سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب في القطع في العارية إذا جحدت
باب: منگنی (مانگے کی چیز) لے کر کوئی مکر جائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 4395
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ مَخْلَدٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَوْ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ زَادَ فِيهِ: وَأَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: هَلْ مِنَ امْرَأَةٍ تَائِبَةٍ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَتِلْكَ شَاهِدَةٌ، فَلَمْ تَقُمْ وَلَمْ تَتَكَلَّمْ وَرَوَاهُ ابْنُ غَنَجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ فِيهِ فَشَهِدَ عَلَيْهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے چیزیں منگنی (مانگ کر) لے کر مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جویریہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ نے تین بار فرمایا: ”کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرے؟ وہ وہاں موجود تھی لیکن وہ نہ کھڑی ہوئی اور نہ کچھ بولی“۔ اور اسے ابن غنج نے نافع سے، نافع نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے اس کے خلاف گواہی دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4395]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت چیزیں مانگ کر لے جاتی اور پھر مکر جایا کرتی تھی، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو جویریہ نے بواسطہ نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یا صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا سے روایت کیا تو اس میں مزید یوں کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کر لے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی، جبکہ وہ عورت سامنے موجود دیکھ رہی تھی، مگر نہ وہ اٹھی اور نہ وہ بولی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس روایت کو ابن غنج نے بواسطہ نافع، صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، اس میں ہے کہ پھر اس پر شہادت دی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 5 (4902)، (تحفة الأشراف: 7549)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/151) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (4891 وسنده صحيح، 4892)
أخرجه النسائي (4891 وسنده صحيح، 4892)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4395
| أمر النبي بها فقطعت يدها |
سنن النسائى الصغرى |
4892
| تستعير المتاع فتجحده فأمر النبي بقطع يدها |
سنن النسائى الصغرى |
4893
| تستعير متاعا على ألسنة جاراتها وتجحده فأمر رسول الله بقطع يدها |
سنن النسائى الصغرى |
4894
| لتتب هذه المرأة إلى الله ورسوله وترد ما تأخذ على القوم ثم قال رسول الله قم يا بلال فخذ بيدها فاقطعها |
Sunan Abi Dawud Hadith 4395 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← صفية بنت أبي عبيد الثقفية