یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الحكم فيمن ارتد
باب: مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4358
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:"كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا، پھر شیطان نے اس کو بہکا لیا، اور وہ کافروں سے جا ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اس کے قتل کا حکم دیا، پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان مانگی تو آپ نے اسے امان دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4358]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا، تو شیطان نے اسے بہکا لیا اور وہ کفار سے جا ملا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے، تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے امان طلب کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امان دے دی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المحاربة 12 (4074)، (تحفة الأشراف: 6252) (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یہ عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی تھے، عثمان انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے اور اس کی معافی کے لئے بہت زیادہ شفارش کی تو ان کا قصور معاف ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4074 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (4074 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
4074
| يكتب لرسول الله فأزله الشيطان فلحق بالكفار فأمر به أن يقتل يوم الفتح فاستجار له عثمان بن عفان فأجاره رسول الله |
سنن أبي داود |
4358
| يكتب لرسول الله فأزله الشيطان فلحق بالكفار فأمر به رسول الله أن يقتل يوم الفتح فاستجار له عثمان بن عفان فأجاره رسول الله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4358 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4358
فوائد ومسائل:
1) کوئی مرتد تنفید حد سے پہلے تو بہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہے۔
2) فتنے سے ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہئے، شیطان کے پھندے بے شمار ہیں۔
1) کوئی مرتد تنفید حد سے پہلے تو بہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہے۔
2) فتنے سے ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہئے، شیطان کے پھندے بے شمار ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4358]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4074
مرتد کی توبہ کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سورۃ النحل کی اس آیت: «من كفر باللہ من بعد إيمانه إلا من أكره» ”جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو … ان کے لیے درد ناک عذاب ہے“ (النحل: ۱۰۶) کے بارے میں کہا: یہ منسوخ ہو گئی اور اس سے مستثنیٰ یہ لوگ ہوئے، پھر یہ آیت پڑھی: «ثم إن ربك للذين هاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاهدوا وصبروا إن ربك من بعدها لغفور رحيم» ”پھر جو لوگ فتنے میں پڑ جانے کے بعد ہجرت کر کے آئے، جہاد کی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4074]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سورۃ النحل کی اس آیت: «من كفر باللہ من بعد إيمانه إلا من أكره» ”جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو … ان کے لیے درد ناک عذاب ہے“ (النحل: ۱۰۶) کے بارے میں کہا: یہ منسوخ ہو گئی اور اس سے مستثنیٰ یہ لوگ ہوئے، پھر یہ آیت پڑھی: «ثم إن ربك للذين هاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاهدوا وصبروا إن ربك من بعدها لغفور رحيم» ”پھر جو لوگ فتنے میں پڑ جانے کے بعد ہجرت کر کے آئے، جہاد کی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4074]
اردو حاشہ:
(1) باب سے حدیث شرف کی مطابقت بالکل واضح ہے کہ مرتد کی توبہ بھی قبول ہے۔
(2) آیات و احکام الٰہی کا نسخ شرعاً ثابت ہے اور اس مسئلے کی بابت اہل اسلام کا اجماع ہے کہ دین میں کئی احکام پہلے دئیے گئے، بعد ازاں انہیں منسوخ کر دیا گیا۔ پھر کبھی تو ان سابقہ احکام کی مثل عطا فرمایا گیا اور کبھی ان سے بھی بہتر۔ ارشاد باری ہے: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أونَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا﴾ (البقرة: 2:106) ”جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں، اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں۔“
(3) تشریح و تنسیخ احکام میں محض اللہ عز و جل کی حکمتِ بالغہ کار فرما ہے۔ وہ ہر چیز کو خوب جانتا اور ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ جب، اور جب تک وہ چاہتا ہے کسی چیز کی بابت اسے بجا لانے کا حکم فرماتا ہے اور جس وقت چاہتا ہے اسے ختم فرما دیتا ہے۔ وہ ﴿فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ﴾ ہے۔
(4) یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ اگر کسی کو زبردستی کفر کرنے پر مجبور کر دیا جائے جبکہ اس شخص کا دل ایمان پر مطمئن ہو تو وہ شخص قابل مؤاخذہ نہیں۔
