یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب رجم ماعز بن مالك
باب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4435
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صَبِيحٍ، قَالَ عَبْدَةُ: أَخْبَرَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ اللَّجْلَاجِ حَدَّثَهُ، أَنَّ اللَّجْلَاجَ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا يَعْتَمِلُ فِي السُّوقِ فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ تَحْمِلُ صَبِيًّا فَثَارَ النَّاسُ مَعَهَا وَثُرْتُ فِيمَنْ ثَارَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟ فَسَكَتَتْ، فَقَالَ شَابٌّ حَذْوَهَا: أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟ قَالَ الْفَتَى: أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعْضِ مَنْ حَوْلَهُ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحْصَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، قَالَ: فَخَرَجْنَا بِهِ فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا ثُمَّ رَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَنِ الْمَرْجُومِ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: هَذَا جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْخَبِيثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَهُوَ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، فَإِذَا هُوَ أَبُوهُ فَأَعَنَّاهُ عَلَى غُسْلِهِ وَتَكْفِينِهِ وَدَفْنِهِ، وَمَا أَدْرِي؟ قَالَ: وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ أَمْ لَا؟"، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدَةَ وَهُوَ أَتَمُّ.
خالد بن لجلاج کا بیان ہے کہ ان کے والد الجلاج نے انہیں بتایا کہ وہ بیٹھے بازار میں کام کر رہے تھے اتنے میں ایک عورت ایک لڑکے کو لیے گزری تو لوگ اس کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے ان اٹھنے والوں میں میں بھی تھا، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ اس سے پوچھ رہے تھے: ”اس بچہ کا باپ کون ہے؟“ وہ عورت چپ تھی، ایک نوجوان جو اس کے برابر میں تھا بولا: اللہ کے رسول! میں اس کا باپ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: ”اس بچے کا باپ کون ہے؟“ تو نوجوان نے پھر کہا: اللہ کے رسول! میں اس کا باپ ہوں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے کسی کی طرف دیکھا، آپ ان سے اس نوجوان کے متعلق دریافت فرما رہے تھے؟ تو لوگوں نے کہا: ہم تو اسے نیک ہی جانتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا، اس میں ہے کہ ہم اس کو لے کر نکلے اور ایک گڑھے میں اسے گاڑا پھر پتھروں سے اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا، اتنے میں ایک شخص آیا، اور اس رجم کئے گئے شخص کے متعلق پوچھنے لگا، تو اسے لے کر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ہم نے کہا: یہ اس خبیث کے متعلق پوچھ رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“ پھر پتا چلا کہ وہ اس کا باپ تھا ہم نے اس کے غسل اور کفن دفن میں اس کی مدد کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے ”اور اس پر نماز پڑھنے میں بھی (مدد کی) کہا یا نہیں“ یہ عبدہ کی روایت ہے، اور زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4435]
سیدنا لجلاج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ وہ بازار میں بیٹھے کام کر رہے تھے کہ ایک عورت بچے کو اٹھائے گزری، تو لوگ جوش میں اٹھ کھڑے ہوئے اور اٹھنے والوں میں میں بھی اٹھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت سے دریافت فرما رہے تھے: ”یہ جو (بچہ) تیرے ساتھ ہے اس کا باپ کون ہے؟“ تو وہ خاموش رہی۔ ایک جوان جو اس کے ساتھ تھا بولا: ”میں اس کا باپ ہوں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”یہ جو (بچہ) تیرے ساتھ ہے اس کا باپ کون ہے؟“ اس جوان نے کہا: ”میں اس کا باپ ہوں، اے اللہ کے رسول!“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ارد گرد کھڑے لوگوں کی طرف دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اس جوان کے متعلق پوچھ رہے تھے، تو انہوں نے کہا: ”ہم اس کے متعلق اچھا ہی جانتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں،“ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ راوی نے کہا: ہم اسے لے کر نکلے اور اس کے لیے گڑھا کھودا اور اس کو اس میں گاڑ دیا۔ پھر پتھروں سے مارا حتیٰ کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر ایک شخص آیا جو اس سنگسار شدہ کے متعلق پوچھنے لگا۔ ہم اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور ہم نے عرض کیا کہ یہ آدمی آیا ہے اور اس خبیث کے متعلق پوچھتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو اللہ عزوجل کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بڑھ کر پاکیزہ ہے۔“ تب معلوم ہوا کہ وہ آدمی اس کا والد تھا، تو ہم نے اس کی اس سنگسار شدہ کے غسل اور کفن دفن میں مدد کی۔ راوی نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ نماز کا بھی کہا یا نہیں؟ اور یہ روایت عبدہ کی ہے اور کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11171)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/479) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4435
| من أبو هذا معك فسكتت فقال شاب حذوها أنا أبوه يا رسول الله فأقبل عليها فقال من أبو هذا معك قال الفتى أنا أبوه يا رسول الله فنظر رسول الله إلى بعض من حوله يسألهم عنه فقالوا ما علمنا إلا خيرا فقال له النبي |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4435 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4435
فوائد ومسائل:
1) رجم کر نے کے لئے گڑا کھودا جا سکتا ہے۔
2) سنگسار شدہ کو برائی سے یاد کرنا اچھا نہیں ہے۔
1) رجم کر نے کے لئے گڑا کھودا جا سکتا ہے۔
2) سنگسار شدہ کو برائی سے یاد کرنا اچھا نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4435]
Sunan Abi Dawud Hadith 4435 in Urdu
خالد بن اللجلاج العامري ← اللجلاج بن حكيم السلمي