🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب اتخاذ المساجد في الدور
باب: گھر اور محلہ میں مساجد بنا نے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِيهِ سَمُرَةَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ، أَمَّا بَعْدُ،" فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِالْمَسَاجِدِ أَنْ نَصْنَعَهَا فِي دِيَارِنَا وَنُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے (سلیمان) کو لکھا: حمد و صلاۃ کے بعد معلوم ہونا چاہیئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھروں اور محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں درست اور پاک و صاف رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 456]
جناب سلیمان بن سمرہ اپنے والد سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ (سمرہ بن جندب) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں کی طرف لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعمیرِ مساجد کا حکم دیا کرتے تھے کہ محلے میں ان کی تعمیر کریں اور ان کی عمارت عمدہ بنائیں اور انہیں پاکیزہ رکھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، مسند احمد (5/17)، (تحفة الأشراف: 4616) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خبيب بن سليمان: مجھول (تقريب: 1700)
وجعفر بن سعد: ضعيف،ضعفه الجمھور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥سليمان بن سمرة الفزاري
Newسليمان بن سمرة الفزاري ← سمرة بن جندب الفزاري
مجهول الحال
👤←👥خبيب بن سليمان الفزاري، أبو سليمان
Newخبيب بن سليمان الفزاري ← سليمان بن سمرة الفزاري
مجهول الحال
👤←👥جعفر بن سعد الفزاري، أبو محمد
Newجعفر بن سعد الفزاري ← خبيب بن سليمان الفزاري
ضعيف الحديث
👤←👥سليمان بن موسى القرشي، أبو داود
Newسليمان بن موسى القرشي ← جعفر بن سعد الفزاري
مقبول
👤←👥يحيى بن حسان البكري، أبو زكريا
Newيحيى بن حسان البكري ← سليمان بن موسى القرشي
ثقة إمام
👤←👥محمد بن داود بن سفيان
Newمحمد بن داود بن سفيان ← يحيى بن حسان البكري
مقبول
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
456
نصنعها في ديارنا ونصلح صنعتها ونطهرها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 456 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 456
456۔ اردو حاشیہ:
➊ ان احادیث میں لفظ «دُور» سے مراد محلے ہیں جو کہ «دار» کی جمع ہے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں آیا ہے: «سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ»   [الأعراف: 145] میں عنقریب تمہیں فاسقوں کے گھر (منازل) دکھاؤں گا۔ اور جس جگہ میں قبیلے کے کئی گھر آباد اور جمع ہوں اسے «دار» کہتے ہیں۔ چنانچہ ایک روایت میں آیا ہے کہ اس حکم کے بعد «مابقيت دار إلا بني فيها مسجد» ہر ہر محلے میں مسجدیں بن گئیں۔ اور ظاہر ہے کہ جماعت کی فضیلت حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لفظ «دُور» کے دوسرے معنی ہر ہر گھر بھی ہو سکتے ہیں۔ یعنی ہر گھر میں نماز کے لیے جگہ خاص ہونی چاہیے اور اسے پاک صاف رکھاجائے تاکہ گھر کے افراد وہاں نماز پڑھ سکیں، مگر محدثین کے ہاں پہلے معنی ہی راجح ہیں۔
➋ مساجد کا ادب یہ ہے کہ ان کی تعمیر غلو سے پاک، خوش منظر، وسیع اور روشن ہو اور اسے ظاہر اور باطن ہر لحاظ سے پاک صاف رکھا جائے۔ بخلاف دیگر مذاہب کے معاہد کے کہ ان میں یہ اہتمام کم ہی ہوتا ہے، مثلا ہندؤں کے مندر وغیرہ۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 456]

Sunan Abi Dawud Hadith 456 in Urdu