یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب لزوم السنة
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4614
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ:" قُلْتُ لِلْحَسَنِ: يَا أَبَا سَعِيدٍ أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ أَلِلسَّمَاءِ خُلِقَ أَمْ لِلْأَرْضِ؟ قَالَ: لَا بَلْ لِلْأَرْضِ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ لَوِ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ {162} إِلا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ {163} سورة الصافات آية 162-163، قَالَ: إِنَّ الشَّيَاطِينَ لَا يَفْتِنُونَ بِضَلَالَتِهِمْ إِلَّا مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَحِيمَ".
خالد الحذاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے کہا: اے ابوسعید! آدم کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے؟ آپ نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ نافرمانی سے بچ جاتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا: یہ ان کے بس میں نہ تھا، میں نے کہا: مجھے اللہ کے فرمان «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» ”شیاطین تم میں سے کسی کو اس کے راستے سے گمراہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہو“ (الصافات: ۱۶۳) کے بارے میں بتائیے، انہوں نے کہا: ”شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کر دی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4614]
جناب خالد الحذاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب حسن بصری رحمہ اللہ سے کہا: ”ابو سعید! مجھے یہ بتائیں کہ سیدنا آدم علیہ السلام آسمان کے لیے پیدا کیے گئے تھے یا زمین کے لیے؟“ انہوں نے کہا: ”زمین کے لیے۔“ میں نے کہا: ”کیا خیال ہے اگر وہ گناہ سے بچ جاتے اور درخت سے نہ کھاتے تو؟“ انہوں نے کہا: ”یہ ان کے لیے ممکن ہی نہ تھا (کیونکہ یہ مقدر تھا۔)“ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مفہوم ہے (جو جنات اور شیاطین کے متعلق فرمایا): ﴿مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ﴾ [سورة الصافات: 162-163] ”تم کسی کو اللہ کی طرف سے نہیں پھیر (بہکا) سکتے ہو، مگر اسے ہی جو جہنم میں پڑنے والا ہو۔“ انہوں نے کہا کہ ”شیاطین اپنی گمراہی سے صرف انہی کو گمراہ کرتے ہیں جن پر اللہ نے جہنم میں گرنا واجب کیا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18517، 18518) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله خالد الحذاء ← الحسن البصري | ثقة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← خالد الحذاء | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥عبد الله بن الجراح التميمي، أبو محمد عبد الله بن الجراح التميمي ← حماد بن زيد الأزدي | صدوق حسن الحديث |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4614 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4614
فوائد ومسائل:
1۔
انکار تقدیر کا فتنہ سب سے پہلے بصرے میں شروع ہوا تھا اور حضرت حسن بصریؒ معروف تابعی ہیں، ان کے متعلق لوگوں کو شبہ ہوا کہ شاید وہ بھی تقدیر کے انکاری ہیں۔
مگر ایسی کوئی بات نہ تھی۔
امام ابو داؤد نے اگلی روایات میں ان پر سے اسی تہمت کا رد کیا ہے کہ وہ تقدیر پر پوری طرح ایمان رکھتے تھے۔
2۔
جہنم میں جانا واجب اس طرح کہ اللہ کو پہلے سے علم ہے کہ جہنم میں کس کو جانا ہے۔
اس یقینی علم کو وجوب کہا گیا ہے۔
1۔
انکار تقدیر کا فتنہ سب سے پہلے بصرے میں شروع ہوا تھا اور حضرت حسن بصریؒ معروف تابعی ہیں، ان کے متعلق لوگوں کو شبہ ہوا کہ شاید وہ بھی تقدیر کے انکاری ہیں۔
مگر ایسی کوئی بات نہ تھی۔
امام ابو داؤد نے اگلی روایات میں ان پر سے اسی تہمت کا رد کیا ہے کہ وہ تقدیر پر پوری طرح ایمان رکھتے تھے۔
2۔
جہنم میں جانا واجب اس طرح کہ اللہ کو پہلے سے علم ہے کہ جہنم میں کس کو جانا ہے۔
اس یقینی علم کو وجوب کہا گیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4614]
Sunan Abi Dawud Hadith 4614 in Urdu
خالد الحذاء ← الحسن البصري