🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الحكم فيمن ارتد
باب: مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4359
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ زَعَمَ السُّدِّيُّ: عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ اخْتَبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَجَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ:" أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ، فَقَالُوا: مَا نَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فِي نَفْسِكَ أَلَّا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ، قَالَ: إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، پھر آپ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لا کھڑا کیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف تین بار دیکھا، ہر بار آپ انکار فرماتے رہے، پھر تین دفعہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا نیک بخت انسان نہیں تھا کہ اس وقت اسے کھڑا ہوا پا کر قتل کر دیتا، جب اس نے یہ دیکھ لیا تھا کہ میں اس سے بیعت کے لیے اپنا ہاتھ روکے ہوئے ہوں تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا جو منشا تھا ہمیں معلوم نہ ہو سکا، آپ نے اپنی آنکھ سے ہمیں اشارہ کیوں نہیں کر دیا ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کنکھیوں سے پوشیدہ اشارے کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4359]
سیدنا سعد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ جب فتح مکہ کا دن آیا تو عبداللہ بن سعد بن ابو سرح سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاں چھپ گیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے لے آئے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا اور درخواست کی: اے اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف دیکھا، تین بار ایسے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار انکار فرماتے رہے، تیسری بار کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا کہ جب میں نے اس کی بیعت لینے سے اپنا ہاتھ روک رکھا تھا تو وہ اس کی طرف اٹھتا اور اسے قتل کر ڈالتا؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ کے جی میں کیا ہے؟ آپ ہمیں اپنی آنکھ سے اشارہ فرما دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کو لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت والی ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2683)، (تحفة الأشراف: 3938) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیوں کنکھیوں سے اشارہ کرنا یہ ایسے دنیاداروں کا طریقہ ہے جنہیں اللہ کا خوف نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (4072 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (2683)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥مصعب بن سعد الزهري، أبو زرارة
Newمصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥السدي الكبير، أبو محمد
Newالسدي الكبير ← مصعب بن سعد الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥أسباط بن نصر الهمداني، أبو يوسف، أبو نصر
Newأسباط بن نصر الهمداني ← السدي الكبير
صدوق كثير الخطا يغرب
👤←👥أحمد بن المفضل القرشي، أبو علي
Newأحمد بن المفضل القرشي ← أسباط بن نصر الهمداني
صدوق يخطئ
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← أحمد بن المفضل القرشي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2683
لا ينبغي لنبي أن تكون له خائنة الأعين
سنن أبي داود
4359
لا ينبغي لنبي أن تكون له خائنة الأعين
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4359 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4359
فوائد ومسائل:

اللہ کے رسول اس کے دین اور اسلام سے مرتد ہو جانے والے کی سزا قتل ہے۔


آنکھ سے مخفی اشارہ کرنا آنکھ کی خیانت ہے جو کسی بھی صاحب دین کے لئے روا نہیں اور یہ بہت برا عیب ہے۔


اللہ تعالی کے فضل وعنایت کی کوئی انتہا نہیں، حضرت عبد اللہ بن سعد بن ابو سرح رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی تھے بعدازاسلام کچھ عرصہ کے لئے مرتد بھی ہوگئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا میں ان کے قتل کا حکم بھی دیا تھا، مگر اللہ کی توفیق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سفارش سے فتح مکہ کے دن ان کی توبہ قبول کر لی گئی تھی۔
اور ان کا اسلام بہت عمدہ رہا۔
سیدنا عثمان کے دور میں مصر کے والی رہے۔
افریقہ ذات الصواری اور اساود کے غزوات ان کی اہم مہمات میں سے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4359]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2683
قیدی پر اسلام پیش کئے بغیر اسے قتل کر دینے کا بیان۔
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب کو امان دے دی، انہوں نے ان کا اور ابن ابی السرح کا نام لیا، رہا ابن ابی سرح تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو عثمان نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا، اور کہا: اللہ کے نبی! عبداللہ سے بیعت لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی جانب دیکھا، تین بار ایسا ہی کیا، ہر بار آپ انکار کرتے رہے، تین بار ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2683]
فوائد ومسائل:

چونکہ یہ لوگ جنگی مجرم تھے۔
اور اسلام ہی کی شہرت ہی ان کے لئے اسلام کی دعوت تھی۔
اس لئے ان کے بارے میں حکم تھا۔
کہ جہاں ملیں ان کو قتل کردیا جائے۔
خواہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ ہی کیوں نہ چمٹے ہوئے ہوں۔
اور یہ کئی افراد تھے۔
عکرمہ بن ابی جہل۔
عبد اللہ بن خطل۔
مقیس بن صبابہ۔
عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح۔
(ان کے علاوہ اور بھی کئی لوگ تھے) اور عورتوں میں ابن خطل۔
یا مقیس بن صبابہ کی لونڈیاں قریبہ اور فرتنی۔
(علاوہ ازیں اور بھی عورتوں کے نام آتے ہیں) عبد اللہ بن خطل کو کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا پایا گیا۔
اور وہیں قتل کر دیا گیا۔
مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں جالیا۔
اور قتل ہوا۔
اور عکرمہ بھاگ کرکشتی میں سوار ہوگئے۔
اور قتل ہونے سے بچ گئے۔
پھر بعد میں حاضر خدمت ہوئے اور اسلام لے آئے۔
جو قبول کرلیا گیا۔
اور بڑے مخلص مسلمان ثابت ہوئے۔
عبد اللہ بن ابی سرح کے متعلق آتا ہے۔
یہ ابتداء میں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے۔
مگر مرتد ہوگئے۔
ان پر شدت اور سختی کی وجہ یہی تھی۔
بعد میں انہوں نے بھی دوبارہ اسلام قبول کر لیا گیا تھا۔
عورتوں میں یہ لونڈیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا (مذمت میں شعرپڑھا) کرتی تھیں۔
قریبہ قتل کی گئی۔
جب کہ فرتنی بھاگ نکلی اور بعدمیں اسلام قبول کیا۔


آنکھ سے چھپا اشارہ کرنا آنکھ کی خیانت مجرمانہ ہے۔
جو نبی کے کئے خصوصاً اور مومن کے لئے عموما درست نہیں۔
نیزدیکھئے: (سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3194)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2683]

Sunan Abi Dawud Hadith 4359 in Urdu