یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب في الرجم
باب: شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4413
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا سورة النساء آية 15، وَذَكَرَ الرَّجُلَ بَعْدَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ جَمَعَهُمَا، فَقَالَ: وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا سورة النساء آية 16، فَنَسَحَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْجَلْدِ، فَقَالَ: الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ سورة النور آية 2".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا» ”تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے“ (سورۃ النساء: ۱۵) اور مرد کا ذکر عورت کے بعد کیا، پھر ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا فرمایا: «واللذان يأتيانها منكم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما» ”تم میں دونوں جو ایسا کر لیں انہیں ایذا دو اور اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منہ پھیر لو“ (سورۃ النساء: ۱۶)، پھر یہ «جَلْد» والی آیت «الزانية والزاني فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة» ”زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے مارو“ (سورۃ النور: ۲) منسوخ کر دی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4413]
جناب عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ ﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 15] ”تمہاری عورتوں میں سے جو کوئی بدکاری (زنا) کا ارتکاب کریں تو ان پر اپنے میں سے چار گواہ لاؤ، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔“ کے سلسلے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”آیت کریمہ میں مرد کا بیان عورت کے بعد ہے۔ پھر ان دونوں (مرد اور عورت) کو جمع کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا﴾ [سورة النساء: 16] ”اور تم میں سے جو یہ کام کریں تو انہیں ایذا دو، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔“ پھر یہ حکم (سورۃ النور کی) اس آیت سے منسوخ کر دیا گیا جس میں سو کوڑے مارنے کا بیان ہے: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ [سورة النور: 2] ”زانی عورت اور زانی مرد ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔“” [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6267) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4413
| واللذان يأتيانها منكم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما فنسح ذلك بآية الجلد |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4413 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4413
فوائد ومسائل:
ابتدائے اسلام میں زنا کی حد نازل ہونے سے پہلے یہی حکم تھا کہ بدکارعورتوں یا مردوں کو عمومی سزا دی جائے اور عورتوں کو گھروں میں بند رکھا جائے۔
بعد ازاں معروف حد نازل ہوئی۔
اور جن ممالک میں شرعی حدود نہیں ہیں وہاں اس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
ابتدائے اسلام میں زنا کی حد نازل ہونے سے پہلے یہی حکم تھا کہ بدکارعورتوں یا مردوں کو عمومی سزا دی جائے اور عورتوں کو گھروں میں بند رکھا جائے۔
بعد ازاں معروف حد نازل ہوئی۔
اور جن ممالک میں شرعی حدود نہیں ہیں وہاں اس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4413]
Sunan Abi Dawud Hadith 4413 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي