سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب رجم ماعز بن مالك
باب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4437
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ؟ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے آپ سے نام لیا، زنا کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا، اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا تو اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو آپ نے اس مرد پر حد نافذ کی، اسے سو کوڑے لگائے اور عورت کو چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/339، 340)، ویأتی برقم (4466) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4437
| زنى بامرأة فبعث رسول الله إلى المرأة فسألها عن ذلك فأنكرت أن تكون زنت فجلده الحد وتركها |
سنن أبي داود |
4466
| زنى بامرأة سماها له فبعث رسول الله إلى المرأة فسألها عن ذلك فأنكرت أن تكون زنت فجلده الحد وتركها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4437 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4437
فوائد ومسائل:
یعنی اس کو غیرشادی شدہ زانی کی حد (سو کوڑے) لگائی گئی۔
لیکن اگلی روایات میں صراحت ہے کہ یہ معلوم ہونے پر کہ یہ شخص توشادی شدہ ہے، اسے سنگساری کی سزا دی گئی۔
یعنی اس کو غیرشادی شدہ زانی کی حد (سو کوڑے) لگائی گئی۔
لیکن اگلی روایات میں صراحت ہے کہ یہ معلوم ہونے پر کہ یہ شخص توشادی شدہ ہے، اسے سنگساری کی سزا دی گئی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4437]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4466
جب مرد زنا کا اقرار کرے اور عورت انکار کرے تو کیا ہو گا؟
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے انکار کیا، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے، اور عورت کو چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4466]
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے انکار کیا، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے، اور عورت کو چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4466]
فوائد ومسائل:
امام مالک اور امام شافعی رحمتہ اللہ اس حدیث کی روشنی میں کسی معین عورت سے زنا کا اقرار کرنے والے کو حد لگانے کا حکم دیتے ہیں جبکہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ حد قذف کے قائل ہیں۔
امام مالک اور امام شافعی رحمتہ اللہ اس حدیث کی روشنی میں کسی معین عورت سے زنا کا اقرار کرنے والے کو حد لگانے کا حکم دیتے ہیں جبکہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ حد قذف کے قائل ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4466]
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي