🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب في قطع النباش
باب: کفن چور کے ہاتھ کاٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4409
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ يَعْنِي الْقَبْرَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، أَوْ مَا خَارَ لِي اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ، أَوْ قَالَ: تَصْبِرُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ يُقْطَعُ النَّبَّاشُ: لِأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْمَيِّتِ بَيْتَهُ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! میں نے کہا: حاضر ہوں، اور حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب لوگوں کو موت پہنچے گی اور گھر یعنی قبر ایک خادم کے بدلہ میں خریدی جائیگی؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، یا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کو لازم پکڑنا یا فرمایا: اس دن صبر کرنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں: کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت کے گھر میں گھسا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4409]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مطیع و فرمانبردار ہوں! فرمایا: تیرا کیا حال ہوگا جب لوگوں کو موت آئے گی اور ان حالات میں گھر ایک غلام کے بدلے میں ملے گا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تھی: قبر۔ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں، یا کہا: جو اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے پسند فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کرنا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد بن ابوسلیمان نے کہا: کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے، کیونکہ وہ میت کے گھر میں داخل ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4261)، (تحفة الأشراف: 11947) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3958 وسنده حسن) المشعث بن طريف حسن الحديث وثقه ابن حبان وقال صالح بن جزرة: ’’ومشعث جليل، لا يعرف في قضاة خراسان أجل منه‘‘ وانظر الحديث السابق (4261)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥عبد الله بن الصامت الغفاري، أبو النضر
Newعبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥مشعث بن طريف الخراساني
Newمشعث بن طريف الخراساني ← عبد الله بن الصامت الغفاري
ثقة
👤←👥عبد الملك بن حبيب الأسدي، أبو عمران
Newعبد الملك بن حبيب الأسدي ← مشعث بن طريف الخراساني
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← عبد الملك بن حبيب الأسدي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4261
كيف أنت إذا أصاب الناس موت يكون البيت فيه بالوصيف قلت الله ورسوله أعلم أو قال ما خار الله لي ورسوله قال عليك بالصبر كيف أنت إذا رأيت أحجار الزيت قد غرقت بالدم قلت ما خار الله لي ورسوله قال عليك بمن أنت منه قلت يا رسول الله أفلا آخذ سيفي وأضعه على عاتقي قا
سنن أبي داود
4409
كيف أنت إذا أصاب الناس موت يكون البيت فيه بالوصيف قلت الله ورسوله أعلم أو ما خار لي الله ورسوله قال تصبر
سنن ابن ماجه
3958
كيف أنت وموتا يصيب الناس حتى يقوم البيت بالوصيف قلت ما خار الله لي ورسوله أو قال الله ورسوله أعلم قال تصبر كيف أنت وجوعا يصيب الناس حتى تأتي مسجدك فلا تستطيع أن ترجع إلى فراشك ولا تستطيع أن تقوم من فراشك إلى مسجدك قال قلت الله ورسوله أعلم أو ما خار الله ل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4409 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4409
فوائد ومسائل:
1) فی الواقع اب شہری گنجان آبادیوں میں میت کے لئے قبر کا حصول غریب آدمی کے بس سے باہر ہو رہا ہے اور ایام فتن میں یہ مسئلہ اوربھی سنگین ہوجائے گا اور یہ پیش گویاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور رسالت کی دلیل ہیں۔

2) کفن چور کی حد اس کا ہاتھ کاٹنا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کےلیے گھر کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4409]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3958
فتنے کے وقت تحقیق کرنے اور حق پر جمے رہنے کا بیان۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! اس وقت تمہاری کیا حالت ہو گی جس وقت لوگوں پر موت کی وبا آئے گی یہاں تک کہ ایک گھر یعنی قبر کی قیمت ایک غلام کے برابر ہو گی ۱؎، میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں (یا یوں کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تم صبر سے کام لینا، پھر فرمایا: اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ قحط اور بھوک کی مصیبت سے دو چار ہوں گے، حتیٰ کہ تم اپنی مسجد میں آؤ گے، پھر تم میں اپنے بستر تک جانے کی قوت ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3958]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مشکل حالات میں صبر بہترین طرز عمل ہے۔

(2)
قحط اور بھوک کے زمانے میں چوری ڈاکے سے پرہیز کرنا بہت بہادری کا کام ہے۔

(3)
قتل وغارت کے زمانے میں جب عام لوگ حق وباطل کی پہچان چھوڑ کر محض فساد پھیلانے کے لیے حق کی حمایت کا بہانہ بناکر قتل وغارت کرنے لگیں تو تمام فریقوں سے الگ تھلگ رہنا بہتر ہے۔

(4)
عام فساد کے زمانے میں کسی ایک فسادی کو قتل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ غلط فہمیاں دور کرنے اور امن قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

(5)
اس قسم کے حالات میں جب مسلمان باہم دست وگریباں ہوں، سب سے کنارہ کش ہوکر بیٹھنا بہتر ہے اگر اس حالت میں بھی کوئی فسادی ایسے امن پسند شہری کو قتل کردے تو وہ شہید ہے۔

(6)
قبر کی قیمت غلام کے برابر ہوجائے گی کا مطلب ہے اس کثرت سے موتیں ہوں گی کہ دو گز زمین کا ملنا مشکل ہوجائےگا اور قبر کے لیے اتنی سی جگہ ایک گھر کی قیمت کے برابر ہوجائے گی یا قبر کھودنے والے اتنے کمیاب ہوجائیں گے کہ ان کی اجرت ایک گھر کی قیمت کے برابر ہوجائے گی۔
ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کثرت اموات کے باعث گھر رہنے والوں سے خالی ہوجائیں گے اوران کی قیمتیں اتنی گرجائیں گی کہ ایک غلام کی قیمت کے برابر ہوجائیں گی جب کہ عام حالات میں مکان کی قیمت ایک غلام کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3958]

Sunan Abi Dawud Hadith 4409 in Urdu