْ جَزِيرَةٌ، فَخَرَجُوا يُرِيدُونَ الْخُبْزَ فَلَقِيَتْهُمُ الْجَسَّاسَةُ، قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَ: امْرَأَةٌ تَجُرُّ شَعْرَ جِلْدِهَا وَرَأْسِهَا قَالَتْ: فِي هَذَا الْقَصْرِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَسَأَلَ عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ، وَعَنْ عَيْنِ زُغَرَ، قَالَ: هُوَ الْمَسِيحُ، فَقَالَ لِي ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ: إِنَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ شَيْئًا مَا حَفِظْتُهُ، قَالَ: شَهِدَ جَابِرٌ أَنَّهُ هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ قُلْتُ: فَإِنَّهُ قَدْ مَاتَ قَالَ: وَإِنْ مَاتَ قُلْتُ: فَإِنَّهُ أَسْلَمَ، قَالَ: وَإِنْ أَسْلَمَ، قُلْتُ: فَإِنَّهُ قَدْ دَخَلَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: وَإِنْ دَخَلَ الْمَدِينَةَ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر فرمایا: ”کچھ لوگ سمندر میں سفر کر رہے تھے کہ اسی دوران ان کا کھانا ختم ہو گیا تو ان کو ایک جزیرہ نظر آیا اور وہ روٹی کی تلاش میں نکلے، ان کی ملاقات جساسہ سے ہوئی“ ولید بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے پوچھا: جساسہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایک عورت تھی جو اپنی کھال اور سر کے بال کھینچ رہی تھی، اس جساسہ نے کہا: اس محل میں (چلو) پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے ”اور دجال نے بیسان کے کھجور کے درختوں، اور زغر کے چشموں کے متعلق دریافت کیا، اس میں ہے ”یہی مسیح ہے“۔ ولید بن عبداللہ کہتے ہیں: اس پر ابن ابی سلمہ نے مجھ سے کہا: اس حدیث میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو مجھے یاد نہیں ہیں۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: جابر نے پورے وثوق سے کہا: یہی ابن صیاد ۱؎ ہے، تو میں نے کہا: وہ تو مر چکا ہے، اس پر انہوں نے کہا: مر جانے دو، میں نے کہا: وہ تو مسلمان ہو گیا تھا، کہا: ہو جانے دو، میں نے کہا: وہ مدینہ میں آیا تھا، کہا: آنے دو، اس سے کیا ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4328]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”کچھ لوگ سمندر میں جا رہے تھے کہ ان کا کھانا ختم ہو گیا، تو انہیں ایک جزیرہ دکھائی دیا۔ وہ روٹی کی تلاش میں اسی میں چلے گئے تو «الْجَسَّاسَةُ» (جساسہ) سے ان کی ملاقات ہو گئی۔“ ولید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا: ” «الْجَسَّاسَةُ» کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”ایک عورت ہے جو اپنے جسم اور سر کے بال کھینچ رہی تھی۔“ اس نے کہا: ”اس محل میں“، اور حدیث بیان کی۔ اور (محل والے آدمی نے) ان سے بیسان کے نخلستان اور زغر کے چشمے کے متعلق معلوم کیا۔ کہا: ”وہی مسیح (دجال) ہے۔“ ابن ابوسلمہ نے مجھ سے کہا کہ اس حدیث میں ایک بات ہے جو مجھے یاد نہیں۔ کہتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ: ”یہی ابن صائد ہے۔“ میں نے کہا: ”وہ تو مر چکا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اگرچہ مر گیا ہے۔“ میں نے کہا: ”اس نے اسلام قبول کیا تھا۔“ انہوں نے کہا: ”اگرچہ اسلام قبول کیا تھا۔“ میں نے کہا: ”وہ تو مدینے میں بھی داخل ہوا تھا۔“ انہوں نے کہا: ”اگرچہ مدینے میں بھی داخل ہوا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3161) (ضعیف الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے بعض حضرات یہ سمجھتے تھے کہ ابن صیاد ہی وہ مسیح دجال ہے جس کے قیامت کے قریب ظہور کا وعدہ کیا گیا ہے، لیکن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی روایت کی بنا پر اس بات میں کوئی قطعیت نہیں،وہ تو بس ایک چھوٹا دجال ہے، نیز امام بیہقی کہتے ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ دجال اکبر ابن صیاد نہیں بلکہ کوئی اور ہے، ابن صیاد تو ان جھوٹے دجالوں میں سے ایک ہے جن کے ظہور کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی، اور جن میں سے اکثر کا ظہور ہو چکا ہے، جن لوگوں نے ابن صیاد کو وثوق کے ساتھ مسیح دجال قرار دیا ہے انہوں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ والا واقعہ نہیں سنا ہے، کیونکہ دونوں باتیں ایک پر فٹ نہیں ہو سکتیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد نبوت میں ایک قریب البلوغ لڑکا ہو، آپ سے مل چکا ہو اور آپ سے سوال و جواب کر چکا ہو، وہ آپ کے آخری عمر میں بوڑھا ہو گیا، اور سمندر کے ایک جزیرہ میں بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھ رہا ہو کہ آپ کا ظہور ہوا کہ نہیں؟۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن أبي سلمة ھو عمر والقائل لھذه المقولة ھو الوليد
ابن أبي سلمة ھو عمر والقائل لھذه المقولة ھو الوليد
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 4328 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري