🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب لزوم السنة
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4613
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک شامی دوست تھا جو ان سے خط و کتابت رکھتا تھا، تو عبداللہ بن عمر نے اسے لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے تقدیر کے سلسلے میں (سلف کے قول کے خلاف) کوئی بات کہی ہے، لہٰذا اب تم مجھ سے خط و کتابت نہ رکھنا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4613]
جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ شام میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست تھا، جس کی ان سے خط کتابت رہتی تھی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو لکھا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تو نے تقدیر کے بارے میں کوئی باتیں کی ہیں۔ (تو تقدیر کو جھٹلاتا ہے) لہٰذا آئندہ کے لیے مجھے کوئی خط نہ لکھنا۔ بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: تحقیق میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہذا المتن أبوداود، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القدر 16 (2152)، سنن ابن ماجہ/الفتن 29 (4061)، بسیاق نحوہ ولفظہ: ''في ہذہ الأمة خسف ومسخ أو قذف في أہل القدر'' (تحفة الأشراف: 7651)، و مسند احمد (2/108، 136) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (106، 116)
أخرجه الترمذي (2152 وسنده حسن) وابن ماجه (4061 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥حميد بن أبي المخارق المدني، أبو صخر، أبو مودود
Newحميد بن أبي المخارق المدني ← نافع مولى ابن عمر
صدوق حسن الحديث
👤←👥سعيد بن مقلاص الخزاعي، أبو يحيى
Newسعيد بن مقلاص الخزاعي ← حميد بن أبي المخارق المدني
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن يزيد العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد العدوي ← سعيد بن مقلاص الخزاعي
ثقة
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← عبد الله بن يزيد العدوي
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4613
سيكون في أمتي أقوام يكذبون بالقدر
سنن أبي داود
4691
القدرية مجوس هذه الأمة إن مرضوا فلا تعودوهم إن ماتوا فلا تشهدوهم
المعجم الصغير للطبراني
49
يكون في آخر الزمن قوم يكذبون بالقدر أولئك مجوس هذه الأمة إن مرضوا فلا تعودوهم إن ماتوا فلا تشهدوهم
مشكوة المصابيح
107
القدرية مجوس هذه الامة إن مرضوا فلا تعودوهم وإن ماتوا فلا تشهدوهم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4613 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4613
فوائد ومسائل:
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا یہ مقاطعہ (اعلان لاتعلقی) بغض فی اللہ کا اظہار تھا اور بلاشبہ اہل ایمان کی دوستی اور ناراضی اور اس کے دین کے ساتھ وابستہ رہنے کی بنیاد ہی پر ہوتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4613]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 107
منکرین تقدیر کا عبرت ناک انجام
«. . . ‏‏‏‏وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تشهدوهم» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد . . .»
. . . اور انہی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قدریہ (یعنی منکرین تقدیر) اس امت کے مجوسی ہیں اگر یہ بیمار ہوں تو ان کی بیمار پرسی نہ کرو اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں نہ شریک ہو۔ اس حدیث کو احمد، داؤد نے روایت کیا ہے۔ (یعنی یہ تو کافر ہیں یا فاسق ہیں ان سے ترک موالات کرنا ضروری ہے۔ مجوس آگ پوجنے والے کو کہتے ہیں یہ کافر ہیں۔) . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 107]
تخریج:
[سنن ابوداود 4691]

تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ (لیکن حدیث صحیح ہے۔)
اسے حاکم [85/1] اور دوسرے محدثین نے بھی بیان کیا ہے، لیکن اس کی سند منقطع ہے۔
ابوحازم سلمہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نہیں سنا۔ دیکھئے: تہذیب الکمال [431/7]
◈ (عبدالعزیز) ابن ابی حازم نے کہا:
«من حدّثك أن أبى سمع من أحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم غير سهل بن سعد فقد كذب»
جو شخص تجھے بتائے کہ میرے والد نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے سنا ہے تو اس نے جھوٹ کہا۔ [تاريخ ابي زرعه الدمشقي: 1089 وسنده صحيح]
◈ المعجم الاوسط للطبرانی [114/5 ح 4217] میں اس کا ایک صحیح شاہد ہے۔
◈ حمید الطویل کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کے لئے دیکھئے: [اضواء المصابيح صفحه 318]
◈ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قدریوں کے بارے میں فرمایا:
«أولٰئك مجوس هٰذه الأمة»
وہ اس امت کے مجوسی ہیں۔ [السنة لعبدالله بن أحمد: 958 وسنده حسن]
◈ امام بیہقی نے کتاب القدر [ح410] میں اس مفہوم کی روایت «سفيان (الثوري) عن عمر بن محمد عن نافع عن ابن عمر» کی سند سے بیان کر کے کہا: «هٰذا إسناد صحيح إلا أنه موقوف» !
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 107]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4691
تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قدریہ (منکرین تقدیر) اس امت (محمدیہ) کے مجوس ہیں، اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک مت ہو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4691]
فوائد ومسائل:
1: مجوسی دوالہوں کے قائل ہیں، ایک خالق خیر سے وہ یزواں کہتے ہیں اور دوسرا خالق شر جسے وہ اہرمن کا نام دیتے ہیں، اسی طرح تقدیر کے منکر خیرکو اللہ کی اور شر کو غیر اللہ کی خلق سمجھتے ہیں، حالانکہ خلق اور ایجاد میں اللہ عزوجل کا کوئی شریک وسہیم نہیں ہے، نہ کوئی اس پر غالب ہے، اس نے اپنی حکمت کے تحت شر اور شیطان کو پیدا کیا ہے اور انسان اللہ عزوجل کی مشیت اور ارادے کے معنی ہمیشہ رضامندی الگ الگ دوچیزیں ہیں۔
جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ یقینامشیت الہی ہی سے ہوتا ہے، اس کے بغیر اچھا یا برا کوئی کام بھی نہیں ہوتا، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اللہ تعالی کا پسندیدہ بھی ہو۔
اللہ تعالی کو تو صرف وہی کام پسند ہیں جن کے کرنے کااس نے حکم دیا ہے۔
باقی کام ناپسندیدہ ہیں گو ہوتے وہ بھی اس کی مشیت ہی سے ہیں۔

2: اسلامی معاشرے میں شرعی اقدار کا تحفظ کرنے کےلئے ضروری ہے کہ ملحد اور بد عقیدہ کوگوں سے مقاطعہ کیا جائے تاکہ صاحب ایمان کی غیرت کا اظہار ہو اور انہیں مومنین سے جدا ہونے کا احساس رہے، مگر اہل علم پر لازم ہے کہ ان کے سامنے حق کا اظہار اور ان غلطیوں کی نشاندہی کریں۔

3: بعض حضرات نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4691]

Sunan Abi Dawud Hadith 4613 in Urdu