سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب فِي الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا
باب: دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4402
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ. ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ الْمَعْنَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ هَنَّادٌ الْجَنْبيُّ، قَالَ:" أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ قَدْ فَجَرَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا فَمَرَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَهَا، فَخَلَّى سَبِيلَهَا فَأُخْبِرَ عُمَرُ، قَالَ: ادْعُوا لِي عَلِيًّا فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَبْرَأَ، وَإِنَّ هَذِهِ مَعْتُوهَةُ بَنِي فُلَانٍ لَعَلَّ الَّذِي أَتَاهَا وَهِيَ فِي بَلَائِهَا قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام وَأَنَا لَا أَدْرِي".
ابوظبیان جنی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، علی رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا، تو عمر کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: امیر المؤمنین! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے“ اور یہ تو دیوانی اور پاگل ہے، فلاں قوم کی ہے، ہو سکتا ہے اس کے پاس جو آیا ہو اس حالت میں آیا ہو کہ وہ دیوانگی کی شدت میں مبتلاء رہی ہو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت دیوانی تھی، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ نہیں تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4402]
ابوظبیان الجنبی کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے بدکاری کا ارتکاب کیا تھا، پس انہوں نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گزرے تو انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر ملی تو انہوں نے کہا: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ۔“ وہ آئے اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! آپ یقیناً جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے سے حتیٰ کہ بالغ ہو جائے اور سوئے ہوئے سے حتیٰ کہ جاگ جائے اور مجنون پاگل سے حتیٰ کہ صحت مند ہو جائے۔“ اور یہ عورت بنو فلاں کی ہے اور پاگل ہے، شاید کہ جس نے اس کے ساتھ یہ یہ کیا ہے تو اپنی اسی کیفیت میں تھی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں یہ نہیں جانتا (کہ یہ اسی کیفیت، یعنی پاگل پن میں اس کی مرتکب ہوئی ہے)۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جانتا تو میں بھی نہیں ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10196، 10078) (صحیح)» دون قولہ: «لعل الذی» سے آخر تک ثابت نہیں ہے
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله لعل الذي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطاء بن السائب اختلط
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
إسناده ضعيف
عطاء بن السائب اختلط
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4402
| رفع القلم عن ثلاثة عن الصبي حتى يبلغ عن النائم حتى يستيقظ عن المعتوه حتى يبرأ |
سنن أبي داود |
4403
| رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ عن الصبي حتى يحتلم عن المجنون حتى يعقل |
سنن ابن ماجه |
2042
| يرفع القلم عن الصغير عن المجنون عن النائم |
Sunan Abi Dawud Hadith 4402 in Urdu
الحصين بن جندب المذحجي ← علي بن أبي طالب الهاشمي