🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب فِي السُّرُجِ فِي الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد میں چراغ جلانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 457
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ /a>، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ:" ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ، وَكَانَتِ الْبِلَادُ إِذْ ذَاكَ حَرْبًا، فَإِنْ لَمْ تَأْتُوهُ وَتُصَلُّوا فِيهِ، فَابْعَثُوا بِزَيْتٍ يُسْرَجُ فِي قَنَادِيلِهِ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بیت المقدس کے سلسلے میں ہمیں حکم دیجئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہاں جاؤ اور اس میں نماز پڑھو“، اس زمانے میں ان شہروں میں لڑائی پھیلی ہوئی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم وہاں نہ جا سکو اور نماز نہ پڑھ سکو تو تیل ہی بھیج دو کہ اس کی قندیلوں میں جلایا جا سکے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 457]
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا (میمونہ بنت سعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمیں بیت المقدس کے متعلق ارشاد فرمائیے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں جاؤ، تو وہاں نماز پڑھو۔“ اور اس زمانے میں یہ علاقہ دار الحرب تھا۔ (فرمایا): ”اگر وہاں نہ جا سکو اور نماز نہ پڑھ سکو تو وہاں کے لیے تیل ہی بھیج دو کہ اس کے چراغوں میں ڈالا جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 196 (1407)، (تحفة الأشراف: 18087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/463) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (زیاد اور میمونہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، لیکن ابن ماجہ کی سند میں یہ واسطہ عثمان بن أبی سودة ہے، اس حدیث کی تصحیح بوصیری نے کی ہے، اور نووی نے تحسین کی ہے، البانی نے صحیح أبی داود (68) میں اس کی تصحیح کی ہے، اور اخیر خبر میں نکارت کا ذکر کیا ہے، ناشر نے یہ نوٹ لگایا ہے کہ البانی صاحب نے بعد میں صحیح أبی داود سے ضعیف أبی داود میں منتقل کر دیا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اس پر اپنے فیصلے کو تبدیل کریں، جبکہ آخری حدیث میں ذہبی سے نکارت کی وجہ بیان کر دی ہے، کہ زیتون کا تیل فلسطین میں ہوتا ہے، تو حجاز سے اس کو وہاں بھیجنے کا کیا مطلب، اور یہ کہ یہ تیل نصارے کے لئے وہ بھیجیں کہ وہ صلیب و تمثال پر اس کو جلائیں، یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1407)
زياد بن أبي سودة: رواه عن عثمان بن أبي سودة ولا يعرف لعثمان سماع من ميمونة رضي اللّٰه عنها،انظر المھذب في اختصار السنن الكبير للذھبي (2/ 402 ح 3133) فالسند معلل بالإنقطاع والحديث ضعفه الجمهور وقال الذھبي: ’’وھذا خبر منكر‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ميمونة بنت سعد خادم النبيصحابية
👤←👥زياد بن أبي سودة المقدسي، أبو المنهال، أبو نصر
Newزياد بن أبي سودة المقدسي ← ميمونة بنت سعد خادم النبي
ثقة
👤←👥سعيد بن عبد العزيز التنوخي، أبو محمد، أبو عبد العزيز
Newسعيد بن عبد العزيز التنوخي ← زياد بن أبي سودة المقدسي
ثقة إمام لكنه اختلط في آخر عمره
👤←👥مسكين بن بكير الحراني، أبو عبد الرحمن
Newمسكين بن بكير الحراني ← سعيد بن عبد العزيز التنوخي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن محمد القضاعي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد القضاعي ← مسكين بن بكير الحراني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
457
ائتوه فصلوا فيه إن لم تأتوه وتصلوا فيه فابعثوا بزيت يسرج في قناديله
سنن ابن ماجه
1407
أرض المحشر والمنشر ائتوه فصلوا فيه فإن صلاة فيه كألف صلاة في غيره إن لم أستطع أن أتحمل إليه قال فتهدي له زيتا يسرج فيه فمن فعل ذلك فهو كمن أتاه
Sunan Abi Dawud Hadith 457 in Urdu