(5) اس سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ جب زبردستی کرائے جانے والے کفر پر گرفت نہیں تو جو …کفریہ اعمال… اس سے کم تر درجے کے ہیں، ان پر بطریق اولیٰ کوئی مؤاخذہ نہیں ہو گا۔ بندوق کے زور پر یا کسی اور طریقے سے زبردستی کی جانے والی طلاق بھی نافذ نہیں ہو گی۔
(6) کسی بھی معاملے میں جائز سفارش، حاکم یا غیر حاکم کے پاس کی جا سکتی ہے جیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عبداللہ بن سعد بن ابو سرح رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سفارش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی۔
(7) حاکم چاہے تو کسی کی جائز سفارش قبول کر لے، چاہے تو رد کر دے اسے اس کا اختیار ہے۔
(8) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عظیم مقام و مرتبہ بھی اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایک بہت بڑے مجرم کی بابت ان کی سفارش قبول فرما لی، حالانکہ قبل ازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قتل کرنے کا حکم صادر فرما چکے تھے اور حرم شریف کے اندر بھی اس کا خون بہانا جائز اور حلال ہو چکا تھا۔ وَ لِلّٰہِ دَرُّہٗ۔
(9) یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمال درجے کے مہربان و شفیق انسان تھے۔ مرتد ہو جانے والے، انتہائی ایذا رساں شخص کو معاف کر دینا، آپ کے رحمۃ للعالمین ہونے کا عجیب مظہر ہے۔ صلی اللہ علیه وسلم- فداہ أبي و أمي و عرضي۔
(10) اس بات پر اتفاق ہے کہ مرتد مرد اور مرتد عورت اگر توبہ کر لیں اور دوبارہ اسلام قبول کر لیں تو ان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یمن بھیجتے وقت ارشاد فرمائی تھی۔ اگر وہ توبہ نہ کریں تو انہیں بے دریغ قتل کر دیا جائے گا، مرد ہو یا عورت۔ احناف عورت کو ارتداد کی سزا میں قتل کرنے کے قائل نہیں مگر ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔
(1) باب سے حدیث شرف کی مطابقت بالکل واضح ہے کہ مرتد کی توبہ بھی قبول ہے۔
(2) آیات و احکام الٰہی کا نسخ شرعاً ثابت ہے اور اس مسئلے کی بابت اہل اسلام کا اجماع ہے کہ دین میں کئی احکام پہلے دئیے گئے، بعد ازاں انہیں منسوخ کر دیا گیا۔ پھر کبھی تو ان سابقہ احکام کی مثل عطا فرمایا گیا اور کبھی ان سے بھی بہتر۔ ارشاد باری ہے: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أونَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا﴾ (البقرة: 2:106) ”جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں، اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں۔“
(3) تشریح و تنسیخ احکام میں محض اللہ عز و جل کی حکمتِ بالغہ کار فرما ہے۔ وہ ہر چیز کو خوب جانتا اور ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ جب، اور جب تک وہ چاہتا ہے کسی چیز کی بابت اسے بجا لانے کا حکم فرماتا ہے اور جس وقت چاہتا ہے اسے ختم فرما دیتا ہے۔ وہ ﴿فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ﴾ ہے۔
(4) یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ اگر کسی کو زبردستی کفر کرنے پر مجبور کر دیا جائے جبکہ اس شخص کا دل ایمان پر مطمئن ہو تو وہ شخص قابل مؤاخذہ نہیں۔
(5) اس سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ جب زبردستی کرائے جانے والے کفر پر گرفت نہیں تو جو …کفریہ اعمال… اس سے کم تر درجے کے ہیں، ان پر بطریق اولیٰ کوئی مؤاخذہ نہیں ہو گا۔ بندوق کے زور پر یا کسی اور طریقے سے زبردستی کی جانے والی طلاق بھی نافذ نہیں ہو گی۔
(6) کسی بھی معاملے میں جائز سفارش، حاکم یا غیر حاکم کے پاس کی جا سکتی ہے جیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عبداللہ بن سعد بن ابو سرح رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سفارش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی۔
(7) حاکم چاہے تو کسی کی جائز سفارش قبول کر لے، چاہے تو رد کر دے اسے اس کا اختیار ہے۔
(8) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عظیم مقام و مرتبہ بھی اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایک بہت بڑے مجرم کی بابت ان کی سفارش قبول فرما لی، حالانکہ قبل ازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قتل کرنے کا حکم صادر فرما چکے تھے اور حرم شریف کے اندر بھی اس کا خون بہانا جائز اور حلال ہو چکا تھا۔ وَ لِلّٰہِ دَرُّہٗ۔
(9) یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمال درجے کے مہربان و شفیق انسان تھے۔ مرتد ہو جانے والے، انتہائی ایذا رساں شخص کو معاف کر دینا، آپ کے رحمۃ للعالمین ہونے کا عجیب مظہر ہے۔ صلی اللہ علیه وسلم- فداہ أبي و أمي و عرضي۔
(10) اس بات پر اتفاق ہے کہ مرتد مرد اور مرتد عورت اگر توبہ کر لیں اور دوبارہ اسلام قبول کر لیں تو ان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یمن بھیجتے وقت ارشاد فرمائی تھی۔ اگر وہ توبہ نہ کریں تو انہیں بے دریغ قتل کر دیا جائے گا، مرد ہو یا عورت۔ احناف عورت کو ارتداد کی سزا میں قتل کرنے کے قائل نہیں مگر ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4074]
Sunan Abi Dawud Hadith 4358 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي